ویٹیکن میں سکیورٹی انتظامات سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوپ بینیڈکٹ کے متنازعہ بیان پر مسلمانوں کے رد عمل کے بعد روم کے مرکز میں واقع ویٹیکن سٹی میں مسلمانوں کی جانب سے پر تشدد مظاہروں کے امکان پر سخت تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ جہاد اور پیغمبر اسلام کے بارے میں پوپ بینیڈکٹ کے بیان کے خلاف کئی مسلم ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ویٹیکن سٹی کے اردگرد اور اندر سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کردیا گیا ہے تاہم پوپ بذات خود وہاں مقیم نہیں ہیں۔ وہ اس وقت جرمنی کے دورے کے بعد روم سے کچھ فاصلے پر ایک سیاحتی مقام پر آرام کررہے ہیں۔ ویٹیکن کے حکام مسلمانوں کے اشتعال پر حیران ہیں۔ جرمنی میں پوپ بینیڈکٹ نے چودھویں صدی کے ایک مسیحی شہنشاہ کے الفاظ نقل کرتے ہوئے جہاد کے حوالے سے کہا تھا کہ مذہبِ اسلام کے پیغمبر تشدد کے سوا کچھ نہیں لائے تھے۔اور یہ کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلانے کی ہدایت ’غیر انسانی اور بدی‘ کا کام تھا۔ پوپ اس موقع پر مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی خونی صلیبی جنگوں کا ذکر بھی کرسکتے تھے تاہم انہوں نے ایسا نہ کیا۔ پوپ کی تقریر کے چوبیس گھنٹے بعد ہی اسلامی دنیا میں یہ متنازعہ بیان ہر طرف پھیل گیا۔ احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور پوپ سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ پوپ کو مسلمانوں کی کڑی تنقید کا سامنا ہے اور مسلمانوں کے ایک بڑے عالم دین نے انہیں ’غیر دوستانہ اور گستاخ‘ قرار دیا ہے۔ ویٹیکن میں لوگوں کا خیال ہے کہ ’لوگوں کو جونہی پوپ کے بیان کا اصل مطلب سمجھ آئے گا، اشتعال کا یہ طوفان ختم ہوجائےگا‘۔ پوپ کے بیان پر تنقید میں مسلمانوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان کے جملوں سے تمام عالمِ اسلام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پوپ کے بیان کے بعد ترکی میں ایک اعلیٰ مذہبی اہکار کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پوپ اس بیان پر اسلامی دنیا سے معافی مانگیں۔ پوپ نومبر میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں جو ان کا کسی اسلامی ملک کا پہلا دورہ ہوگا۔ | اسی بارے میں پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر تنقید14 September, 2006 | پاکستان پوپ کے بیان پر اسرائیل کو اعتراض26 July, 2005 | آس پاس بینی ڈکٹXVI باقاعدہ پوپ بن گئے24 April, 2005 | آس پاس بینیڈیکٹ سِکسٹینتھ نئے پوپ 19 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||