BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 September, 2006, 09:50 GMT 14:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعلیمی اسناد مقدمہ، علماء کو نوٹس

جن اہم رہنماوں کے انتخاب کو اسناد کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے ان میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان، حافظ حسین احمد اور مرحوم شاہ احمد نورانی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں منگل کے روز ایک آئینی درخواست پر جس میں مذہبی رہنماوں کی مدرسہ اسناد کی بنیاد پر پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے لیئے منتخب ہونے کو چیلنج کیا گیا تھا ان علماء کو عدالت میں پیش ہونے کے لیئے دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

ڈاکٹر اسلم خاکی کی یہ آئینی درخواست عدالت کے پاس سن دو ہزار تین سے زیر سماعت ہے۔

آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی (3) کے تحت دائر اس درخواست میں مدعی نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگرچہ حکومت نے مدراس کی اسناد کو ایم اے کی ڈگری کے برابر قرار دیا ہے تاہم یہ برابری صرف تدریس اور وہ بھی صرف عربی اور اسلامی تعلیمات کے مضامین کی حد تک تھی۔

مدعی کا مزید کہنا تھا کہ یہ اسناد انتخاب لڑنے کے ساتھ کسی اور مقصد کے لیئے استعمال نہیں کی جا سکتیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل کے اڑسٹھ منتخب اراکین نے گزشتہ عام انتخابات ان ہی اسناد کی بنیاد پر لڑے ہیں لہذا انہیں نااہل قرار دیا جائے۔

مذہبی اتحاد کے جن اہم رہنماوں کے انتخاب کو اسناد کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے ان میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان، حافظ حسین احمد اور مرحوم شاہ احمد نورانی شامل ہیں۔ جن اراکین کے انتخاب کو چیلنج کیا گیا ہے انہوں نے اس کیس کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جس میں چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس سعید سید اشہد نے منگل کو جب سماعت شروع کی تو عدالت نے مدعا علیہ کی غیرحاضری کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

ڈاکٹر اسلم خاکی نے اس مقدمے میں وفاق پاکستان، سپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فریقِ دوئم بنایا ہے۔ آج وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اس مقدمے میں خود دلائل دینے کی استدعا کی۔

اگر وہ عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو یہ کسی وفاقی وزیر کی جانب سے پہلی مرتبہ اپنا موقف خود پیش کرنے کا واقعہ ہوگا۔

بعد میں عدالت نے اس کیس کی سماعت نومبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں
سپریم کورٹ جانے کی تیاری
04 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد