BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 June, 2005, 14:54 GMT 19:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جان بوجھ کر دھوکہ نہیں دیا‘
عشرت العباد وزیر اعظم شوکت عزیز
عشرت العباد وزیر اعظم شوکت عزیز کے ساتھ ایک کار کا معائنہ کرتے ہوئے۔
برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف کے مطابق صوبہ سندھ کےگورنر عشرت العباد کراچی میں گورنر ہاؤس کی ’پر تعیش زندگی‘ گزارنے کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت سے ایسے سرکاری فنڈز وصول کرتے رہے جن کے وہ مجاز نہیں تھے۔

سنڈے ٹیلیگراف کے مطابق جب اخبار نے گورنر سندھ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گورنر کا عہدہ سنبھالنے تک وہ سرکاری فنڈز وصول کرتے رہے ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے مذکورہ رقم برطانوی حکومت کو لوٹا دی ہے۔

سنڈے ٹیلیگراف کے مطابق ڈاکٹر عشرت العباد نے اخبار کو رد عمل دیتےہوئے کہا کہ انہوں نے ’چند ایک سو پونڈ‘ واپس کر دیے ہیں اور ’اس کے باوجود ان کے ذمے کسی قسم کے واجبات نکلتے ہیں تو وہ انہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

’اور اگر انجانے میں کچھ ہوا ہے تو وہ اس کی تصحیح کرنے کی پوری کوشش کریں گے کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر حکومت برطانیہ کودھوکہ دینے کی کوئی کوشش نہیں کی۔‘

اخبار کا کہنا ہے کہ نوکروں کی فوج میسر ہونے اور لیموزین گاڑیوں میں سفر کرنے کے باوجود عشرت العباد دس ماہ تک برطانوی حکومت سے انکم سپورٹ کے علاوہ دوسرے سرکاری فنڈز کی مد میں ایک ہزار پونڈ ماہانہ کی رقم وصول کرتے رہے۔

اس معاملے پر گورنر سندھ کا موقف جاننے کے لیے بی بی سی اردو سروس نے اتوار کو بارہا کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔

تاہم حکومت سندھ کے مشیر صلاح الدین حیدر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی سرکار سے فنڈز لینے کی بات اس زمانے کی ہے جب عشرت العباد برطانیہ میں رہائش پذیر تھے اور ان کی پاس کوئی کیریئر جاب نہیں تھی۔

مشیر نے سنڈے ٹیلیگراف کی خبر سے حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ اگرچہ گورنر صاحب کے مطابق اس بات پراختلاف ہے کہ وہ برطانوی حکومت سے کتنی رقم لیتے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی اگر ان کے ذمے کوئی رقم باقی ہے تو وہ یہ لوٹانے کے لیے تیار ہیں۔‘

بی بی سی کے اس استفسار پر کہ یہ معاملہ کب تک طے پائے جائے گا، حکومت سندھ کے مشیر نے کہا کہ وہ جب تک گورنر اس معاملے پر کوئی قانونی مشورہ نہیں کر لیتے اُن کے لیے اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔‘

ٹیلیگراف کی خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ، (ڈاکٹر عشرت العباد) حکومت برطانیہ کی طرف سے اپنے بیوی بچوں کی لندن میں رہائش کی مد میں دو سو چوالیس پونڈ فی ہفتہ کی رقم بھی لیتے رہے جبکہ ان کی اہلیہ شاہینہ، بھی سرکاری فنڈز وصول کرتی رہی ہیں اور جنہیں ’اعصابی دباؤ‘ کی مریضہ قرار دیا گیا تھا، ڈاکٹر خان کے کچھ اضافی رقم اس لیے بھی دی جکاتی تھی کہ وہ اپنی اہلیہ کی کل وقتی دیکھ بھال کرتے تھے۔

ہفتے کی رات لندن کے علاقہ ہینڈن سے لیبرپارٹی کے رکن اسمبلی اینڈریو ڈزمور نے وزراء سے کہا کہ وہ عشرت العباد کے فنڈز لینے کے معاملہ کی تفتیش کریں۔

مذکورہ رکن اسمبلی نے ،جو دارالعلوم میں ورکس اینڈ پنشن کی کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں، کہا کہ ’مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوگی کہ قانون، عشرت العباد کو وہ فنڈز وصول کرنے کی اجازت دیتا تھا جو وہ لیتے رہے ہیں۔‘

ڈّاکٹر عشرت نے یہ بھی کہا کہ اکتوبر 2003 کے بعد سے ان سے رقم کی واپسی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔

واضع رہے کہ ڈاکٹر عشرت1992 میں ایک پناہ گزین کی حیثیت سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے اور 1999 میں سیاسی پناہ کے لیے اپنی درخواست کی منظوری کے بعد برطانیہ میں کئی طرح کی سرکاری امداد کے مجاز ہو گئے تھے۔1997 سے انہوں نے اپنے بیوی بچوں سمیت لندن میں ایجویئر کے علاقے میں رہائش اختیار کر لی اور مئی 1999 سے انکم سپورٹ پر چلے گئے جس کی وجہ سے وہ ہاؤسنگ بینیفٹ کے بھی مجاز ہو گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد