BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 February, 2006, 22:14 GMT 03:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی: اہم گیس پائپ لائن تباہ

پائپ لائن
حالیہ دھماکے سے فیصل آباد، ملتان اور دیگر علاقوں کو گیس کی کمی کا سامنا ہوگا
ڈیرہ بگٹی میں پیر کوہ کے قریب ایک اہم گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا ہے، جس کے باعث پیر کوہ اور لوٹی گیس پلانٹ بند کر دیے گئے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ نامعلوم افراد نے پیر کوہ میں کمپریشن پلانٹ کی مین پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ لوٹی گیس پلانٹ سے گیس اسی کمپریشن پلانٹ سے گزر کر سوئی گیس فیلڈ کو جاتی ہے لہذا اس دھماکے سے دونوں گیس پلانٹ متاثر ہوئے ہیں جس وجہ سے دونوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

عبدالصمد لاسی نے بتایا کہ یہ گیس، سوئی گیس فیلڈ سے دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک سوئی سدرن گیس کمپنی جبکہ دوسری سوئی ناردرن گیس لمیٹڈ ہے۔ پہلی سندھ اور بلوچستان کو اور دوسری کمپنی سرحد اور پنجاب کو گیس فراہم کرتی ہے۔

حالیہ دھماکے سے سوئی ناردرن گیس کی سپلائی کم ہو گئی ہے جس سے فیصل آباد، ملتان اور دیگر علاقوں کو گیس کی کمی کا سامنا ہوگا لیکن ہوسکتا ہے کہ ان علاقوں کو متبادل طریقہ سے گیس کی ترسیل بحال کر دی جائے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں گیس پلانٹ لگ بھگ ساٹھ ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ فراہم کرتے ہیں۔

ادھر ڈیرہ بگٹی کے ناظم کاظم بگٹی نے یہاں کوئٹہ میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز ڈیرہ بگٹی کے علاقہ سنگسیلہ میں سکیورٹی فورسز اور بگٹی قبائلیوں کے مابین جھڑپ ہوئی ہے جس میں ایف سی کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں شدید گولہ باری کی ہے جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

ڈیرہ بگٹی میں پیر کو لوٹی اور اوچ گیس پلانٹ کو گزشتہ دو ماہ میں کئی مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے جس سے گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے لیکن کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا ہے۔

حکومت نے سترہ دسمبر سے کوہلو اور پھر تیس دسمبر سے ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کی ہے جس میں مری اور بگٹی قبائل کے نمائندوں کے مطابق کوئی ایک سو پچھتر افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد