پاپ کا سوانحی خاکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کارڈنل (کلیسا) جوزف رتزنگر 78 جو اب پوپ بینیڈکٹ XVI کے نام سے جاننے جاتے ہیں، پوپ جان پال دوئم کی وفات کے بعد ان کی جگہ لینے کے لیئے سب سے واضح امیدوار تھے۔ عیسائیوں کے مقدس شہر ویٹیکن میں سب سے بااثر ہونے اور مرحوم پوپ کے قریبی ساتھی ہونے کے ناطے انہوں نے گزشتہ ماہ پوپ کی آخری رسومات کی امامت یا سربراہی کی تھی۔ کارڈنل رتزنگر انیس سو اکاسی سے کلیسیا کے ادارے ’کانگرگیشن فار دی ڈاکٹرائن آف فیتھ‘ جو ماضی میں ’انکوزیشن آف ہولی آفس‘ کے نام جاننا تھا کے سربراہ رہے ہیں۔ ان کی ابتدائی مہم ’لبریشن تھیولوجی‘ کو لاطینی امریکہ میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کے تحت کلیساء کو سماجی مسائل اور انسانی حقوق کے امور میں ملوث ہونے کی آزادی دی گئی تھی۔ انہوں نے ہم جنس پرستی کو فطری اخلاقی برائی کی طرف ایک رجحان قرار دیا۔ انہوں نے ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کی بھی مخالفت کی تھی۔ وہ پوپ کے عہدے پر فائز ہونے والے آٹھویں جرمن ہیں۔ پوپ بینیڈکٹ دس مختلف زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں اور پیانو بجانے کے ماہر ہیں۔ پوپ بینیڈکٹ انیس سو ستائیس میں ایک روائتی باویریئن خاندان میں پیدا ہوئے اور ان کے والد پولیس کے محکمے میں ملازم تھے۔ وہ چودہ سال کی عمر میں ہٹلر کی تنظیم ’ہٹلر یوتھ‘ میں بھرتی ہوئے جیسا کہ اس وقت جرمنی کے ہر نوجوان پر لازم تھا۔ تاہم وہ اس تنظیم کے کبھی بھی سرگرم رکن نہیں رہے۔ وہ جرمنی کے شہر ٹراسٹین کے ایک مذہبی سکول میں زیر تعلیم تھے جب دوسری جنگ عظیم سے قبل انہیں میونخ کے قریب ایک ’اینٹی ایئر کرافٹ‘ یونٹ میں بھرتی کر لیا گیا۔ تاہم جنگ کے آخری دنوں میں انہوں نے جرمن فوج کو چھوڑ دیا اور انیس سو پینتالیس میں کچھ دنوں تک اتحادی فوج کی قید میں رہے۔ ان کے حامیوں اور مداحوں کا خیال ہے کہ جرمن فوج میں نوکری کے دوران وہ اس بات کے معترف ہو گئے کہ چرچ یا کلیساء ہی کو سچ اور آزادی کے لیئے کھڑا ہونا پڑے گا۔ کارڈنل رتزنگر کی قدامت پسندانہ اور روایتی سوچ انیس سو ساٹھ کے عشرے میں آزادی کی تحریک کے دوران ہونے والے تجربات کی بنا پر اور پختہ ہو گئے تھے۔ انیس سو چھیاسٹھ میں انہوں نے تیوبنجن یونیورسٹی میں ’ڈوگمیٹک تھیولوجی‘ کی چیئر سنبھالی لی ہے۔ تاہم وہ نوجوانوں میں مارکس ازم کے رجحانات دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یونیورسٹی میں ان کے ایک خطبے کے دوران طلباء کی طرف سے ہنگامے سے وہ کافی پریشان ہوئے۔ ان کے خیال میں مذہب کو سیاسی نظریات کا تابع بنانا ایک ’ظالمانہ ، بے رحمانہ اور جابرانہ‘ کوشش ہے۔ وہ بروریا میں ریجنز برگ یونیورسٹی منتقل ہو گئے جہاں وہ ڈین کے عہدے تک پہنچے۔ انہیں انیس سو ستتر میں پوپ پال ششم نے میونخ کا کارڈنل مقرر کیا۔ جرمنی میں مذہبی امور پر کے تبصرہ نگار ولف گینگ کوپر نے خبردار کیا تھا کہ کارڈنل پاپائیت کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن شخصیت ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ان کے پاپ کے عہدے پر فائز کیئے جانے سے پہلے کہا تھا کہ کارڈنل رتزنگر کے پوپ بنائے جانے سے چرچ کی قیادت اور عقائد میں واضح خلیج حائل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کارڈنل ایک سائنس دان ہیں جو دانشورانہ بحث کو پسند کرتے ہیں جبکہ کیتھولک فرقے کے لوگوں کو مذہبی لوگ ایسے پریسٹ اور بشپ چاہیں جو ان کی روح اور ان کے دلوں کو چھو سکیں۔ |
اسی بارے میں ہم جنسیت پر پابندی برقرار29 November, 2005 | صفحۂ اول عالمی سطح پر پوپ کو خراج عقیدت03 April, 2005 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||