انسانی کلوننگ پر پابندی کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی کوریا کے سائنسداں ’سٹم سیلز‘ حاصل کرنے کے لئے کلوننگ کے ذریعے انسانی جنین بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اب یہی سائنسداں مطالبہ کر رہے ہیں کہ کلوننگ کے ذریعے انسانی بچے تخلیق کرنے پر عالمی سطح پر پابندی عائد کی جائے۔ ووسک ہوانگ نے، جو اس سائنسی تحقیق کے سربراہ تھے، سیاٹل میں ایک سائنسی کنونشن سے خطاب کے دوران کلوننگ کے ذریعے انسانی بچے تخلیق کرنے کے عمل کو واضح طور پر غلط قدم قرار دیا ہے اور کہا کہ اس پر قانونی طور پر پابندی عائد کرنی چاہئے۔ انسانی جنین کی مدد سے حاصل ہونے والے سٹیم سیلز کو جسم کے کسی حصے کے خلیوں کی شکل میں نمو دی جا سکتی ہے اور اس طرح یہ خلیے متعدد بیماریوں کے علاج میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ جنوبی کوریا کے یہ سائنسدان جدید دور کے ان معروف سائنسدانوں کے ہم خیال ہیں جنہوں نے کلوننگ کے ذریعے انسان تخلیق کرنے پر عالمی سطح پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انسانی کلوننگ پر پابندی کا معاملہ تین برس قبل اقوام متحدہ میں زیرِ غور رہ چکا ہے۔ گزشتہ برس دنیا بھر سے تقریباً ساٹھ سائنسی اکیڈمیوں نے ’ریپروڈ کٹیو کلوننگ‘ پر ممانعت کی اپیل کی تھی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ محققین کو تجربات کرنے کی آزادی ہونی چاہئے جو اب جنوبی کوریا کے سائنسدانوں نے کر دکھایا ہے۔ جنوبی کوریا میں سائنسدانوں نے کلوننگ کے ذریعہ تیس انسانی جنین بنائے ہیں جن کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ ایک دن انہیں امراض کے علاج کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔ سیول نیشنل یونیورسیٹی کے ووسک ہوانگ اور ان کے رفقاء نے عام انسانی خلیے سے جینیاتی مادہ حاصل کرنے کے بعد اسے بیضوں انڈوں میں منتقل کر دیا۔
اس طرح وجود میں آنے والے انسانی جنین کو بعد میں کلچر کرکے ’سٹم سیل‘ یا مخصوص قسم کے خلیوں میں بدل دیا۔ سٹم سیل خلیہ کی وہ بنیادی قسم ہے جس سے جسم کا کوئی بھی خیال بنایا جا سکتا ہے۔ خیال ہے کہ ان خلیوں کو ذیابیطس اور الزائمر کے مریضوں کے جسم میں داخل کرکے نئی بافتیں بنائی جا سکیں گی۔ اس طرح ان مریضوں کے جسم میں مرنے والے خلیے کی جگہ نئے خلیے پیدا ہو سکیں گے جو عام طریقے سے اپنے حیاتیاتی افعال انجام دیں گے۔ ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس طریقہ سے طب کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوگا۔ خیال ہے کہ اسی طرح کی تحقیق کچھ عرصہ قبل چین میں بھی کی گئی ہے تاہم اس نئی تحقیق کے بارے میں خیال ہے کہ یہ اپنی پیشروؤں سے کہیں آگے نکل گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||