BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 November, 2006, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر: مشرف کے دورے پر ہڑتال

 بلوچستان احتجاج
اکبر بگٹی کے ہلاکت پر سارے ملک میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
صدر جنرل پرویز مشرف کے گوادر کے دورے کے دوران صوبہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں ہڑتال ہے۔

جنرل مشرف آج (جمعرات) کے روز بلوچستان کے عمائدین سے ملاقات کے لیے گوادر جا رہے ہیں۔

گوادر سے نیشنل پارٹی کے مرکزی قائدین میر حاصل بزنجو اور ملا برکت کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کا بلوچستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس دورے کے دوران وہ تربت میں میرانی ڈیم اور گوادر میں ایک ہوٹل کا افتتاح کریں گے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے اس دورے کے حوالے سے نیشنل پارٹی نے صوبہ بھر میں احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔ بلوچستان میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی دیگر جماعتوں نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کوئٹہ خضدار، تربت، حب، گوادر اور دیگر علاقوں میں دکانیں اورکاروباری مراکز بند ہیں۔

نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی جان محمد بلیدی نے بتایا ہے کہ ان کی جماعت کے مرکزی قائدین میر حاصل بزنجو اور ملا برکت کو رات گئے ان کی رہائش گاہوں سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

گوادر میں نیشنل پارٹی نے صدر جنرل پرویز مشرف کے دورے کے دوران احتجاجی جلسے اور جلوس کا اعلان کیا تھا جس کی قیادت نیشنل پارٹی کے مرکزی قائدین نے کرنی تھی۔

اس بارے میں گوادر کے ضلعی پولیش افسر کیپٹن عاصم سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’ان قائدین کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے شام تک آپ دونوں قائدین سے ٹیلیفون پر بات کر سکتے ہیں۔‘

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان بھر میں بے یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے جبکہ وفاقی حکومت مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کر پائی۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے اس دورے کو پہلے سرکاری جرگے کا نام دیا گیا تھا جس میں صدر پرویز مشرف نے بلوچستان کے قبائلی رہنماؤں سے خطاب کرنا تھا۔

لیکن بعد میں یہ جرگہ جرگہ نہیں رہا بلکہ صدر کا مقامی عمائدین سے خطاب ہو گیا ہے۔ حکومت مخالف قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سرکاری جرگے میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا جس وجہ سے حکومت نے اپنا ارادہ تبدیل کیا ہے۔ یاد رہے اس جرگے کا اعلان خان آف قلات کے بلائے گئے قلات اور کوئٹہ کے جرگوں کے بعد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
چھاؤنیاں کہاں اورکیوں؟
21 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد