| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم سا ہو تو سامنے آئے
جب سے ڈولی میری زندگی میں آئی اس نے سب کچھ بدل ہی دیا۔ بارہا سوچتا ہوں کہ ’ڈولی‘ چاہتی کیا تھی۔ تاہم کبھی اس سے براہِ راست یہ سوال نہیں کیا کیونکہ وہ میرے ساتھ نہیں کہیں اور رہتی تھی۔ کنٹرولڈ ماحول میں۔ بیچاری۔ غلط نہ سمجھیئے۔ ڈولی میری کوئی محبوبہ نہیں، کلون کی گئی ایک بھیڑ کا نام ہے۔ اسے جینیاتی خلیوں میں تبدیلی کر کے بنایا گیا تھا۔ لیکن اس ڈولی کی وجہ سے میں اپنے متعلق بھی سوچ میں پڑ جاتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ میرے جیسا کوئی اور ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک لمحے کے لئے ذرا غور کیجیئے کہ اگر ایسا ہو تو پھر۔ اگر ہو جائے تو میرے پاس تو اس کے لئے ہمدردی کے چند الفاظ ہی ہیں۔ سیانے کہیں گے کہ اگر تین بھی ہوتے تو پھر کیا کر لیتے۔ اب شاید اولڈ میکڈونلڈ کا فارم بھی اس طرح نہ رہے جس طرح وہ ہمیشہ سے دکھائی دیتا ہے۔ اس میں جدت اور سائنس کی ہوا نئی تبدیلیاں لا رہی ہے اور ان تبدیلیوں میں سب سے بڑی تبدیلی کلوننگ ہے۔ جانور ہمیشہ سے ایک سے نظر آتے رہے ہیں اور شاید اب بھی ایک سے نظر آیا کریں لیکن ہر جانور عادات اور جنیاتی صفات کی وجہ سے دوسرے سے مختلف ہوتا تھا اب شاید ایک سا ہوا کرے۔ ایک سی صحت اور ایک سی بیماریاں۔ کلوننگ ایک ایسا موضوع ہے جو مجھے ہمیشہ سے دلچسپ اور ڈراؤنا لگتا ہے۔ ایک طرح کے زندہ جاندار قطار اندر قطار جنہیں انسان اپنی کوشش سے کسی بھی خلیے سے پیدا کر لیتے ہیں۔ حال ہی میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمینسٹریشن کے ادارے ایف ڈی اے نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا تھا کہ کلون کیے گئے جانوروں سے حاصل کیا گیا گوشت اور خوراک انسانوں کے لئے مضر نہیں ہے اور یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح عام جانوروں کا گوشت اور دودھ۔ کل یعنی چار نومبر کو امریکہ میں ویٹرینری میڈیسن ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں بھی یہی دوہرایا گیا کہ نارمل اور صحت مند کلون کیے گئے جانوروں سے حاصل کی گئی خوراک کھانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ میں یہ سمجھتا ہوں یہ ہم جیسے گوشت خوروں کے لیئے، جنہیں میرا دوست عاطف میر میٹ ایٹر کی بجائے میٹر کہتا ہے، ایک بہت اچھی خبر ہے۔
اب ہم آسانی سے لاہور کی گوالمنڈی والے استاد سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس طرح کی ہی چانپ دے جس طرح کی اس نے پچھلے مہینے پپو کی سالگرہ پر کھلائی تھی۔ یا پھر ہیرا منڈی میں پھجے سے بھی خوبصورت اور دلکش پیروں میرا مطلب ہے پائیوں کی فرمائش کی جا سکتی ہے جن کے ہم اس وقت سے عاشق ہیں جب سے ہم نے سنِ بلوغت میں قدم رکھا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کے دو فائدے ہوں گے۔ مزہ بھی آئے گا اور ٹھرک بھی پورا ہو جائے گا۔ اس کے اور بھی فائدے ہیں اور سب سے بڑا تو یہ کہ بیماریاں بھی ایک سی لگیں گی۔ ذرا سوچیئے سارے کا سارا لاہور یا کم از کم گوشت خور لاہور (اس کے علاوہ مجھے کوئی ڈھونڈ کر دکھا دیں) دل کی بیماری میں مبتلا، یا سب کو بلڈ پریشر یا ہائی کولیسٹرول۔ آپ پوچھیں گے کہ یہ کوئی فائدے کی بات ہے۔ تو جناب یہ ہے۔ ہمیں ایک ہی طرح کے ہسپتال بنانے پڑیں گے اور کئی چھوٹے موٹے ہسپتالوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ اب رحمت اللہ اور گنگا رام دل سے ایک ہو جائیں گے۔ پیار بڑھے گا، یکسانیت ہو گی۔ کلوننگ کرنے والوں کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ سب برابر ہو جائیں اور ایک سکون یا ہارمونی رہے۔ بس یہاں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ امریکہ میں کلون کیے گئے بکرے کی قیمت تقریباً اسی ہزار ڈالر ہے یا اس پر اتنا خرچہ آتا ہے اور ’سادہ‘ بکرا ایک ہزار ڈالر کا ہے۔ ویسے ڈولی پر بھی تقریباً پچہتر ہزار ڈالر خرچہ آیا تھا۔ اب اگر گوشت خور پاکستانیوں کو گوشت کھلانا ہے تو مشرف حکومت کو ان کا میعار زندگی ذرا بلند کرنا پڑے گا۔ آج کل کی فی کس آمدنی جو اوسطً دو ہزار روپے ماہوار ہے بڑھ کر دو لاکھ روپے ہو جانی چاہیئے تاکہ بیچارے گوشت خور مسلمان مہینے میں دو تین مرتبہ گوشت تو کھا سکیں۔
ورنہ مجبوراً ہم سب ’وہ‘ بن جائیں گے جو گوشت نہیں کھاتے۔ ویسے میری بیوی بھی کچھ کچھ ’وہ‘ ہی ہے۔ تو پس ثابت ہوا کہ کلوننگ سے ہی ہمارا معیارِ زندگی بلند ہو سکتا ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ میں نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ کلوننگ ہے کیا؟ تو لیجیئے علم حاصل کیجیئے۔ کلوننگ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پہلا تجربہ 1952 میں ہوا تھا۔ اور وہ ٹیڈپول یعنی مینڈک کے بچے پر تھا۔ ڈولی کا تجربہ اس لئے مختلف تھا کہ یہ ایک ایڈلٹ یعنی بڑے خلیے پر کیا گیا۔ اس تیکنیک کو ایس سی این ٹی یعنی سومیٹک سیل نیوکلیئر ٹرانسفر کہتے ہیں۔ اس میں ایک جانور کے خلیوں سے جینیاتی انفارمیشن لی جاتی ہے اور اسے دوسرے جانور کے، جس کے خلیوں سے نیوکلیس نکالا گیا ہوتا ہے ‘ ایگ یعنی انڈے میں ڈال دیا جاتا ہے۔اور اس ایمبریو کو ایک سروگیٹ ماں میں ڈال دیا جاتا ہے جو کلونڈ بچے کو جنم دیتی ہے۔ اور ڈولی کا نام امریکی کنٹری اور ویسٹرن سنگر ڈولی پارٹن کے نام پر رکھا گیا تھا کیونکہ یہ ڈولی (بھیڑ) چھاتی کے خلیے سے بنائی گئی تھی اور ڈولی پارٹن کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔ ڈولی چھ برس زندہ رہنے کے بعد ویلینٹائنز ڈے پر مر گئی تھی۔ کلوننگ کی کامیابی کو سامنے رکھتے ہوئے سائنسدانوں نے کہا تھا کہ سن 2007 تک انسان کے کلون بننے شروع ہو جائیں گے لیکن ہمیں 2003 میں ہی بتایا گیا کہ کلونڈ انسان بنا لیا گیا ہے۔ یہ ہوتا ہے بریو نیو ورلڈ۔ آلڈس ہکسلے یاد آ رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||