BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 October, 2006, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر: اربوں روپے ڈوبنے کا خدشہ

گوادر
بلوچستان میں غیر مقامی لوگوں کو زمینوں کی الاٹمنٹ کے خلاف شدید غُصّہ پایا جاتا تھا
بلوچستان کے علاقے گوادر میں صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سےمتعلق سپریم کورٹ کے فیصلے بعد الاٹ اور فروخت ہونے والی اربوں روپوں کی ہزاروں ایکڑ زمینوں کے بارے میں ابہام پیدا ہو گیا ہے۔

یہاں ماضی میں سرکاری زمینوں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری زمینوں کی خرید و فروخت میں بھی بڑے پیمانے پر ’خُرد برد اور غیر قانونی طریقے‘ استمال ہوئے ہیں یعنی ایک ایک زمین کئی بارمختلف لوگوں کے ہاتھوں فروخت ہوچکی ہے جس کے باعث سپریم کورٹ کے فیصلے سے اربوں روپے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

گوادر میں 4 لاکھ ایکڑ سرکاری اراضی ہے جو حکومت پاکستان نے 1952 میں سلطنت اومان سے خریدا تھی کیونکہ اس قبل گوادر سلطنت اومان کا حصہ تھا لیکن پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد گوادر کو پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ 1970 میں ون یونٹ ٹوٹنے اور بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے بعد گوادر بلوچستان کا حصہ بن گیا۔

گوادر میں سرکاری اراضی کے مقابلے میں مقامی لوگوں کی زمین کا رقبہ ہزاروں ایکڑ میں ہے لیکن گوادر پورٹ کی تعمیر کے کام کے آغاز کےساتھ ہی جہاں ایک طرف مقامی لوگوں نے اپنی زمینوں فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کیا وہاں دوسری جانب حکومت بلوجستان نے بھی اونے پونے داموں سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ کا آغاز کیا اور سال 2001 سے اب تک ’حکومت ہزاروں ایکڑ اراضی غیرقانونی طورپر حاضراور ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں، سیاستدانوں، ججوں، وکلاء، صحافیوں، تاجروں اور دیگر بااثر افراد کوالاٹ کر چکی ہے‘۔

زمینوں کی الاٹمنٹ کی اسی کڑی کی بنیاد پر زھرہ بی بی اور ان کے 103 دوسرے رشتہ داروں کوایک مقامی قاضی نے ہزاروں ایکڑ زمین الاٹ کی تھی۔

زہرہ بی بی نے زمین حاصل کرنے کے لیے‎ جب کوئٹہ میں محکمہ ریونیو سے رابطہ کیا تو ممبر بورڈ آف ریوینیو خواجہ محمد نعیم نے کہا کہ گوادر کی سرکاری زمین عوام کی ملکیت ہے اور کسی کوحق نہیں کہ وہ سرکاری زمین اپنے نام الاٹ کرے۔

جس کے بعد زہرہ بی بی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جہاں عدالت نے خواجہ نعیم کے موقف کی تائید کرتے ہوئے سرکاری زمین الاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو زھرہ بی بی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ـ

اطلاعات کے مطابق سال 2005 میں صوبائی حکومت نےاس شرط پر مذکورہ خاتون کو ایک لاکھ 20 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے 41 سوایکڑ زمین دینے کا فیصلہ کیا تا کہ وہ اپنا کیس عدالت اعظمی سے واپس لے لے۔ کیس کی واپسی کے بعد ممبر بورڈ آف ریوینیو خواجہ نعیم نے ایک بار پھر زمین دینے سے انکار کیا تو زھرہ بی بی نے دوبارہ سپریم کورٹ میں اپیل کی۔

اس دوران صوبائی حکومت نے احکامات کی تکمیل نہ کرنے کی بنیاد پرخواجہ نعیم کو اپنے کرسی سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا جبکہ سپریم کورٹ نے گوادر کیس میں معاونت کے لیے خواجہ نعیم کو ہر پیشی پرعدالت میں حاضرہونے کا حکم دیا تھا۔

بالآخر سپریم کورٹ کے جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس راجہ فیاض احمد نے سنیچر کو ارکانِ قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹروں اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران تمام سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے کر اس کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

اس سلسلےمیں حکومت بلوچستان کے ترجمان رازق بگٹی نےکہا کہ یقیناً صوبائی حکومت سپریم کورٹ کے اس فیصلے خلاف نہیں جائےگی اور اگر کہیں پر کوئی بے ضابطگی یا کوتاہی ہوئی اس کو قانو ن کے مطابق لانے کی کوشش کریں گے ان کے مطابق موجودہ صوبائی حکومت سے پہلے بھی کہیں سرکاری زمین الاٹ ہوچکی ہیں اس کے بارے میں بھی تحقیقات کی جائیں گی اور سپریم کورٹ کے فیصلے پرعملدرآمد کو یقینی بنایا جائےگا۔

اسی بارے میں
قبضہ گروپ کےخلاف کارروائی
01 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد