ایم ایم اے کا کراچی میں مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں متحدہ مجلس عمل کی جانب سے حقوق نسوان بل کے خلاف تحفظ حدود اللہ کے نام سے مارچ کیا گیا۔ اتوار کی شام گرو مندر سے شروع ہونے والےاس مظاہرے مں ایم ایم اے کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی۔ کارکنوں نےہاتھوں میں بینرزاور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پرقرآن اور سنت کے منافی قانون نامنظور، حدود آرڈیننس میں ترمیم اللہ سے بغاوت تحریر تھا۔ مارچ ایم اے جناح روڈ سے ہوتا ہوا، سی بریز پلازہ پہنچا جہاں حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے استعفوں کا فیصلہ حتمی ہے، اور انہیں امید ہے کہ نواز لیگ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی ایم ایم اے کے ساتھ استعفے دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کو حکومت کی بی ٹیم کہنے والی بے نظیر بھٹو آج جنرل مشرف کی اے ٹیم بنی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی نےحقوق نسواں بل کی حمایت کرکے عوام سے دھوکہ کیا ہے۔ اب نواز لیگ کو فیصلہ کرنا چاہیئے کہ ان کو کس کا ساتھ دینا ہے۔ حافظ حسین کا کہنا تھا کہ عوام اسلام کے خلاف کسی بل کو قبول نہیں کرینگے، اسلام کے خلاف بولنے والوں کا ہرمحاذپر مقابلہ کیا جائیگا۔ ایم ایم اے کے رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ پارلیامنٹ سے استعفوں کے بعد جرنیلی آمریت کوالوداع کہا جائیگا، مشرف کی حکمرانی اب زیادہ دن نہیں چل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایک بھی مسلمان زندہ ہے پاکستان اسلامی ریاست ہی رہے گا۔ | اسی بارے میں ’فوجی نصب العین سے انحراف‘22 September, 2006 | پاکستان تعلیمی اسناد مقدمہ، علماء کو نوٹس19 September, 2006 | پاکستان بمباری: حکومت مخالف مظاہرے31 October, 2006 | پاکستان استعفوں کا فیصلہ 6 دسمبر کو16 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بِل کے خلاف مظاہرہ25 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||