پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نظریہ جہاد کے بارے میں پوپ بینیڈکٹ کے بیان کو اسلامی دنیا میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پوپ بینیڈکٹ نے اپنے حالیہ دورہِ جرمنی کے سلسلے میں منگل کو ریجنزبرگ یونیورسٹی میں اپنے خطاب میں اسلام کے نظریہِ جہاد کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پوپ نے چودھویں صدی عیسوی کے عیسائی بادشاہ مینوئیل دوئم کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے ایک ایرانی شخص سے کہا تھا کہ پیغمبرِ اسلام نے دنیا کو تشدد کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالم دین جاوید احمد غامدی نے پوپ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے اور کہا کہ نظریہ جہاد کا مقصد تلوار کے ذریعے اسلام پھیلانا نہیں تھا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے کشیدگی کا سدِباب کرنے کے لیئے پوپ کی تقریر کو رپورٹ کرنے والے اخبار کی کاپیوں کو قبضے میں لے لیا۔ ترکی میں ملک کے سب سے بڑے مذہبی ادارے کے سربراہ نے پوپ کے بیان کو اشتعال انگیز قرار دیا اور ان سے معافی کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف ویٹیکن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پوپ کے بیان کا مقصد اسلام کو سخت تنقید کا نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد اس بات کی یاد دہانی کرانا تھا کہ مذہب کی تشدد پر مبنی تشریح کی صورت میں آدمی خدا کے پیغام کی تردید کررہا ہوتا ہے۔ پوپ بینیڈکٹ نومبر میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ | اسی بارے میں پوپ کے بیان پر اسرائیل کو اعتراض26 July, 2005 | آس پاس مشرق وسطیٰ : پوپ کی امن اپیل25 December, 2005 | آس پاس بینی ڈکٹXVI باقاعدہ پوپ بن گئے24 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||