پوپ کا دیدار، سکیورٹی سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام سے متعلق متنازعہ بیان کے بعد کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ اتوار کے روز پہلی مرتبہ عوام کے سامنے آئیں گے۔ پوپ بینیڈکٹ کوناراض مسلمانوں کے ممکنہ حملے سے بچانے کے لیئے ویٹیکن اور مرکزی روم میں سکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کر دیئے گئے ہیں۔ پوپ بینیڈکٹ نے اسلام سے متعلق کو اپنے بیان پر معذرت کر لی ہے اور کہا ہے کہ انہیں انتہائی افسوس ہے کہ ایک تقریر جس میں انہوں نے اسلام کا ذکر کیا تھا، اس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ روم میں پولیس نے کہا کہ پوپ کی حفاظت کے لیئے مثالی انتظامات کریں لیکن وہ اس بات کا بھی خیال رکھے گی کہ عبادت میں خلل نہ پڑے۔ منگل کے روز جرمنی میں ایک یونیورسٹی میں ایک تقریر کے دوران متنازعہ بیان کے بعد پوپ بینیڈکٹ منظر عام پر نہیں آئے ہیں اور ویٹیکن کے حکام نے پوپ کی جانب مسلمانوں سے معذرت کی ہے۔ سنیچر کے روز ویٹیکن کے سینیئر اہلکار نے ایک بیان پڑھ کر سنایا ہے جس میں پوپ نے کہا ہے کہ وہ اسلام کا احترام کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مسلمان ان کے الفاظ کے اصل معنی سمجھیں گے۔ منگل کو ایک تقریر میں پوپ بینیڈکٹ نے چودھویں صدی کے عیسائی شہنشاہ کا حوالہ دیا تھا جس نے کہا تھا کہ پیغمبر محمد دنیا میں ’برائی اور غیر انسانی‘ چیزیں لائے۔ اس بیان پر دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج شروع کر دیا تھا۔ مسلمان ممالک میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے پوپ کی تقریر پر تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر معافی مانگیں۔ روم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کرسچن فریزر کا کہنا ہے کہ جس قدر جلدی ویٹیکن نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویٹیکن صورتحال کو کتنی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ بیان پڑھتے ہوئے ویٹیکن کے نئے خارجہ سکریٹری کارڈنل برٹون نے کہا کہ اسلام کے بارے میں پوپ کا خیال وہی ہے جو ویٹیکن کی تعلیمات بتاتی ہیں یعنی کلیسا ’مسلمانوں کا احترام کرتا ہے کیونکہ وہ خدائے واحد سے پیار کرتے ہیں۔‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ پاپائے روم کو بہت افسوس ہے کہ ان کی تقریر کے کچھ حصوں نے اسلام کے ماننے والوں کے جذبات کو شاید ٹھیس پہنچائی ہے۔‘ روم میں موجود کچھ مبصرین نے یہ تجویز دی ہے کہ پوپ کی تقریر کا عربی ترجمہ جاری کرنا مفید ہو سکتا ہے تا کہ لوگ خود دیکھ سکیں کہ عیسائی بادشاہ کا مخصوص بیان تقریر میں کس سیاق و سباق میں استعمال کیا گیا ہے اور وہ اس کے مطابق اپنا ذہن بنا سکیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پوپ کا بیان اس سے زیادہ معذرت خواہانہ نہیں ہوسکتا کیونکہ پوپ بینیڈکٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مذہب اور تشدد کے درمیان رشتے کے بارے میں خاصے سخت خیالات رکھتے ہیں، اس لیئے اس بات کا امکان کم ہے کہ وہ اپنے الفاظ سے پھِر جائیں گے۔ تاہم ہمارے نام نگار کے مطابق اس تازہ تنازعہ کے بعد پوپ بینیڈکٹ کے ترکی کے دورے کے بارے میں فکر مندی بڑھ سکتی ہے۔ جرمن یونیورسٹی میں تقریر کے دوران جرمن نژاد پوپ نے اسلام اور عیسایت کے درمیان تاریخی اور فلسفیانہ فرق اور مذہب اور تشدد کے درمیان رشتے کا تجزیہ پیش کیا تھا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ ان کے اپنے الفاظ نہیں ہیں، پوپ نے شہنشاہ مینیئل دوئم کے، جن کی سلطنت کا دارالحکومت موجودہ ترکی کا شہر استنبول تھا، الفاظ کا حوالہ دیا تھا۔ پوپ نے کہا کہ شہنشاہ کے الفاظ یہ تھے :’ مجھے دکھاؤ کہ محمد کیا نیا لائے تو آپ کو وہی نئی چیزیں نظر آئیں گی جوہ صرف بری اور غیر انسانی ہیں، جیسا کہ ان کا یہ حکم کہ جس دین کی وہ تبلیغ کر رہے تھے اسے تلوار کے ذریعے پھیلاؤ۔‘ پوپ نے زور دینے کے لیئے دو مرتبہ کہا کہ یہ الفاظ بھی ان کے اپنے نہیں اور کہا کہ ’تشدد خدا اور روح دونوں کی فطرت کے ساتھ میل نہیں کھاتا۔‘ | اسی بارے میں پاپ کا سوانحی خاکہ15 September, 2006 | آس پاس ویٹیکن میں سکیورٹی انتظامات سخت16 September, 2006 | آس پاس ’پوپ بینیڈکٹ معافی مانگیں‘16 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||