پچاس ہزار ڈالر کا کلون شدہ بلونگڑا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نکی نامی بلونگڑا وہ پہلا بلی کا بچہ ہے جسے تجارتی بنیادوں پر کلوننگ کے عمل سے بنایا گیا ہے۔ امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک خاتون جولی نے اس بلی کے بچے کی کلوننگ کے لیے پچاس ہزار ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس عام سے نظر آنے والے بلونگڑے کو جولی کی ایک پالتو بلی کے ڈی این اے کو استعمال میں لا کر بنایا گیا ہے۔ وہ بلی سترہ برس تک جولی کے ساتھ رہنے کے بعدگزشتہ برس فوت ہوگئی تھی۔ جولی کا کہنا ہے کہ کلون شدہ نکی کی شکل بالکل اس کی مرنے والی بلی جیسی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ نکی میں مرنے والی بلی کی زیادہ تر عادات پائی جاتی ہیں جن میں بلیوں کی عادت کے بر خلاف پانی کی پسندیدگی بھی شامل ہے۔ اس کلون بلی کو تیار کرنے والی کیلیفورنیا کی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اگلے برس مئی تک پہلا کلون شدہ کتا بھی تیار کر لیں گے۔ اس کاروبار میں موجود دوسری کمپنیاں کئی کلون شدہ مویشی بنا چکی ہیں جن میں بکریاں، گھوڑے، خرگوش،سور اور چوہے شامل ہیں۔ کلوننگ کے خلاف سرگرمِ عمل تنظیموں نے بلی کی کلوننگ پر اتنی بڑی رقم کے خرچ کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کلوننگ پر خرچ کیے گئے پچاس ہزار ڈالر سے کئی بےگھر افراد کو رہائش مہیا کی جاسکتی تھی۔ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس وقت جب ہر سال ہزاروں آوارہ بلیاں مار دی جاتی ہیں ، بلیوں کی کلوننگ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سائنسدانوں کا بھی کہنا ہے کہ کلون جانور بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ نکی کو تیار کرنے والی کمپنی نے بتایا ہے کہ اس کے پاس مزید پانچ بلیوں کی تیاری کا آرڈر ہے اور انہیں امید ہے کہ ایک نئی تکنیک کے استعمال سے وہ اگلے برس کے آخر تک پچاس بلیاں تیار کر لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||