گورنر سندھ کی اسلام آباد طلبی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے صوبائی اور مرکزی حکومت میں وزراء کے استعفے پیش کیئے جانے سے پیدا ہونا والی سیاسی بحران مزید پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے اور وفاقی حکومت نے منگل کی رات کو ایم کیو ایم سے مزید کوئی رابط نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کی شام کو وزیر اعظم شوکت عزیز کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین، مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین، وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی، وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی اور وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد محمد علی درانی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ارباب غلام رحیم نے اپنے بیان کی وضاحت کر دی ہے اور اب یہ ایم کیو ایم پر ہے کہ وہ حکومت سے کب رابط قائم کریں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت نے ایم کیو ایم سے مذاکرات کرنے کے لیئے رابط کیا ہے یا وہ رابط کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو محمد علی درانی نے کہا کہ اب یہ فیصلہ کرنا ایم کیو ایم کا کام ہے کہ کب وہ حکومت سے رابط قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ارباب غلام رحیم نے منگل کی صبح پریس میں ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کراچی میں مسلم لیگ کی صوبائی جرنل کونسل کے اجلاس میں تقریر کی وضاحت کر دی تھی۔ دریں اثناء حکومتی ذرائع کے مطابق گورنر سندھ عشرت العباد کو فوری طور پر اسلام آباد طلب کر لیا گیا ہے۔ محمد علی درانی سے جب اس سلسلے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ گورنر کو وفاقی حکومت کے نمائندے کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور ان کو اسلام اباد طلب کیا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں اسلام آباد میں سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر یہ معاملہ طول پکڑ گیا تو گورنر کو تبدیل کر کے وفاقی حکومت صوبے میں گورنر راج بھی نافذ کرسکتی ہے۔ گورنر سندھ عشرت العباد منگل کی صبح صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سندھ کے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیئے بلائے جانے والے اجلاس میں شرکت کیئے بغیر واپس چلے گئے تھے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے ارباب غلام رحیم کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی چار رکنی مذاکراتی ٹیم کو بھی واپس کراچی طلب کر لیا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے لندن میں صدر جنرل مشرف کی طرف سے ایک اعلی فوجی افسر نے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین سے ملاقات کی تھی جس کے بعد ایم کیوایم کی شکایت کو دور کرنے کے لیئے منگل کی صبح اسلام آباد میں اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں عشرت العباد: نائن زیرو سےگورنر ہاؤس01.01.1970 | صفحۂ اول ’عشرت العباد، الزام غلط ہے‘26 June, 2005 | پاکستان عشرت کے خلاف مزید الزامات20 June, 2005 | پاکستان ’جان بوجھ کر دھوکہ نہیں دیا‘12 June, 2005 | پاکستان سندھ حکومت کو بحران کا سامنا22 May, 2006 | پاکستان وزیراعلٰی کے خلاف تحریک استحقاق23 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||