’اب پارلیمانی کمیٹی میدان میں آئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوادر میں زمین کی الاٹمنٹ کی چھان بین کے لیئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے رکن کچکول علی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ثمرات عام افراد تک پہنچانے کے لیئے کمیٹی کو لوگوں کے خدشات اور اعتراضات سننے چاہئیں۔ حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمانی کمیٹی موثر کردار ادا کرتی تو ان لوگوں کو ریلیف پہنچتا جو عدالت تک نہیں جاسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ججوں کو زمین کی الاٹمنٹ رد کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب حکومت خود ہی مالی بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں میں ملوث ہوجائے اور لوگوں کے مفادات کا تحفظ نہ کرے تو پھر لوگ عدالت کا سہارا لیتے ہیں۔ کچکول علی کے مطابق اس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں اس بات اتفاق رائے پیدا ہوا گیا تھا کہ ہزاروں ایکڑ زمین کی چھان بین سے قبل جن اشخاص کو سو سو ایکڑ زمین الاٹ کی گئی ہے ان کی چھان بین کی جائے کہ یہ کون ہیں، ان کا کس جگہ سے تعلق ہے اور انہیں کس طرح زمین الاٹ کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجویز پر کمیٹی نے اتفاق کیا بعد میں لینڈ مافیا نے اپنے پسندیدہ افراد کے لیئے ایک ایک سو ایکڑ زمین کا بندوسبت کرلیا تو وہ اس تجویز سے مکر گئے۔ کچکول علی نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل کچھ اراکین کا خیال تھا کہ اگر بلے چات اور زبادڈن علاقوں میں الاٹمنٹ کو منسوخ کیا جاتا ہے تو پھر گوادر کی تمام الاٹمنٹ کو بھی منسوخ کیا جائے۔ ’ہم نے کہا کہ یہ عقل کے خلاف ہے وہاں جن کی جائز زمین ہے ان کو منسوخ نہ کیا جائے جس پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جن وزراء اور حکومتی حکام نے لینڈ مافیا کے ذریعے زمین حاصل کی ہے، ہم ان کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گودار کے علاقے بلے چات اور زبادڈن کی الاٹمنٹ رد کی جائے کیونکہ ان علاقوں میں لینڈ مافیا نے زیادہ تر پنجاب اور سندھ کے لوگوں کو بااثر افراد کو زمین الاٹ کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں بااثر افراد نے چھ ہزار ایکڑ کے قریب زمین عوام سے سستے دام خرید کر اپنے نام کروائی ہے جس کو منسوخ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مقامی افراد کے پاس اپنی زمینوں کے کاغذات موجود ہیں۔ رسم و رواج کے مطابق اس اراضی کی ڈی مارکیشن بھی کی ہوئی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر زبیدہ جلال، محکمہ خزانہ اور محکمہ بلدیات کے وزراء اور اپوزیشن رہنما ایڈووکیٹ کچکول علی پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی اب تک کسی اتفاق رائے پر نہیں پہنچ سکی ہے۔ | اسی بارے میں الاٹمنٹ: بلوچ رہنماؤں کا خیرمقدم21 October, 2006 | پاکستان قبضہ گروپ کےخلاف کارروائی01 December, 2005 | پاکستان گوادر: اربوں روپے ڈوبنے کا خدشہ 22 October, 2006 | پاکستان کوہلو کے بعد مند، گوادر میں دھماکے10 April, 2006 | پاکستان گوادر: پولیس تھانے میں دھماکہ06 May, 2006 | پاکستان گوادر: زمین کی الاٹمینٹ منسوخ21 October, 2006 | پاکستان اومان گوادر پورٹ کی مکمل حمایت 03 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||