BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 March, 2006, 15:54 GMT 20:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی سفرنامہ، آخری قسط

 بگٹی ہاؤس
بگٹی ہاؤس، جو اب سرکاری تحویل میں ہے
(ڈیرہ بگٹی سفرنامہ، آخری قسط)

گزشتہ دنوں ڈیرہ بگٹی کے سفر کے بارے میں آپ چار قسطیں پڑھ چکے ہوں گے اور جیسا کہ آخری قسط میں آپ کو بتایا تھا کہ ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی سے گفتگو چل رہی تھی کہ وہ اکبر خان بگٹی کے خلاف اتنا بولتے ہیں کیا انہیں ڈر نہیں لگتا؟

اس دوران انہیں کراچی کے قریب واقع بلوچستان کے شہر حب میں اپنے گھر سے فون آیا کہ ان کے گھر بم دھماکہ ہوا ہے۔ عبدالصمد لاسی پریشان ہوگئے اور کسی دوست سے کہا کہ ان کے اہل خانہ کو کراچی پہنچا دیا جائے۔ ان کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا البتہ مکان کی دیوار گرگئی اور کچن کو نقصان پہنچا۔

خیر رات گزاری صبح سوئی گیس فیلڈ کے مینیجر سہیل قدیر سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ اس فیلڈ سے چھ سو پچاس ’ایم سی ایف‘ گیس یومیہ پیدا ہوتی ہے اور موجودہ ذخیرہ دو ہزار تیس سے پینتیس تک چل سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ موجودہ کنویں سے نیچے اگر کھدائی ہو تو شاید ایک اور بڑا ذخیرہ دریافت ہوسکتا ہے جو کہ موجودہ ذخیرے سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔

سہیل قدیر
سوئی گیس فیلڈ کے مینیجر سہیل قدیر

انہوں نے بتایا کہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ’پی پی ایل‘ کی انیس سو پچاس میں دریافت ہونے والی اس فیلڈ میں کل سولہ سو کے قریب ملازم ہیں جس میں ساڑھے چار سو افسر ہیں۔ ان کے مطابق افسروں میں اکثریت اردو بولنے والوں کی ہے جبکہ دیگر ملازمین میں ساٹھ فیصد مقامی افراد ہیں۔

سہیل قدیر نے بتایا کہ سات سو کے قریب ڈیفنس سکیورٹی گارڈز یا ’ڈی ایس جی‘ کے اہلکار تعینات ہیں اور انہیں کمپنی کروڑوں روپے سالانہ معاوضہ ادا کرتی ہے۔ ایک سپاہی سے بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں فوج کی مقرر کردہ تنخواہ کے علاوہ دو ہزار روپے ماہانہ کمپنی سے الاؤنس ملتا ہے۔ کمپنی نے مقامی لوگوں کی سہولت کے لیے ان کے بقول معیاری تعلیم دینے کی خاطر ایک ہائی سکول بھی بنایا ہے جس میں چھ سو بچیوں سمیت چھبیس سو طلباء دو شفٹوں میں پڑھتے ہیں۔

ان سے بات چیت کے بعد عبدالصمد لاسی سے اصرار کیا کہ ڈاکٹر شازیہ پر جہاں جنسی تشدد ہوا تھا وہاں جانے کی اجازت دلوائیں۔ انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ’وہاں مجھے جانے کی اجازت نہیں اور آپ اپنی بات کرتے ہو۔ یہ ممکن نہیں۔ ہماری عزت کا بھی خیال رکھیں‘۔

ان کا شکریہ ادا کرکے اجازت لی اور بگٹی کالونی جاتے ہوئے اکبر بگٹی کا سوئی میں واقع قلعہ باہر سے دیکھا۔ دیوار پر لکھا تھا ’یہ عمارت اب سرکاری تحویل میں ہے اور عام آدمیوں کا داخلہ ممنوع ہے‘۔ اس عمارت کے دروازے پر فرنٹیئر کور یعنی ’ایف سی‘ کے اہلکار مورچہ زن تھے اور تصویر بنانے پر انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

اکبر بگٹی بگٹی کی پیش گوئی
بگٹی نے ہڈی میں کیا دیکھا؟
ڈیرہ بگٹیبگٹی قلعے میں
ایف سی چیک پوسٹ، نسوار اور بگٹی قلعہ
نواب اکبر خان بگٹی بگٹی کا چھُپا ہوا روپ
عاشق مزاج، نکاح خواں اکبر بگٹی
اسی بارے میں
بلوچستان کے ویرانوں میں
13 February, 2006 | پاکستان
بلوچستان کے ویرانوں میں
10 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد