’پوپ کے الفاظ صلیبی جنگ ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے عظیم رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ پوپ کا اسلام کے بارے میں حالیہ بیان ان کی مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تنازعہ کے پیچھے ’ان طاقتوں کی خواہش ہے جو صرف بحران پیدا کرکے اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘ اس تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا جب پچھلے ہفتے پوپ نے اپنی تقریر میں چودہویں صدی کے ایک بادشاہ کے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کہے گئے کلمات کو دہرایا تھا۔ اس تقریر پر پوری دنیا کے مسلمانوں نے بھرپور احتجاج کیا اور پوپ نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ ان کے نہیں تھے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ پوپ بینیڈکٹ کے الفاظ ’صلیبی جنگوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں‘۔ اس سلسلے میں کئی دوسری کڑیوں میں پیغمبر اسلام کے خاکے بنا کر ان پر طنز کرنا اور ’امریکی اور برطانوی اخبارات میں اسلام کے بارے میں ہتک آمیز بیانات جاری کرنا ہے‘۔ ایران کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکی صدر سے کوئی توقع نہیں رکھتے جیسا کہ ان کا کام صرف دنیا کی ایسی کمپنیوں اور طاقتوں کے لیے کام کرنا ہے جو کہ لوٹ مار کا کام کر رہی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ’یہ الفاظ جو کہ ایک بڑے عہدے پر فائز عیسائی کے ہیں ہمارے لیے افسوس اور حیرانگی کا سبب ہیں‘۔ | اسی بارے میں وضاحت کے باوجود مسلمان غصے میں15 September, 2006 | آس پاس پوپ بینیڈکٹ کو’افسوس‘ ہے16 September, 2006 | آس پاس ویٹیکن میں سکیورٹی انتظامات سخت16 September, 2006 | آس پاس پوپ کا دیدار، سکیورٹی سخت17 September, 2006 | آس پاس پاپائے روم کے بیان کا مکمل متن17 September, 2006 | آس پاس معذرت غُصّہ ختم کرنے میں ناکام18 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||