’اپنی طرح کے پہلے بلونگڑے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں جانوروں کی اقسام کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے کلوننگ سے پیدا ہونے والی بلیوں اور ایک بلے کے قدرتی ملاپ سے آٹھ بلونگڑے پیدا کیے ہیں۔ دی آڈیوبون سنٹر نامی اس ادارے کا دعویٰ ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کلوننگ سے پیدا ہونے والے جنگلی جانوروں نے بچے پیدا کیے ہیں۔ ادارے کی زیر نگرانی گزشتہ ماہ آٹھ بلونگڑے پیدا ہوئے ہیں اور بظاہر وہ صحت مند ہیں۔ آ
بلونگڑوں کے باپ کا نام دیتو ہے اور وہ جیز نامی بلی سے کلون ہوا تھا۔ کچھ ماہرین کے خیال میں اس پیش رفت سے ناپید ہونے کے خطرے سے دو چار جانوروں کو بچانے میں بہت مدد ملے گی۔ آڈیوبون سنٹر کی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر بیٹسی ڈریسر کا کہنا ہے کہ ’کلوننگ کے عمل میں بہتری سے اور کلوننگ سے پیدا ہونے والے جانوروں کے ہاں بچوں کی پیدائش سے ہم ان اقسام کے جنین محفوظ کر سکتے ہیں جو پیدائش کے اہل نہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کا خیال ہے کہ اگلے مرحلے میں نئے پیدا ہونے والے بلونگڑوں پر آئندہ سالوں میں نظر رکھی جائے گی جس کے دوران ان کی صحت کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کی شکار کرنے کی صلاحیت کو پرکھا جائےگا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین کے مطابق کلوننگ سے پیدا ہونے والے جانوروں کے ذریعے افزائش نسل سے جانوروں کے ناپید نہ ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ جانوروں کو بچانے کے لیے ان کے شکار کو روکنا اور ان کے رہنے کی جگہوں کا تحفظ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ بلونگڑے جنگل میں جا کر قدرتی طور پر ملاپ کر سکتے ہیں یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||