بگٹی قبیلے کی خواتین کا مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں جمعرات کو بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور کہا کہ وہ نہ تو شدت پسند ہیں، نہ دہشت گرد اور نہ ہی مزاحمت کار بلکہ وہ اپنے حقوق مانگتے ہیں۔ ان میں بیشتر خواتین اور بچے ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی کے شروع ہوتے ہی دوسرے علاقوں کو منتقل ہوگئے تھے۔ کوئٹہ میں موجود ان خواتین اور بچوں نے بتایا ہے کہ نہ تو یہاں ان کے پاس بستر ہیں نہ کھانے کو کچھ ہے، بس بے سرو سامانی ہے۔ ادھیڑ عمر کی عورتیں قسمیں اٹھاتے نہیں تھکتی تھیں کہ ان پر ظلم ہو رہا ہے۔ جب انہیں کہا گیا کہ حکومت آپ لوگوں کو ترقی دینا چاہتی ہے تو انہوں نے کہا کیا ’یہ بم اور دھماکے ترقی ہیں؟ اگر یہ ترقی ہے تو انہیں یہ ترقی نہیں چاہیے‘۔ ایک عورت نے کہا کہ وہ ترقی چاہتے ہیں، سکول کالج اور یونیورسٹی مانگتے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے جھوٹ اور دھوکہ نہ ہو۔ انہوں نے کہ کہ پہلے مورچے خالی کر کے سکیورٹی فورسز کو سامنے لے آئے تھے۔ ایک نو جوان لڑکی نے کہا کہ ’ہمیں ہمارے حقوق چاہئیں‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حقوق چاہئیں تو انہوں نے کہا کہ ’ہمیں تعلیم اور روزگار چاہیے۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ ڈیرہ بگٹی سے گیس نکلتی ہے اور ڈیرہ بگٹی کو ہی گیس فراہم نہیں کی گئی‘؟ سوئی اور ڈیرہ بگٹی سے بڑی تعداد میں لوگ بچوں اور خواتین کے ہمراہ بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں کو بے سروسامانی کی حالت میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کے لوگ جھڑپوں دھماکوں اور گولہ باری سے جان بچا کر نکلے ہیں۔ سوئی کے لوگوں کا کہنا ہے حکومت نے بندلانی قبیلے کے کچھ لوگوں کو آباد کر کے ہزاروں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے کیونکہ بندلانی قبیلے سے ان کی دشمنی ہے اور ایسی صورت میں وہ وہاں نہیں رہ سکتے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان کے ویرانوں میں13 February, 2006 | پاکستان بلوچستان:گیس فیلڈ پرحملہ،گیس بند12 February, 2006 | پاکستان بلوچستان:’بارودی سرنگوں کےدھماکے‘11 February, 2006 | پاکستان بلوچستان: ایف سی کے دو اہلکار ہلاک11 February, 2006 | پاکستان بلوچستان کے ویرانوں میں10 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||