BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 October, 2006, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر: زمین کی الاٹمینٹ منسوخ

بلوچستان کے قوم پرست رہنما سپریم کورٹ کے فیصلے سے خوش ہوں گے
پاکستان کے سپریم کورٹ نے بلوچستان کے علاقے گوادر میں حکومت کی جانب سے سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ کوغیرقانونی قراردے کر فوری طور پر ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، سنیٹروں اور حکومتی عہدیداروں کے نا م الاٹ کیےگیے صوبائی حکومت کے احکاما ت منسوخ کردیے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججوں جٹس جاوید اقبال اور جٹس راجہ فیاض پرمشتمل ڈویژن بینچ نے یہ حکم سنیچر کے روز کوئٹہ میں گوارد میں زمینوں کی الاٹمنٹ سے متعلق ایک آئینی درخواست پردی جوگوادر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون زہرہ بی بی نے دائرکی تھی۔

اس میں موقف اختیارکیا گیا تھا کہ ان کی 4100 ایکڑ زمین حکومت سے دلای جائے جو وزیراعلی بلوچستان نے پہلے ان کے خاندان کوالاٹ کی تھی۔ اس پر سپریم کورٹ نے گوادر میں زمینوں سے متعلق تمام ریکارڈ صوبائی حکومت سے طلب کرلی۔

صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانےوالے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، سینٹروں کے ساتھ ساتھ موجودہ اور سابقہ حکومتی افسروں کے نام الاٹ کیےگیے زمینوں کے تمام احکامات منسوخ کردیے۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا ہے کہ وزیراعلی بلوچستان کو سرکاری زمین کسی کو دینے کا اختیار نہں ہے۔

صوبائی حکومت کو ہدایت
 سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گیے نو صفحات پرمشتمل اس حکم میں صوبائی حکومت کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر ان تمام فیصلوں کی تفصیلات عدالت عالیہ میں پیش کرے جوگزشتہ پانچ سالوں میں زمینوں سے متعل‍‍ق قاضی یا شوری کےعدالتوں نے کیے ہیں۔
اس کےعلاوہ عدالت نے گوادر کی زمینوں سے متعلق پانچ سال کی ریکارڈ بھی طلب کی ہے، ساتھ ساتھ تحصلدار، پٹواری اوران دیگر سرکاری عہدیداروں کی تفصیلات بھی مانگ لیے ہیں جو وہاں وہاں گزشتہ پانچ سالوں سے کام کررہے ہیں۔

کوئٹہ میں سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ نے بلوچستان کے سیکٹری قانون کو گوادرکے اس تحصلدار کے خلاف بھی محکمانہ کاروائی کرنے کی ہدایت کی ہے جس نے پٹواری کی غیرموجودگی میں سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ کی ہے۔

اس کے علاوہ اس ریونیو افسرکوہٹانے کیلیے بھی کہا گیاہے جس کی موجودگی میں زمینوں کی آلاٹمنٹ ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گیے نو صفحات پرمشتمل اس حکم میں صوبائی حکومت کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر ان تمام فیصلوں کی تفصیلات عدالت عالیہ میں پیش کرے جوگزشتہ پانچ سالوں میں زمینوں سے متعل‍‍ق قاضی یا شوری کےعدالتوں نے کیے ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس فیصلے میں گوادرمیں فوجی جرنیلوں، ججوں، وکلاء، صحافیوں، حکومتی عہدیداروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دیگر بااثرافراد کوالاٹ شدہ زمینوں کےبارے میں کچھ نہں کہاگیا ہے۔

یادرہے کہ زیادہ تربلوچ قوم پرست رہنما پہلے ہی گوادر پورٹ اور زمینوں کی الاٹمنٹ کےخلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت کے اس اقدام سے یہاں کی بلوچ آبادی اقلیت میں تبدل ہوجائے گی کیونکہ حکومت ایک منصوبے کے تحت دوسرے صوبوں سے لوگوں کولاکر یہاں بساناچاہتی ہے۔

اسی بارے میں
گوادر میں زور دار دھماکے
12 September, 2004 | پاکستان
گوادر میں خصوصی اقتصادی زون
10 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد