مشرق وسطیٰ : پوپ کی امن اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوپ بینڈکٹ نے کرسمس کے موقع پر حضرت عیسیٰ کے دیس، مشرق وسطٰی میں امن قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سینٹ پیٹرز سے براہ راست نشر ہونے والی تقریر میں پوپ بینڈکٹ سولہ نے رومن کیتھولک فرقے کے عیسائیوں سے کہا کہ بیت اللحم میں مقیم اپنے بھائیوں کی حالت زار کے بارے میں سوچیں۔ پوپ بینیڈکٹ نے کہا کہ اس رات جب ہم مقدس سرزمین کی طرف دیکھتے ہیں جہاں ہماری مغفرت کرانے والے یسوع مسیح کا ظہور ہوا تو وہاں پر لوگوں کی حالت زار پر غور کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے اسرائیل میں پوپ کے نمائندے نے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی اور کہا کہ اسرائیل نے بیت اللحم کو ایک بڑے قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ میشیل صباح نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں بنائی جانی والی یروشلم اور فلسطین کو تقسیم کرنے والی بارہ گز اونچی فصیل نے بیت اللحم کو ایک بہت بڑے قید خانے میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ـ یروشلم کے عیسائی مذہبی پیشوا میشیل صباح نے جو اسرائیل میں پوپ کے نمائندے بھی ہیں، کہا کہ انسانوں کے درمیان کھڑی کی جانے والی ہر قسم کی رکاوٹوں کو توڑ دینا چاہیے اور اور ان کے بدلے امن اور محبت کے پل تعمیر کیے جانے چاہیں۔ انہوں نے فلسطینیوں کے لیے خود مختار ریاست کے حق کی حمایت بھی کی۔انہوں نے کہا ’ فلسطینی آ زادی مانگ رہے ہیں اور وہ قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اپنی خود مختار ریاست قائم ہو اور ان کا اپنا دارالحکومت ہواور یہ سب ان کو ملنا چاہیے‘ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق انہوں نے کہا کہ مقدس سر زمین کو سرحدی چوکیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کی کئ عسکری تنظیوں کے درمیان جنگ بندی کے معدے کی وجہ سے پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال کافی زیادہ لوگ بیت اللحم آئے ـ تاہم بیت اللحم میں بی بی سی کے نمائندے ڈین ڈیمن کا کہنا ہے کہ تناؤ کی کیفیت ابھی بھی ہے اور فلسطینی روزگار کی کمی اور اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے بار بار ریڈ کرنے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ | اسی بارے میں بینی ڈکٹXVI باقاعدہ پوپ بن گئے24 April, 2005 | آس پاس پوپ کے بیان پر اسرائیل کو اعتراض26 July, 2005 | آس پاس نئے پوپ کا خیرمقدم20 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||