BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 August, 2004, 17:23 GMT 22:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کلوننگ پر تحقیق کی اجازت
News image
برطانیہ میں سائنسدانوں کو طبی مقاصد کے لیے انسانی کلوننگ پر تحقیق کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ اس طریقے کے ذریعےذیابیطس ، پارکنسن اور الزائمر جیسی بیماریوں کا کامیابی سے علاج کیا جا سکے۔

برطانوی حکومت کے ایک ادارے کی طرف سے طبی مقاصد کے لیے انسانی کلوننگ پر تحقیق کی اجازت کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محدود اجازت انسانی کلوننگ کی تحقیق میں ایک اہم موڑ ثابت ہو گا۔

برطانیہ کی ہیومن فرٹلائیزیشن اینڈ ایمبریولوجی اتھارٹی نے یونیورسٹی آف نیو کیسل کو اجازت دی ہے کہ وہ انسانی کلوننگ پر محدود تحقیق کر سکتے ہیں۔

یونیورسٹی کے یہ سائنسدان ذیابیطس، پارکنسن اور الزائمر جیسی بیماریوں پر تحقیق کر رہے ہیں ۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یورپ میں انسانی کلوننگ پر تحقیق کی اجازت پہلی دفعہ دی گئی ہے ۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس اجازت کا فائدہ مریضوں کو پانچ سال کے بعد ملنا شروع ہو سکے گا۔

کلوننگ کی مخالف ’ پرو لائف پارٹی‘ نے کہا ہے کہ وہ کلوننگ کی محدود اجازت کے فیصلے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا سوچ رہی ہے۔

کلوننگ کے جس طریقے کو طبی مقاصد کے لیے استعمال کی اجازت دی گئی ہے اسی طریقے سے انسانی افزائش بھی کی جا سکتی ہے۔

انسانی کلوننگ پر پابندی کا معاملہ تین برس قبل اقوام متحدہ میں زیرِ غور رہ چکا ہے۔

گزشتہ برس دنیا بھر سے تقریباً ساٹھ سائنسی اکیڈمیوں نے ’ریپروڈ کٹیو کلوننگ‘ پر ممانعت کی اپیل کی تھی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ محققین کو تجربات کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد