ڈیرہ بگٹی سفرنامہ، آخری قسط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(ڈیرہ بگٹی سفرنامہ، آخری قسط) گزشتہ دنوں ڈیرہ بگٹی کے سفر کے بارے میں آپ چار قسطیں پڑھ چکے ہوں گے اور جیسا کہ آخری قسط میں آپ کو بتایا تھا کہ ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی سے گفتگو چل رہی تھی کہ وہ اکبر خان بگٹی کے خلاف اتنا بولتے ہیں کیا انہیں ڈر نہیں لگتا؟ اس دوران انہیں کراچی کے قریب واقع بلوچستان کے شہر حب میں اپنے گھر سے فون آیا کہ ان کے گھر بم دھماکہ ہوا ہے۔ عبدالصمد لاسی پریشان ہوگئے اور کسی دوست سے کہا کہ ان کے اہل خانہ کو کراچی پہنچا دیا جائے۔ ان کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا البتہ مکان کی دیوار گرگئی اور کچن کو نقصان پہنچا۔ خیر رات گزاری صبح سوئی گیس فیلڈ کے مینیجر سہیل قدیر سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ اس فیلڈ سے چھ سو پچاس ’ایم سی ایف‘ گیس یومیہ پیدا ہوتی ہے اور موجودہ ذخیرہ دو ہزار تیس سے پینتیس تک چل سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ موجودہ کنویں سے نیچے اگر کھدائی ہو تو شاید ایک اور بڑا ذخیرہ دریافت ہوسکتا ہے جو کہ موجودہ ذخیرے سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ’پی پی ایل‘ کی انیس سو پچاس میں دریافت ہونے والی اس فیلڈ میں کل سولہ سو کے قریب ملازم ہیں جس میں ساڑھے چار سو افسر ہیں۔ ان کے مطابق افسروں میں اکثریت اردو بولنے والوں کی ہے جبکہ دیگر ملازمین میں ساٹھ فیصد مقامی افراد ہیں۔ سہیل قدیر نے بتایا کہ سات سو کے قریب ڈیفنس سکیورٹی گارڈز یا ’ڈی ایس جی‘ کے اہلکار تعینات ہیں اور انہیں کمپنی کروڑوں روپے سالانہ معاوضہ ادا کرتی ہے۔ ایک سپاہی سے بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں فوج کی مقرر کردہ تنخواہ کے علاوہ دو ہزار روپے ماہانہ کمپنی سے الاؤنس ملتا ہے۔ کمپنی نے مقامی لوگوں کی سہولت کے لیے ان کے بقول معیاری تعلیم دینے کی خاطر ایک ہائی سکول بھی بنایا ہے جس میں چھ سو بچیوں سمیت چھبیس سو طلباء دو شفٹوں میں پڑھتے ہیں۔ ان سے بات چیت کے بعد عبدالصمد لاسی سے اصرار کیا کہ ڈاکٹر شازیہ پر جہاں جنسی تشدد ہوا تھا وہاں جانے کی اجازت دلوائیں۔ انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ’وہاں مجھے جانے کی اجازت نہیں اور آپ اپنی بات کرتے ہو۔ یہ ممکن نہیں۔ ہماری عزت کا بھی خیال رکھیں‘۔ ان کا شکریہ ادا کرکے اجازت لی اور بگٹی کالونی جاتے ہوئے اکبر بگٹی کا سوئی میں واقع قلعہ باہر سے دیکھا۔ دیوار پر لکھا تھا ’یہ عمارت اب سرکاری تحویل میں ہے اور عام آدمیوں کا داخلہ ممنوع ہے‘۔ اس عمارت کے دروازے پر فرنٹیئر کور یعنی ’ایف سی‘ کے اہلکار مورچہ زن تھے اور تصویر بنانے پر انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ |
اسی بارے میں اکبر بگٹی نےہڈی میں کیا دیکھا؟28 February, 2006 | پاکستان بلوچستان کے ویرانوں میں13 February, 2006 | پاکستان بلوچستان کے ویرانوں میں10 February, 2006 | پاکستان بلوچستان میں دو ٹرینوں پر حملہ27 February, 2006 | پاکستان بلوچستان: پارٹی سربراہ ہلاک01 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: ایک ہلاک، 5 زخمی 02 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||