انسانی جنین بنانے کی درخواست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے سائنسی تحقیقاتی ادارے ’دی ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی‘ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کر دے گی کہ اسے پروفیسر ولمٹ کی جانب سے ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس میں تحقیقی مقاصد کے لیے انسانی جنین کے کلون تیار کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ اس تحقیق کا مقصد جنین سے مخصوص قسم کے خلیے یعنی سٹیم سیلز حاصل کرنا ہے۔ ان سٹیم سیلز کو بعد میں مختلف اقسام کے جسمانی خلیوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ پروفیسر ولمٹ ان کی مدد سے ’موٹر نیوران ڈیزیز‘ کے ابتدائی مراحل کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ ’موٹر نیوران ڈیزیز وہ مہلک بیماری ہے کہ جس کی وجہ سے انسانی جسم میں پٹھے ضائع ہونے لگتے ہیں۔ اس نئی تحقیق کو ’تھیریپیوٹک کلوننگ‘ کہتے ہیں۔ بعض طبقوں کی نگاہ میں اس طرح کی کلوننگ کو غیر اخلاقی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ مطالعہ کے بعد جنین کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ تاہم برطانیہ میں اس تحقیق کی اجازت ہے اور تھیریپیوٹک کلوننگ کے لیے پہلا لائسنس گزشتہ ماہ نیو کاسل یونیورسٹی کو دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||