’فوجی نصب العین سے انحراف‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی پارلیمانی قائد حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے افغانستان کے خلاف جنگ کے لیے امریکی دھمکی کے سامنے جھک کر پاکستان فوج کے ماٹو یعنی نصب العین سے انحراف کیا ہے۔ جمعہ کو اسلام آباد میں پاپائے روم کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جنرل مشرف کے اس بیان پر تبصرہ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ پاکستان نے اگر افغانستان میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو اسے بمباری کرکے پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔ حافظ حسین احمد نے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں سخت الفاط استعمال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی دھمکی میں آکر افغانستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور پاک فوج کے اس ماٹو سے انحراف کیا ایمان جس کا لازمی جزو ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے جمعہ کو آپ پارہ چوک میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا جس میں چند سوافراد شریک ہوئے جن میں زیادہ تر جماعت اسلامی کے کارکن اور ایک مدرسہ کے طلباء تھے۔ جلسہ میں پوپ، امریکہ اور جنرل مشرف کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ مقررین نے پوپ سے زیادہ تنقید جنرل پرویز مشرف پر کی جو ان کے مطابق امریکی مقاصد کے لیے کام کررہے ہیں۔ حافط حسین احمد نے قسم کھا کر کہا کہ اگر پوپ ان کے ہاتھ لگ گئے تو وہ انہیں اس چوک میں صلیب پر لٹکا دیں گے۔ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ پر بھی تنقید کی کہ اس نے کچھ کاغذ پھاڑنے پر ایم ایم اے کے خلاف مظاہرہ تو کیا لیکن اب پوپ کے بیان پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔ حافظ حسین احمدنے کہا کہ ان کےاتحاد نے جنرل پرویز مشرف کو حدود قوانین میں ترامیم اسمبلی سے منظور نہیں کرانے دیں ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حدود اللہ میں ترامیم صرف ایم ایم اے کے رہنماؤں کی لاشوں پر سے گزر کر ہی کی جاسکتی ہے۔ حافظ حسین احمد نے یہ پیشین گوئی بھی کی کہ جنرل مشرف کے دن گنے جاچکے ہیں۔ انہوں نے فوج کے جرنیلوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ جنرل مشرف کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا دیں۔ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک نے کہا کہ حکومت کے حقوق نسواں بل میں عورتوں کو صرف ایک حق دیا گیا ہے کہ وہ زنا کرسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج مسلمانوں پر افغانستان، عراق، لبنان اور کشمیر میں جو مصیبت آئی ہوئی ہے اور توہین آمیز خاکوں اور پوپ کے بیان کے ذریعے اسلام اور پیغمبر اسلام کی جو توہین کی گئی ہے اس کے ذمہ دار جنرل مشرف ہیں جو امریکہ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ جلسہ کے شروع اور اختتام پر درجنوں خواتین نے بھی مظاہرہ کیا جن کے خاندان کے افراد لا پتہ ہیں اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں حکومتی ایجنسیوں نے مقدمہ درج کیے بغیر اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ ایم ایم اے کے قائدین نے مطالبہ کیا کہ ایسے گمشدہ افراد کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا جائے اور انہیں رہا کیا جائے۔ | اسی بارے میں ’امریکہ نےحملے کی دھمکی دی‘ 21 September, 2006 | پاکستان ’پوپ کے الفاظ صلیبی جنگ ‘18 September, 2006 | آس پاس معافی مانگنے پر پوپ کی تعریف 16 September, 2006 | آس پاس ’پوپ کا بیان ناکافی ہے‘ 16 September, 2006 | آس پاس ’پوپ بینیڈکٹ معافی مانگیں‘16 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||