برہمداغ اور آغا شاہد کیلیے وزارتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا کچھ عرصے بعد آغا شاہد اور برہمداغ بگٹی بھی جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے کسی اہم وفاقی وزارت پر فائز ہوں گے؟ ڈیرہ بگٹی کے دورے میں فوجی حکام کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کی مبینہ زیادتیوں کی تفصیلات دکھائے جانے کے دوران نہ جانے کیوں یہ سوال میرے ذہن سے چپک کر رہ گیا۔ کراچی کے الکرم اسکوائر اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان سینکڑوں کلومیٹر کا زمینی اور سماجی حالات کا ناقابل موازنہ فاصلہ حائل ہے لیکن فوجی حکام کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کے قلعے کے بارے میں پیش کی جانے والی تفصیلات چودہ برس پہلے کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف فوجی حکام کی بریفنگ سے غیرمعمولی مماثلت رکھتی تھیں۔ ’ایم کیو ایم نے ریاست کے اندر ریاست قائم کی ہوئی تھی جہاں پاکستانی آئین و قانون کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ الکرم اسکوائر خوف اور دہشت پر مبنی اس ریاست کا نمایاں ترین نشان ہے‘۔ سن انیس سو بانوے میں بریگیڈیر آصف ہارون نے صحافیوں کو بتایا تھا۔ اور سن دو ہزار چھ میں کرنل فرقان الدین نے ڈیرہ بگٹی میں صحافیوں کو بتایا کہ ڈیرہ بگٹی اور آس پاس کے علاقوں میں قانون صرف نواب اکبر بگٹی کے الفاظ پر مشتمل تھا اور وہ اور ان کی ان نجی جیلیں اس قانون پر عمل کراتی تھیں۔ الکرم اسکوائر کی طرح ڈیرہ بگٹی میں بھی صحافیوں کو مبینہ عقوبت خانے اور آلات تشدد دکھائے گئے جو فوجی حکام کے بقول ’بھگوڑے‘ استعمال کررہے تھے۔
دونوں مقامات پر صحافیوں کو بین ثبوت کے طور پر ان مورچوں اور مقامات کا دورہ کرایا گیا جہاں سے ’دہشت گرد اور بھگوڑے‘ فوج اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے تھے۔ اور صرف یہی نہیں، الکرم اسکوائر کے بعد ڈیرہ بگٹی میں بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو آپریشن کے دوران حفاظتی دستوں کے ہاتھ آنے والا اسلحہ اور گولہ بارود بھی دکھایا گیا جو یہ ’دہشت گرد اوربھگوڑے‘ استعمال کررہے تھے۔ گو دونوں جگہ سے ملنے والے اسلحے کی نوعیت، مقدار اور اقسام مختلف ہوسکتی ہیں لیکن ان کی نمائش کا انداز اور تفصیلات بہت زیادہ مختلف نہیں تھیں۔ کراچی کی ہی مانند ڈیرہ بگٹی میں بھی ایم کیو حقیقی کی مثال با آسانی تلاشی جاسکتی ہے۔ جس طرح فوج اور رینجرز کی حفاظت میں ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما اور کارکنان کراچی کے مختلف گلی محلوں میں وارد ہوئے تھے، تقریباً اسی طرح تیرہ برس پہلے ڈیرہ بگٹی سے نکالے گئے میر احمدان رائجا بگٹی اور ان کے ڈیڑھ ہزار کے قریب رشتےدار اور ساتھی بھی حکام کی زبردست حفاظت میں اپنے گھروں کو واپس لائے گئے۔ یہی منظر ڈیرہ بگٹی سے پہلے کلپراور مسوری بگٹیوں کے ذریعے سوئی میں بھی دہرایا جاچکا ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم اور آج نواب بگٹی کے مبینہ ہتھیاروں پر معترض فوج اور انتظامیہ کو نہ اس وقت حقیقی کے ہتھیار دکھائی دے رہے تھے اور نہ آج کلپر، مسوری اور میر احمدان بگٹی کے ہتھیار نظر آرہے ہیں۔ اس وقت ایم کیو چونکہ دشمن قرار دی گئی تھی اس لیے ذرائع ابلاغ کے سامنے جناح پور بنانے کی سازش کرنے اور غیرملکی آقاؤں کی لے پالک کے طور پر پیش کی گئی تھی۔
اور چونکہ آج یہ رتبۂ بلند نواب اکبر بگٹی کو دیا جا رہا ہے، لہٰذا بیرونی قوتوں کے ایجنٹ ہونے کا قلاوہ بھی انہیں کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ لیکن یہ بھی وقت کی عجب ستم ظریفی ہے کہ چودہ برس پہلے جن لوگوں نے ایم کیو ایم پر اس قدر سنگین الزامات لگائے تھے، وہی آج ایم کیو کو سر آنکھوں پر بٹھا رہے ہیں۔ چودہ برس پہلے فوج اور حکومت کی حفاظت میں اپنے گلی محلوں کو واپس آنے والے حقیقی کے رہنما آج جیل میں اور کارکنان پھر سے دربدر ہیں۔ کیا چودہ برس پہلے کے اس ڈرامے کے نئے کردار، نواب اکبر بگٹی اور ان کے مخالفین میر احمدان اور کلپر اور مسوری بگٹی بھی ایسے ہی ڈراپ سین کا حصہ ہوں گے؟ دیکھنا یہ ہے کہ آغا شاہد اور برہمداغ بگٹی کو کب اور کون کون سی وزارتوں کے قلمدان پیش کیے جاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں اکبر بگٹی نےہڈی میں کیا دیکھا؟28 February, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی پر مزید مقدمات درج22 February, 2006 | پاکستان بگٹی قبیلے کی خواتین کا مظاہرہ16 February, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی: اہم گیس پائپ لائن تباہ15 February, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی: فوج کی دو گاڑیاں تباہ 09 February, 2006 | پاکستان ’بگٹیوں نے قلعہ خالی کردیا‘07 February, 2006 | پاکستان بگٹی قلعے میں دھماکے؟07 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||