BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 May, 2005, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چینی وزیر اعظم گوادر کیوں نہ گئے

News image
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار جہانگیر ترین نے آج لاہور میں انکشاف کیا کہ اس سال اپریل کے شروع میں پاکستان کا دورہ کرنے والے چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ گوادر کی بندرگاہ کا افتتاح اس لیے نہیں کرسکے کہ ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی گوادر کے ائرپورٹ کو اس قابل نہیں بناسکی تھی کہ وہاں فوکر سے بڑا جہاز اترسکے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے وزیراعظم نے فوکر میں سفر کرنے سے انکار کردیا تھا۔

وفاقی وزیر صنعت نے آج لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں کاروباری حضرات سے سرکاری پالیسیوں پر خطاب کیا اور ان کے سوالوں کے جواب دیے۔

وفاقی وزیر سے کہا گیا کہ لاہور ائرپورٹ پر دو سال سے کسی کارگو ٹرمینل کے بغیر کام ہورہا ہے اور ائرپورٹ پر سول ایوی ایشن اتھارٹی درآمدات اور برآمدات پر ٹھیکہ دار کے ذریعے بہت زیادہ شرح سے کارگو ٹیکس وصول کررہی ہے تو اس کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حالات کا اندازہ ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ گوادر ملک کا اتنا اہم میگا پراجیکٹ ہے اور چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ نے اس کا افتتاح کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے کہا گیا کہ گوادر کے ائرپورٹ کو اس قابل بنائے کہ وہاں فوکر کے علاوہ بڑا طیارہ بھی اتر سکے تو یہ اتھارٹی ایسا کرنے میں ناکام رہی اور چین کے وزیراعظم گوادر بندرگاہ کے افتتاح کے لیے وہاں نہ جاسکے۔

اس سے پہلے چین کے وزیراعظم کے گوادر کے افتتاح کے لیے نہ جاسکنے کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی گئیں تھیں اور کہا گیا تھا کہ شائد وہ اس لیے گوادر نہیں گئے کہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کی وجہ سے سیکیورٹی کے خطرات تھے۔

وفاقی وزیر نے آج لاہور چیمبر آف کامرس میں کہا کہ حکومت نے اعلی سطح پر فیصلہ کرلیا ہے کہ اسٹیل ملز کی نج کاری کی جائے گی کیونکہ کاروبار چلانا حکومت کا کام نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک یہ سوچ تھی کہ اسٹیل ملز قومی اثاثہ ہے لیکن یہ قومی اثاثہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے پورا انجینئرنگ کا شعبہ خراب ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اثاثہ کاروباری حضرات ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں گزشتہ پچیس سال سے صنعتی شعبہ کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ اٹھارہ فیصد ہے جبکہ کوریا میں اس کا تناسب چالیس فیصد، ملائشیا میں تیس فیصد اور انڈونیشیا میں پچیس فیصد ہے۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ ان کی وزارت نے اگلے پانچ سال میں ملک کی پیداوار میں صنعتی شعبہ کا تناسب پچیس فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور امید ہے کہ وفاقی کابینہ اس کی منظوری دے دی گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت دو کروڑ لوگ افراد کا روزگار صنعت سے وابستہ ہے اور اس اگر اس تناسب کو اٹھارہ سے پچیس فیصد پر لانے کے لیے صنعتی شعبہ میں کام کرنے کے لیے مزید ایک کروڑ لوگوں کی ضرورت ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر ہنر مند افراد کی تربیت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے تمام ہنر سکھانے والے ادارے سالانہ دو لاکھ افراد کو تربیت دے رہے ہیں جبکہ اس تعداد کو دو لاکھ سے دس لاکھ کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے حکومت خصوصی کوششیں کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صنعتی ترقی کے لیے ٹیکس مراعات کا زمانہ ختم ہوگیا ہے اور ہنر مند افراد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مقصد کے لیے ڈھائی ارب روپے سے ایک کمپنی بنا رہی ہے جسے ٹیکنالوجیکل اپ گریڈیشن اور سکل ڈیویلپمینٹ کارپوریشن کا نام دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے صنعت نے کہا کہ انیس سو پچاس سے ملک میں چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی نعتوں کا ملکی پیداوار میں حصہ ساڑھے چار فیصد سے نہیں بڑھا۔

انہوں نے کہا کہ اس شعبہ کو ترقی دینے کے لیے حکومت سنگ مرمر، ڈیری اور قیمتی پتھروں اور زیورات کی صنعتوں کی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کا منصوبہ کامیاب ثابت ہوا ہے جس میں لوگوں نے بہت دلچسپی لی۔انہوں نے کہا کہ اگلے چھ ماہ میں یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا اور یہاں ون ونڈو آپریشن کے تحت کاروباری اداروں کو تمام سہولتیں ایک چھت تلے دی جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی میں ساحل کے پاس اسٹیل ملز کی زمین پر اور پشاور اور فیصل آباد میں بھی سندر اسٹیٹ ایسی انڈسٹریل اسٹیٹس بنائی جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں یکساں ترقی کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے دیہات میں صنعتیں لگانے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ درست ہے کہ کاروباری طبقہ وفاقی سطح پر کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے کہہ رہا ہے جبکہ اعلی عدلیہ نے اس کی مخالفت کی اور اب حکومت نے اس منصوبہ کو ترک کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہائی کورٹس میں اصلاحات ہوجائیں تو ایسے مقدمات کی سماعت میں خاصی بہتری آسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد