کلوننگ سے تیس انسانی جنین تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی کوریا میں سائنسدانوں نے کلوننگ کے ذریعہ تیس انسانی جنین بنائے ہیں جن کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ ایک دن انہیں امراض کے علاج کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔ سیول نیشنل یونیورسیٹی کے ووسک ہوانگ اور ان کے رفقاء نے عام انسانی خلیے سے جینیاتی مادہ حاصل کرنے کے بعد اسے بیضوں انڈوں میں منتقل کر دیا۔ اس طرح وجود میں آنے والے انسانی جنین کو بعد میں کلچر کرکے ’سٹم سیل‘ یا مخصوص قسم کے خلیوں میں بدل دیا۔ سٹم سیل خلیہ کی وہ بنیادی قسم ہے جس سے جسم کا کوئی بھی خیال بنایا جا سکتا ہے۔ خیال ہے کہ ان خلیوں کو ذیابیطس اور الزہمیر کے مریضوں کے جسم میں داخل کرکے نئی بافتیں بنائی جا سکیں گی۔ اس طرح ان مریضوں کے جسم میں مرنے والے خلیے کی جگہ نئے خلیے پیدا ہو سکیں گے جو عام طریقے سے اپنے حیاتیاتی افعال انجام دیں گے۔ ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس طریقہ سے طب کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوگا۔ اس نئی تحقیق پر جمعرات کے روز امریکہ میں ایک طبی کانفرنس کے دوران بحث کی جائے گی۔ خیال ہے کہ اسی طرح کی تحقیق کچھ عرصہ قبل چین میں بھی کی گئی ہے تاہم اس نئی تحقیق کے بارے میں خیال ہے کہ یہ اپنی پیشروؤں سے کہیں آگے نکل گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||