BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 October, 2003, 18:40 GMT 23:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مانع حمل پر عمل

مردانہ جرثومے
مادۂ منویہ کے ایک اخراج میں بیس کروڑ جرثومے ہوتے ہیں۔

گزشتہ دنوں بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے اپنے قارئین سے ایک سوال کیا تھا۔ جی، جی مجھے غلط نہ سمجھیئے ہم نے آپ سے کچھ نہیں مانگا تھا سوائے آپ کی رائے کے۔

وہ سوال تھا ’کیا آپ مانع حمل ٹیکہ لگوائیں گے‘۔ حقیقت میں اس ٹیکے کی سوئی کا رخ مرد حضرات کی طرف تھا لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ خواتین کی طرف سے بھی کافی جواب موصول ہوئے۔ حقیقت میں حق بھی زیادہ ان کا ہی بنتا ہے۔ میں یہ، لیڈیز فرسٹ کے اصول کے تحت نہیں کہہ رہا بلکہ حمل کے اس سارے عمل سے جتنا تعلق اور حق ان کا ہے اتنا دوسری پارٹی یعنی ’مرد‘ حضرات کا نہیں ہے۔ شروع میں تو وہ نو مہینے اور بعد میں ساری عمر اسے بھگتتی ہیں اور مرد ہے کہ دونوں طرح کے بھگتنے کے درد سے شائد ہی کبھی آشنا ہوتا ہو یا اس کے بارے میں سوچتا ہو۔

اس سوال کا پس منظر بھی بتاتا چلوں۔ قصہ یوں ہے کہ آسٹریلیا کے ڈاکٹروں نے مردوں کے لیے بھی ایک مانع حمل ٹیکہ ایجاد کیا ہے جو ان کے بقول جب مردوں کو لگایا جاتا ہے تو انکے ہاں اولاد نہیں ہوتی مگر جب بھی اس کا استعمال ترک کر دیں تو بچے پیدا کرنے کی صلاحیت دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے۔ صاف اور سادہ۔

ہمیں جو جوابات موصول ہوئے وہ قارئین کی رائے کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مرد حضرات نے اسے سراہا بھی اور کافروں کی سازش بھی قرار دیا۔ عورتوں نے مردوں کو ٹیکہ لگوانے کی بات بھی کی اور خدشات کا بھی اظہار کیا۔

میں صرف ایک خدشے کا ذکر کروں گا جو کہ میری نظر میں سب سے اہم ہے۔ عورتیں کہتی ہیں کہ ہمیں کیسے یقین آئے گا کہ مرد نے ٹیکہ لگوایا بھی ہے کہ نہیں۔ بعد میں پتا تو ہمیں ہی چلے گا۔ اس لیئے ہم بھی اپنا انتظام کر کے رکھیں گے۔ میرا خیال ہے کہ آسٹریلوی سائنسدانوں کی تحقیق کا سب سے فائدہ مند پہلو بھی یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچاؤ کی کوئی ترکیب نکلے۔

اس کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ دنیا خصوصاً ایشیا کی آبادی دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں مقیم پاپولیشن ریفرنس بیورو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2050 میں بھارت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا اور اس کی آبادی 1628 ملین ہو جائے گی، دوسرے نمبر پر 1394 ملین کے ساتھ چین ہو گا۔ پاکستان کی آبادی اس وقت موجودہ 149 ملین سے بڑھ کر 349 ملین ہو گئی ہو گی۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق اس وقت ملک کی آبادی 142 ملین ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر منٹ میں چھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح اب یہ کام سالوں میں نہیں بلکہ منٹوں میں ہونے لگا ہے۔ اس لیئے ہمیں بھی اب سیکنڈوں میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

حمل کی روک تھام کا عمل نیا نہیں ہے۔ لوگ صدیوں سے کوئی نہ کوئی طریقہ استعمال کرتے آئے ہیں۔ کینیڈا کے شہر ٹورانٹو کے قریب تو ایک ہسٹری آف کونٹراسیپشن میوزیم بھی ہے جہاں چھ سو سے زائد چیزیں ایسی رکھی گئی ہیں جو اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کی تاریخ بیان کرتی ہیں۔

مشہور افسانوی کردار کیسانوا کے متعلق تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ لینن کے کپڑے کو دونوں طرف سے سی کر ہی کونڈوم بنا لیا کرتا تھا۔ سو کسی نہ کسی طرح ہمیشہ مانع حمل طریقوں کو استعمال میں لایا جاتا رہا ہے۔ لیکن سائنس کی اتنی ترقی کہ باوجود اس سلسلے مردوں کے ساتھ ایک تعصب ضرور رہا ہے اور یہ عورتوں کو ہمیشہ ترجیح دیتی رہی ہے۔ جس پر مجھے ایک آزاد مرد ہونے کے ناطے اعتراض بھی ہے۔

مانع حمل طریقوں کو ہی لے لیجیئے۔ عورتوں کے لیئے درجنوں طریقے ہیں اور مردوں کے لیئے صرف تین۔ تھوڑی سی تفصیل یہ ہے۔ مردوں کے لئے ودڈراول، کونڈوم، اور ویسیکٹومی اور عورتوں کے لئے: ڈایافرام، سپونج، آئی یو ڈی، پلز، سیرویکل کیپ، مارننگ آفٹر پلز، نورپلانٹ، ڈیپو پروویرا، اویولیشن ڈیٹیکٹر، فیمیل کونڈومز، فوم، جیلیز، سپوزیٹریز، سٹیریلائزیشن اور بہت سے دوسرے۔

میں نے ان سب کا نام انگریزی میں لکھا ہے کہ کم سے کم ہم مرد حضرات یہ تو کہہ سکیں کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں چلا کہ یہ کیا ہیں۔ اور لاعلمی میں تو خون بھی معاف ہو جاتا ہے۔

اب ذرا ان مردوں کے مانع حمل طریقۂ کار کی افادیت پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔ ودڈراول کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ اتنا موثر نہیں ہے، کونڈوم کے افادیت سے زیادہ نفسیاتی مسائل بتائے جاتے ہیں اور ویسیکٹومی کے بعد تو زیادہ تر واپس اصل حالت میں آیا ہی نہیں جا سکتا۔

اس کے علاوہ پاکستان کے کئی ہسپتال تو ویسیکٹومی کروانے والی عورتوں کو سو کے قریب روپئے بھی دیتے تھے تاکہ وہ جوس شوس پیئیں۔ لیکن بچارے مردوں کو کیا ملتا ہے۔ دوستوں کی پھبتیاں اور فقرے۔

تو جب میں کہتا ہوں کہ مردوں کے خلاف سائنسدانوں کا ایک تعصب ہے تو کیا غلط کہتا ہوں۔

بہت سے ایسے لوگ ہونگے جو یہ تو چاہتے ہوں گے کہ کوئی مانع حمل طریقۂ کار استعمال کریں لیکن ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ ٹیکہ ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ ٹیکے کا شاید کونڈوم سے بھی زیادہ نفسیاتی مسئلہ ہے۔ میں آج ان حضرات کو ایک راز بتاتا ہوں اور وہ راز یہ ہے کہ میں روزانہ چار ٹیکے لگاتا ہوں۔ نہیں، نہیں مانع حمل کے نہیں ذیابیطس کے۔ آج سے آٹھ سال پہلے میں جب ٹیکہ دیکھتا تھا تو مجھے واقعی ری ایکشن ہو جاتا تھا، صرف دیکھنے سے اور وہ کوئی ڈرامہ نہیں تھا بالکل حقیقت میں۔ لیکن اب روزانہ چار۔ تین صبح، دوپہر، شام کھانے سے پہلے اور ایک رات کو سوتے وقت۔ یقین کیجیئے کچھ نہیں ہوتا۔ اس میں میں ایک اور ٹیکہ بھی جمع کر سکتا ہوں اگر آسٹریلوی سائنسدان اپنی ایجاد کو مارکیٹ میں لے آئیں تو۔

میری بات پر یقین کیجیئے کیونکہ اس میں اتنی ہی سچائی ہے جتنی اس سردار جی کی بات میں تھی جنہوں نے بہت منت سماجت کے بعد اپنی دوست کو راضی کیا تھا کہ آج گھر آ جائے کیونکہ آج گھر کوئی بھی نہیں ہے۔ وہ لڑکی پہلے تو نہ مانی لیکن جب اپنے گھر پہنچی اور پریمی کی ’ آفر‘ کے متعلق سوچا تو اس کا ارادہ بدل گیا۔ وہ پیار سے مجبور ہو کر جب اپنے پریمی کے گھر پہنچی تو کیا دیکھتی ہے کہ وہاں تو تالا لگا ہوا ہے۔ سردار جی بہت سچے تھے۔ واقعی گھر کوئی نہیں تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد