BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 September, 2004, 20:54 GMT 01:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نجی ہاؤسنگ: قانون میں ترمیم

فائل فوٹو: کالج، لاہور ایک تاریخی عمارت
فائل فوٹو: کالج، لاہور ایک تاریخی عمارت
حکومت پنجاب نے عوام کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے نجی رہائشی سکیموں اور کوآپریٹوہاؤسنگ سوسائٹیوں کے موجودہ قوانین میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے پیر کی رات پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایوان کو بتایاکہ بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹیاں لوگوں کے ساتھ فراڈ کر رہی تھیں اور ان کی جمع پونجی لوٹ کر غائب ہوجاتی تھیں یا زمین خریدے بغیر ہاؤسنگ سکیم کا اعلان کر دیا جاتا تھا اورجب زمین پوری نہیں ہوتی تھی تو حکومت سے کہا جاتا تھا کہ وہ مقامی افراد سے اراضی خرید کر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو دے۔

انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ سیکٹر کے حوالے سے حال ہی میں ایک نئی لہر آئی اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نجی شعبہ کی سکیموں کے لیے اراضی حکومت نے اپنے نرخوں پر خرید کر دی وزیر قانون نے کہا کہ اس کا عوام پر شدید مخالفانہ ردعمل ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسی لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ قانون میں ایسی تبدیلی کی جاۓگی کہ نجی شعبہ رہائشی کالونی بنانے کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جاۓگی جب وہ اعلان کردہ سکیم کے اسی فی صد اراضی کی ملکیت ثابت کر دے گی اور باقی صرف بیس فی صد اراضی کی خرید میں حکومت مدد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ محض اشتہارات کے ذریعے عوام کو لوٹنے کا انسداد کیا جاۓ گا اوررہائشی کالونی بناتے وقت عوام سے جو وعدے کیے جاتے ہیں ان کے پورا کیے جانے کو یقینی بنایا جاۓگا۔

قائد حزب اختلاف قاسم ضیاء نے ایک ہاؤسنگ سکیم کا نام لیکر اس پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اس کی انتظامیہ سر عام عوام کو لوٹ رہی ہے۔ انہوں نے اس ہاؤسنگ سکیم کی جانب سے دیے جانے والے ایک اخباری اشتہار پر بھی تنقید کی اورکہا کہ اس ہاؤسنگ سکیم نے صرف عدلیہ ، فوج، سینیٹرز، اراکین قومی اسمبلی اور بیوروکریٹس کو پلاٹ دینے کا اعلان کیا جو ان کے بقول مذکورہ طبقہ کے افراد کوبدعنوان بنانے کی سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب اس ہاؤسنگ سکیم کے اجازت نامے کو حکومت نے منسوخ کیا تو اس کی بحالی کے لیے وزیر قانون پر دباؤ ڈالا گیاتھا۔

حزب اختلاف کے رانا آفتاب نے کہا کہ اس سکیم کو پہلے حکومت نے اراضی سستے داموں حاصل کرنے کا اجازت نامہ دیا پھر خود ہی منسوخ بھی کردیا لیکن اس دوران جن عام غریب افراد سے سرکاری نرخ پر اراضی حاصل کر لی گئی ان کا کیا قصور ہے۔

وزیر قانون نے وضاحت کی کہ ’اس نجی رہائشی سکیم کا اجازت نامہ راولپنڈی میں صرف سات یوم اور لاہور میں صرف تین یوم بعد منسوخ کر دیا گیا اور اس دوران کسی نے اپنی اراضی اس سکیم کی انتظامہ کو فروخت نہیں کی ۔‘

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں گزشتہ کئی ماہ سے رہائشی اراضی کی قیمت اچانک بڑھ گئی ہے اور نجی رہائشی کالونیوں کی تعمیر سے قبل ہی اس اعلان پر ہی پلاٹ کے کاغذات بھاری قیمت پر فروخت ہوجاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق لاہور اور راولپنڈی میں ایک نجی ادارے کا اعلان کردہ فارم ہی تیس سے چالیس ہزار روپے میں بلیک میں فروخت ہوتا رہا ۔

جبکہ اس نجی ادارے کے ایک اخباری اشتہار کے مطابق راولپنڈی میں اس کے فارم خریدنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ افراد جمع ہوگئے تھے ان واقعات کے بعد حکومت کو اعلان کرنا پڑا کہ اس ہاؤسنگ سکیم کے پاس اتنی اراضی ہی نہیں کہ جتنے پلاٹ فروخت کرنے کا اس نے اعلان کیا ہے حکومت نے ا س سکیم کو سرکاری نرخ پر مقامی افراد سے اراضی خرید نے کے اجازت نامہ کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد