BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 October, 2003, 22:23 GMT 03:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر کی ’موت‘

ڈاکٹر اور ہم
ہم سب کی عمر کا ایک طویل حصہ ڈاکٹروں کے سائے میں گزرتا ہے

آج کے دور میں پیدا ہونے والے ہر بچے کا ماں کے علاوہ جس انسان سے پہلا رابطہ ہوتا ہے وہ یا تو ڈاکٹر ہوتا ہے یا دائی۔

جوں جوں ہم بڑے ہوتے ہیں ہمارا رابطہ ڈاکٹروں سے بڑھتا جاتا ہے۔ امیونائزیشین یا ویکسینیشن کے پہلے ٹیکے سے لے کر خوبصورتی کے بڑھاوے کے لئے کروائی جانے والی پلاسٹک سرجری تک ڈاکٹروں کی ایک لمبی لائن ہے جو کسی نہ کسی طرح ہم سب کی زندگی کو بہتر نہ سہی متاثرضرور کرتی ہے۔

ڈاکٹر ٹنکنا کا دوسرا جنم

 یوں لگتا ہے کہ ڈاکٹر ٹنکنے والے ڈرامے کے مصنف نے ڈاکٹر ضمیر کو ضرور کہیں دیکھا ہوگا

ہوش سنبھالنے کے بعد میرا پہلا رابطہ کیپٹن ڈاکٹر محمد ضمیر سے ہوا تھا۔ لمبا قد، موٹا پیٹ، اور پیٹ سے اوپر چھاتی کے قریب باندھی ہوئی پتلون ڈاکٹر ضمیر کو ہمارے محلے کے دوسرے ڈاکٹروں سے منفرد کرتی تھی۔ اور وہ ڈاکٹر کیا تھا چلتا پھرتا ہسپتال تھا۔ کوئی بیماری ہو اس کے پاس ہر مرض کی گولیاں تھیں۔ یہاں تک کہ میرے گاؤں والے رشتہ دار تقریباً پچاس کلو میٹر کا سفر طے کر کے اسے دکھانے آتے تھے۔

لیکن اسے دیکھ کر اگر کوئی ہنسے بغیر رہے تو وہ کوئی بہت ہی کم ظرف ہو گا۔

ان دنوں ویسے بھی ٹی وی پر ڈاکٹر ٹنکنے کا ایک ڈرامہ چل رہا تھا۔ مجھے تو اب یوں لگتا ہے کہ ڈرامہ نویس نے ڈاکٹر ضمیر کو ضرور کہیں دیکھا ہوگا۔

خیر وہ ڈاکٹر جیسا بھی ہو، تھا بہت با ضمیر۔ ہر مریض کو بڑی شفقت سے دیکھتا اور پھر دوائی دیتا جو اکثر اوقات ایک ہی طرح کی لگتی تھی۔

درجہ بندی

 فرقہ وارانہ وارداتوں میں سب سے زیادہ تو تین ہی ’فرقے‘ متاثر ہوئے ہیں: ایک ڈاکٹروں کا، دوسرا وکیلوں کا اور تیسرا نمازیوں کا

پھر ایک اور ڈاکٹر زندگی میں آیا۔اس کے متعلق تو یہ بھی مشہور تھا کہ وہ قابل ڈاکٹر ہے اور ڈاکٹروں کی کسی ایسوسی ایشن کا صدر بھی تھا۔ نام تھا اس کا اشفاق رانا۔ لاہور کا یہ باسی وہ پہلا ڈاکٹر تھا جس نے مجھےمیری زندگی کی ایک بڑی بری خبر سنائی تھی اور وہ یہ کہ مجھے شوگر یا ذیابطیس ہے۔

خبر سنانا ڈاکٹر کو بہت مہنگا پڑا۔ کچھ دن بعد میں نے یہ خبر بھی سنی کہ چند نامعلوم حملہ آور فرقہ واریت کا نقاب اوڑھ کر اس کے اچھرہ میں واقع کلینک پر آئے اور درجنوں گولیاں اس کے جسم میں اتار کر چلے گئے۔

پھر پولیس نے بتایا کہ یہ فرقہ وارانہ قتل تھا اور یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ اشفاق رانا نماز بھی پڑھتا تھا۔ اشفاق رانا کے قتل کا ذمہ دار کسی شیعہ تنظیم کو ٹھہرایا گیا کیونکہ وہ خود سنی تھا۔

فرقہ وارانہ وارداتوں میں سب سے زیادہ تو تین ہی ’فرقے‘ متاثر ہوئے ہیں: ایک ڈاکٹروں کا، دوسرا وکیلوں کا اور تیسرا نمازیوں کا۔

خدا ان کو مارنے والوں کو بڑی سوئی والے ٹیکے لگائے۔ آمین۔

ڈاکٹر، فرقہ واریت اور نمازیوں سے مجھے لاہور کے میو ہسپتال میں گزاری وہ خوفناک رات یاد آ گئی جو میں نے اپنے بیمار بھائی کے ساتھ وہاں گزاری تھی۔ اس کی حالت کافی خراب تھی۔ ساری رات دوائیاں لانے اور دوائیں مانگنے میں کٹی تھی۔ صبح جب میں ان دونوں کاموں سے کافی تھک سا چکا تھا، ہسپتال میں ایک دل ہلا دینے والا منظر دیکھنا پڑا۔

جوتی چور کی مہربانی

 میں تو بچپن میں مسجد سے جوتی چرائے جانے کے بعد ویسے ہی وہاں کم کم جاتا تھا

سفید کپڑوں اور سفید داڑھیوں والے کئی بزرگ یکے بعد دیگرے ہسپتال لائے گئے۔ اکثر کے جسم گولیوں سے چھلنی تھے اور ان کے دودھ کی طرح سفید ملبوس خون کے رنگ کے ساتھ مل کر ایک عجیب کنٹراسٹ پیش کر رہے تھے۔ چھ افراد خدا کے حضور جھکنے کے بعد دوبارہ اٹھ نہ سکے اور کئی ایک کو دوبارہ بارگاہِ خداوندی میں سجدہ دینے کے لئے بہت انتظار کرنا پڑا کیونکہ وہ مہینوں بستر سے اٹھ نہیں سکتے تھے۔

میں تو بچپن میں مسجد سے جوتی چرائے جانے کے بعد ویسے ہی وہاں کم کم جاتا تھا۔ نمازیوں کے خون بھرے شفیق چہروں نے دماغ میں ایک علیحدہ ہی تصویر نقش کر دی۔

لیکن لندن میں حالات مختلف ہیں۔ یہاں نمازی اور ڈاکٹر الگ الگ ہیں۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ مرض اور مریض بھی۔

اور ڈاکٹر ان کا تو پوچھیں ہی نہ۔ میری ایک پاکستانی ڈاکٹر دوست جو ایک سال پہلے برطانیہ میں آنے کے بعد یہاں ایک ہسپتال میں کام کر رہی ہیں پچھلے دنوں ہمارے گھر آئیں اور ہنستے ہوئے بتایا کہ یہاں تو مردے کو جلانے کا سرٹیفیکیٹ دینے پر بیالیس پاؤنڈ ملتے ہیں۔

ہوا یوں کہ انہیں ہسپتال میں بلایا گیا کہ ایک سرٹیفیکیٹ پر دستخط کر دیں۔ وہ ایک مردے کی کریمیشن یا اسکا جسم جلانے کی اجازت تھی۔ انہوں نے اس پر دستخط کیے تو بعد میں ان کو تنخواہ کے ساتھ بیالیس پاؤنڈ کا ایک چیک بھی ملا۔

سچ ہے دفنانا جلانے سے کہیں مشکل کام ہے۔

یہاں کی تو سب ہی باتیں مختلف ہیں۔ دفتر سے بیماری کی چھٹی لینے کے لئے ہفتہ پہلے بتانا پڑتا ہے کہ میں فلاں دن بیمار ہو جاؤں گا اور اگر بتائے بغیر بیمار ہو جائیں تو کافی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اور دوسری طرف اگر بیمار ہو جائیں تو ڈاکٹر تشخیص کے لئے ہفتے بعد کی تاریخ دے دیتا ہے۔ اس وقت تک اگر مریض ٹھیک طرح سے صحت یاب نہ بھی ہو تو بھی وہ یہ ضرور بھول جاتا ہے کہ اسے ہوا کیا تھا۔

عجیب دور ہے، نہ پہلے والے ڈاکٹر ہیں اور نہ ہی مریض۔

ایسے میں ڈاکٹر ضمیر بہت یاد آتا ہے کیونکہ شائد معاملہ بیماری سے زیادہ اب ضمیر کا ہوتا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد