جے یو آئی: استعفوں کا فیصلہ ترک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کی بڑی اتحادی پارٹی جمعیت علمائے اسلام نے پارلیمان سے مستعفی ہونےکا اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے اعلان کیا ہے کہ حقوق نسواں بل کے خلاف جے یوآئی کےاراکین مستعفی ہونے کی بجائے حکومت کےخلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ جے یوآئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس اس فیصلے کے ساتھ اختتام پذیر ہواہوگیا ہے جس کے بعد مجلس عمل کی سپریم کونسل کااجلاس شروع ہوا جس میں اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہ شریک ہوئے۔ مجلس عمل کے سربراہ او رامیرجماعت اسلامی قاضی حسین احمد پارلیمان سے استعفٰی کے شدید حامی ہیں اور جے یوآئی کے اس نئے فیصلے کے بعد سپریم کونسل کا اجلاس کشیدگی کے ماحول میں ہورہا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے ترجمان مسٹر شمسی نے بی بی سی کو بتایا کہ اتحاد کی سپریم کونسل کا اجلاس جمعرات کی دوپہر تک جاری رہے گا اور شام چار بجے ایک بریفنگ میں فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جے یوئی آئی کا موقف یہ ہے کہ پہلے حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے پھر استعفے دیئے جائیں جبکہ جماعت کا کہنا ہے کہ پہلے استعفے دیئے جائیں اور پھر تحریک چلائی جائے۔ جے یوآئی ف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جے یوآئی کی مرکزی مجلس شوریٰ اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس دوروز جاری رہنا تھا لیکن بدھ کو ہنگامی طور پرتیسرے روز بھی اجلاس بلایا گیا۔ اس میں عبدالغفورحیدری نے چاروں صوبوں کی شوری اور مجلس عاملہ کی رپورٹ پیش کی جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جے یوآئی کےاراکین مستعفی نہیں ہونگے۔
جے یوآئی کے اس نئے فیصلے سے مجلس عمل کی دوبڑی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی میں اختلافات اورکشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان کررہے تھے جنہوں نے فیصلے کی توثیق کی اور اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ اگر پوری اپوزیشن مستعفی ہوگی تواس سے ملک میں بحران پیدا ہوسکتا ہے اور ایک نئے مارشل لا کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان سے پیپلز پارٹی،مسلم لیگ نواز سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے رابطہ کرکے اس موقع پر استعفے نہ دینے کا کہا تھا۔ جے یوآئی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حقوق نسواں بل کے خلاف پارلیمان کے اندر اورباہر بھر پوراحتجاج کیا جائے گا اور اس سلسلے میں عوام کو بیدار کرنے کے لیے ایک مہم چلائی جائے گی۔ جے یوآئی کے ترجمان نے کہا کہ جے یوآئی حکومت مخالف کارواں نکالے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہاکہ جے یوآئی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مجلس عمل کے اتحاد کو یقینی بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے حقوق نسواں بل کو جے یوآئی اور ان کی اتحادی جماعتوں نے غیراسلامی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف ایوان سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ جے یوآئی کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد تو یہ تک کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کی جماعت نہ بھی مانی تو بھی وہ کبھی قومی اسمبلی نہیں جائیں گے۔ جماعت اسلامی استعفوں کے حق میں ہے اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ان کا مستعفی ہونے کا فیصلہ حتمی ہے اور مجلس کے اراکین استعفی ہونے کے بعد رابطہ عوام مہم چلائیں گے۔ جے یوآئی کے نئے فیصلے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کی احتجاج کی سیاست اب کیا نیا رخ اختیار کرتی ہے۔ | اسی بارے میں استعفوں کا فیصلہ 6 دسمبر کو16 November, 2006 | پاکستان قاضی سمیت ایم ایم اے کے رہنما رہا30 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بِل کے خلاف مظاہرہ25 November, 2006 | پاکستان ایم ایم اے کا کراچی میں مظاہرہ26 November, 2006 | پاکستان لاہور: لاٹھی چارج اورگرفتاریاں30 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||