صدر کی گورنر سندھ سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویزمشرف نے منگل کی رات گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے راولپنڈی میں ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات کی ہے۔ گورنر کے اے ڈی سی لفٹیننٹ کاشف نے ملاقات کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ تمام مسائل پر بڑے خوشگوار ماحول میں بات ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کے جلد ہی تمام مسائل حل کرلیئے جائیں گے۔ تاہم رات گئے تک حکومت کی طرف سے یا ایم کیو ایم کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ایم کیو ایم نے رات گئے تک نہ تو استعفے واپس لینے کی کوئی بات کی اور نہ ہی کسی مزید ملاقات کا اعلان کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق صدر اور گورنر کی ملاقات کے دوران صدر کے ایک معتمد نے لندن میں ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیا۔ اسلام آباد میں سیاسی حلقے صدر کی گورنر سے ملاقات کو ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ ایم کیو ایم اگلے چوبیس گھنٹوں میں اپنے استعفے واپس لینے کا اعلان کر دے گی۔ یاد رہے کہ ایم کیو ایم نے گزشتہ ہفتے وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کے روّیے کے خلاف صوبائی اور مرکزی وزارتوں سے استفعے دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان استعفوں کے بعد منگل کی صبح صدر نے ایک اجلاس طلب کیا تھا لیکن ایم کیو ایم نے ارباب غلام رحیم کے ایک بیان پر احتجاج کرتے ہوئے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس بیان کو بنیاد بناتے ہوئے ایم کیو ایم کی رابط کمیٹی نے اپنی چار رکنی مذاکراتی ٹیم اور گورنر عشرت العباد کو اسلام آباد سے کراچی طلب کر لیا تھا۔ ایم کیو ایم کے اس بائیکاٹ پر حکومتی حلقوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔تاہم صدر نے فوری طور پر گورنر سندھ کا اسلام آباد طلب کر لیا۔ گورنر سندھ منگل کو سارا دن صدر سے ملاقات کے منتظر رہے اور رات آٹھ بجے انہیں ایوان صدر کیمپ آفس راولپنڈی طلب کیا گیا۔ | اسی بارے میں عشرت العباد: نائن زیرو سےگورنر ہاؤس01.01.1970 | صفحۂ اول ’عشرت العباد، الزام غلط ہے‘26 June, 2005 | پاکستان عشرت کے خلاف مزید الزامات20 June, 2005 | پاکستان ’جان بوجھ کر دھوکہ نہیں دیا‘12 June, 2005 | پاکستان سندھ حکومت کو بحران کا سامنا22 May, 2006 | پاکستان وزیراعلٰی کے خلاف تحریک استحقاق23 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||