BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 June, 2005, 13:19 GMT 18:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عشرت کے خلاف مزید الزامات
عشرت العباد وزیر اعظم شوکت عزیز
عشرت العباد وزیر اعظم شوکت عزیز کے ساتھ ایک کار کا معائنہ کرتے ہوئے۔
برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سندھ کےگورنر ڈاکٹر عشرت العباد جب بطور پناہ گزین برطانیہ میں مقیم تھے تو انہوں نے اپنے بھائی کے گھر میں رہائش اختیار کرنے کے باوجود حکومت برطانیہ سے اس کا کرایہ وصول کیا۔

اتوار انیس جون کی اشاعت میں اس اخبار نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر عشرت العباد کے بھائی محسن العباد نے اپنا گھر ڈاکٹر سید شہزاد اکبر کے نام لیز کردیا اور دو سو چوالیس پونڈ ہر ہفتے حکومت برطانیا سے وصول کرتے رہے۔

اخبار کے مطابق ڈاکٹر عشرت العباد صوبہ سندھ کے گورنر بننے کہ بعد ’پر تعیش زندگی‘ گزارنے کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت سے دس ماہ تک ایک ہزار پونڈ ماہانہ امداد حاصل کرتے رہے۔

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے گورنر کو برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت حاصل ہے۔ ان کے بچے اب بھی برطانیا کے اس گھر میں ہی مقی\م ہیں جس کے بدلے وہ حکومت برطانیہ سے کرایہ حاصل کرتے تھے۔

سید شہزاد اکبر، جن کے نام اس مکان کی لیز ظاہر کی گئی انہوں نے متعلقہ برطانوی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرایہ وصول کرنے سے لے کر تمام معاملات میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا اور یہ تمام کام ان کے مطابق گورنر
کے بھائی خود کرتے تھے۔

انہوں نے اخبار کو مزید بتایا ہے کہ ’مالی معاملات میں ان کی کوئی شمولیت نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے کوئی پیسہ دیا تھا‘۔ سید شہزاد کے مطابق ’ یہ میری طرف سےمحسن العباد کو ایک فائدہ تھا کہ وہ میرا نام استعمال کریں‘۔

انہوں نے کہا کہ سن دوہزار ایک میں انہوں نے محسوس کیا کہ جو کچھ انہوں نے کیا وہ درست نہیں اس لیے انہیں اس معاملے سے علیحدہ ہونا چاہیے۔’سچی بات تو یہ ہے کہ میں ایک بھولا تھا،۔

سنڈے ٹیلی گراف کے مطابق گورنر سندھ کے برطانیہ میں وکیل سٹیو ہوریگن نے انہیں بتایا ہے کہ ’جب ان کے موکل اس گھر میں رہائش پذیر تھے تو وہ سمجھ رہے تھے کہ اس مکان کا مالک ڈاکٹر اکبر ہیں اور معاہدے کے مطابق انہیں ہی کرائے کی رقم ادا کی جاتی تھی‘۔

اس اخبار نے گزشتہ ہفتے بھی اس ضمن میں ایک خبر شائع کی تھی اور اور اس وقت جب انہوں نےگورنر سندھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ گورنر کا عہدہ سنبھالنے تک وہ سرکاری فنڈز وصول کرتے رہے ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے مذکورہ رقم برطانوی حکومت کو لوٹا دی ہے۔

سنڈے ٹیلیگراف کے مطابق ڈاکٹر عشرت العباد نے اخبار کو رد عمل دیتےہوئے کہا یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے ’چند ایک سو پونڈ‘ واپس کر دیے ہیں اور ’اس کے باوجود ان کے ذمے کسی قسم کے واجبات نکلتے ہیں تو وہ انہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

گورنر نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر انجانے میں کچھ ہوا ہے تو وہ اس کی تصحیح کرنے کی پوری کوشش کریں گے کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر حکومت برطانیہ کودھوکہ دینے کی کوئی کوشش نہیں کی۔‘

تاہم حکومت سندھ کے مشیر صلاح الدین حیدر نے لندن سے رابطہ کرنے پر پیر کے روز بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی اخبار ’سنڈے ٹیلی گراف‘ ایک منصوبے کے تحت گورنر سندھ کی کردار کشی کر رہا ہے اور حزب اختلاف کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ متعلقہ اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے بارے میں مشاورت کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ تاحال برطانوی حکومت نے متعلقہ رقم واپس کرنے کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا اور اگر کوئی رقم ڈاکٹر عشرت العباد کے ذمے ثابت ہوئی تو وہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ٹیلیگراف کی خبر میں مزید کہا گیا تھا کہ وہ، (ڈاکٹر عشرت العباد) حکومت برطانیہ کی طرف سے اپنے بیوی بچوں کی لندن میں رہائش کی مد میں دو سو چوالیس پونڈ فی ہفتہ کی رقم بھی لیتے رہے جبکہ ان کی اہلیہ شاہینہ، بھی سرکاری فنڈز وصول کرتی رہی ہیں اور جنہیں ’اعصابی دباؤ‘ کی مریضہ قرار دیا گیا تھا، ڈاکٹر خان کے کچھ اضافی رقم اس لیے بھی دی جاتی تھی کہ وہ اپنی اہلیہ کی کل وقتی دیکھ بھال کرتے تھے۔

ڈّاکٹر عشرت نے یہ بھی کہا کہ اکتوبر 2003 کے بعد سے ان سے رقم کی واپسی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔

واضع رہے کہ ڈاکٹر عشرت1992 میں ایک پناہ گزین کی حیثیت سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے اور 1999 میں سیاسی پناہ کے لیے اپنی درخواست کی منظوری کے بعد برطانیہ میں کئی طرح کی سرکاری امداد کے مجاز ہو گئے تھے۔1997 سے انہوں نے اپنے بیوی بچوں سمیت لندن میں ایجویئر کے علاقے میں رہائش اختیار کر لی اور مئی 1999 سے انکم سپورٹ پر چلے گئے جس کی وجہ سے وہ ہاؤسنگ بینیفٹ کے بھی مجاز ہو گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد