’وردی میں ملبوس جمہوریت ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ صدر مشرف جمہوریت اور پارلیمنٹ کو استعمال کر رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ پارلیمنٹ کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے اور یہ وردی میں ملبوس جمہوریت ہے۔ یہ بات انہوں نے کراچی میں اتوار کی شام قائد اعظم کے مزار کے سامنے ’مجلس تحفظ حدود اللہ‘ کی جانب سے علماء دین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں پورے پاکستان سے مذہبی رہنماؤں کے علاوہ ایم ایم اے کی قیادت نے بھی شرکت کی۔ جلسہ میں مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے حقوق نسواں قانون کے خلاف پندرہ دسمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا جس کی متحدہ مجلس عمل نے بھی حمایت کی ہے۔ اس احتجاجی جلسے میں کراچی کے مدرسوں میں زیر تعلیم طلبہ سمیت ہزاروں مذہبی کارکن شریک تھے جو حکومت اور حقوق نسواں قانون کی منظوری کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین سے ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، مجلس تحفظ حدود اللہ کے رہنما قاری حنیف جالندھری، پروفیسر غفور احمد، محمد اجمل قادری، مفتی زر ولی، عمر صادق اور دیگر نے خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حقوق نسواں بل منظور کرکے پارلیمان کی اکثریت کو قرآن اور سنت کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتیں حقوق نسواں قانون پر عملدرآمد کی مزاحمت کریں گی اور اس کو واپس لینے پر مجبور کیا جائےگا۔ انہوں نے ایم ایم اے میں اختلافات کے الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلس عمل منظم اور موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج پر متفق ہے۔ مجلس تحفظ حدود اللہ کے رہنما قاری حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر اس قانون کی مخالفت کر رہی ہیں لیکن اگر ایسا ہوتا تو بینظیر بھٹو اور امین فہیم حکمرانوں کی جھولی میں جاکر نہ بیٹھتے۔ انہوں نے کہا یہ خالص مذہبی معاملہ ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ بل کی منظوری والے دن حکمران جماعت کے چھالیس ممبران غیر حاضر رہے تھے۔ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ علماء کے ایم کیو ایم سے مذاکرات مثبت رہے ہیں۔ قاری حنیف کا کہنا تھا کہ حقوق نسواں کا قانون عورتوں کے تحفظ کا نہیں بلکہ خواتین سے زیادتی کا قانون ہے۔ جلسے میں علماء نے اتفاق کیا کہ چودہ دسمبر کو لاہور میں آل پارٹیز کافنرنس منعقد کی جائےگی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔ | اسی بارے میں نسواں قانون، ماڈریشن کی جیت08 December, 2006 | پاکستان جے یو آئی: استعفوں کا فیصلہ ترک06 December, 2006 | پاکستان استعفوں کا فیصلہ 6 دسمبر کو16 November, 2006 | پاکستان اپوزیشن: استعفیٰ، تحریک کے دعوے08 November, 2006 | پاکستان تحفظِ حقوقِ نسواں بل قانون بن گیا 01 December, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بِل کے خلاف مظاہرہ25 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||