کلوننگ کے نازک مسئلے پر بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ میں کلوننگ کے متنازعہ مسئلے پر دو روزہ بحث شروع ہو رہی ہے جس میں انسانی کلوننگ پر پابندی کو خاصی حمایت حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کے سکرٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا ہے کہ وہ طبی تحقیق کے لیےانسانی ایمبریو یا جنین کی کلوننگ کرنے کے حق میں ہیں۔ تاہم امریکی حکومت ہر قسم کی کلوننگ پر دنیا بھر میں پابندی لگانا چاہتی ہے۔ کلوننگ کے قضیئے نے اقوام متحدہ کے ارکان میں خاصی تفریق کھڑی کردی ہے۔ ایک طرف تو سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسانوں کی کلوننگ نہیں ہونی چاہۓ یعنی مصنوعی طریقوں سے ایک شخص کے ہو بہو دوسرا شخص پیدا نہیں کرنا چاہۓ ۔ لیکن اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا علاج معالجے کی خاطر کلوننگ کی اجازت دی جاۓ یا نہیں۔ اس کے لیے دو قراردادیں تیار کی گئی ہیں۔ ایک کوسٹا ریکا نے مرتب کی ہے اور جس کی حمایت امریکہ اور ساٹھ دوسرے ملک بھی کررہے ہیں یہ ہے کہ کلوننگ اخلاق سوز حرکت ہے لہٰذا اس کی مکمل ممانعت ہونی چاہۓ۔ دوسری قرارداد بیلجئیم کی جانب سے پیش ہوئی ہے۔ اس میں بھی انسانی کلوننگ کی ممانعت کے لۓ کہا گیا ہے لیکن اس بات کی گنجائش رکھی گئ ہے کہ علاج کی خاطر اس پر کام جاری رکھا جائے۔ اجلاس سے پہلے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اخبار والوں سے کہا کہ’فیصلہ تو ارکان اسمبلی کو ہی کرنا ہے لیکن میں ذاتی طور پر علاج معالجے کے لۓ اس تحقیق کے حق میں ہوں۔‘ پچھلے سال نومبر میں کمیٹی نےطے کیا تھا کہ معاہدے پر غور کو دو سال کے لۓ ملتوی کردیا جائے لیکن پھر اس مدت کو گھٹا کر ایک سال کردیا گیا۔ امریکی صدارتی انتخاب میں یہ موضوع بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ صدر بش ہر طرح کی کلوننگ کے خلاف ہیں جبکہ ان کے مد مقابل جون کیری کہتے ہیں کہ خلیئے کی ہیئت بدلنے کی تحقیق جاری رکھی جائے ۔ جنوبی کوریا کی رائے ہے کہ اس معاملے کو مزید ایک سال کے لۓ ملتوی کردیا جائے اور پھر اقوام متحدہ کی کانفرنس میں خلیئے کی ریسرچ پر غور کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||