BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 April, 2006, 14:31 GMT 19:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اومان گوادر پورٹ کی مکمل حمایت

یوسف بن عبداللہ
وزیر خارجہ یوسف بن علاوی بن عبداللہ نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ گوادر پورٹ بننے سے خلیجی ممالک خوش نہیں ہیں
خلیجی ریاست اومان کے وزیر خارجہ یوسف بن علاوی بن عبداللہ نے گوادر پورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے پاکستان سے تعاون کا اعلان کیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں اپنے ہم منصب خورشید محمود قصوری سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ گوادر پورٹ بننے سے خلیجی ممالک خوش نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ سجھتے ہیں کہ گوادر کی بندرگاہ بننے سے بلوچستان وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کی تجارت کے لیے ایک بڑی گزر گاہ بن جائے گا اور علاقے میں خوشحالی آئے گی۔

واضح رہے کہ گوادر کا علاقہ سن سترہ سو تراسی سے اومان کی سلطنت کا حصہ رہا اور انیس سو پچپن میں جب مکران مغربی پاکستان کا ضلع بنا تو یہ علاقہ اس کی تحصیل تھا۔

گوادر کے کئی بلوچوں کا دوسرا گھر مسقط سمجھا جاتا ہے اور اومان کی فوج میں بھی زیادہ تر بلوچ گوادر اور گرد و نواح کی ساحلی پٹی سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔

گوادر اور پسنی کی چھ سو کلومیٹر ساحلی پٹی کے رہائشی کھانے پینے سمیت زیادہ تر اشیاء ایران اور اومان کی استعمال کرتے ہیں۔

گوادر پورٹ بنانے کے لیے ماضی میں اومان کی حکومت نے دس کروڑ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا تھا اور اس میں سے دو کروڑ ڈالر وہ فراہم بھی کرچکے لیکن بعد میں کام بند ہونے کی وجہ سے باقی رقم نہیں مل سکی اور اس بارے میں اومان کے وزیر خارجہ نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ بقایا رقم دینے پر وہ غور کریں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کی دعوت پر اسلام آباد کا دورہ کرنے والے اومان کے وزیر خارجہ نے ویسے تو عالمی، علاقائی اور دیگر دو طرفہ امور پر پاکستان سے بات چیت کی لیکن بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ انہیں اس دورے کی دعوت کا مقصد گوادر پورٹ کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے۔

دونوں ممالک میں تعلیم، تجارت، اقتصادیات اور دفاعی امور میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے

دونوں وزارء خارجہ نے ملاقات کے بعد مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔ جس میں دونوں ممالک نے ایران کے خلاف جبری اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے معاملہ بات چیت کے ذریعے پرامن انداز میں حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خورشید محمود قصوری نے اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے بارے میں اومان کے وزیر سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ مہمان وزیر سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن، فلسطین کی نئی حکومت، عراق میں تشدد اور ایران کے جوہری معاملات سمیت کئی معاملات پر کھل کر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کی جاری بات چیت میں پیش رفت کے بارے میں بھی مہمان کو صورتحال سے مطلع کیا گیا۔

قصوری نے بتایا کہ دونوں ممالک میں تعلیم، تجارت، اقتصادیات اور دفاعی امور میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے جب کہ انہوں نے مہمان وزیر کو گوادر پورٹ پر ’سٹوریج اور ویئر ہاؤس‘ تعمیر کرنے کی پیشکش کی ہے۔

انہوں نے سینکڑوں پاکستانی بلوچوں کو اومان میں آباد کرنے اور حالیہ زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے امداد دینے پر اومان کے بادشاہ سلطان قابوص بن سعد السعد کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اسی بارے میں
گوادر: شکوے، شکایتیں، خدشات
17 February, 2005 | پاکستان
گوادر، ترقی یا کالونائزیشن
17 February, 2005 | پاکستان
گوادر میں خصوصی اقتصادی زون
10 February, 2005 | پاکستان
گوادر میں زور دار دھماکے
12 September, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد