معذرت غُصّہ ختم کرنے میں ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی مسلمان تنظیموں نے پوپ کی معذرت پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے کئی مالک میں ان کے بارہ ستمبر کے بیان پر غصے کا اظہار جاری ہے۔ ایران اور انڈونیشیا میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملائشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاپائے روم کو اپنی تقریر واپس لینی چاہیے۔ وزیر حارجہ سید حامد البر نے کہا کہ پاپائے روم کا بیان کافی نہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر ممیں پاپائے روم کے بیان خلاف ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاپائے روم نے اتوار کو روم میں ذاتی طور پر اپنی تقریر سے مسلمانوں کی دِل آزاری کرنے پر معذرت کی تھی۔ روم سے باہر اپنی رہائشگاہ کی بالکونی سے دعائیہ خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ انہوں قرون وسطیٰ کی جس دستاویز کا حوالہ دیا تھا وہ ان کی ذاتی رائے نہیں۔ جرمنی کی مسلم کونسل نے اپنے رد عمل میں کہا کہ پاپائے روم نے حالیہ چند دنوں سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کی طرف اہم قدم لیا ہے۔ برطانیہ کی مسلم کونسل نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے مسلمان پاپائے روم سے اسی طرح کی یقین دہانی چاہ رہے تھے۔ ترکی کے ایک مذہبی رہنما نے کہا کہ پاپائے روم کا اسلام کے بارے میں وضاحتی بیان انتہائی مناسب ہے۔ ترکی کی حکومت نے توقع ظاہر کی کہ پاپائے روم نومبر میں پروگرام کے مطابق ملک کا دورہ کریں گے۔ تاہم ترکی کے ایک وزیر غیر مطمئن تھے اور انہوں نے کہا کہ بظاہر پاپائے روم نے مسلمانوں کی ناراضگی پر معذرت کی لیکن اپنے بیان پر نہیں۔ ’انہیں یا تو صحیح طرح معافی مانگنی چاہیے یا پھر نہیں۔ آپ اپنے بیان پر معذرتخواہ ہیں یا اس پر رد عمل کی وجہ سے؟‘۔ مصر کی سیاسی تنظین اخوان المسلمین نے بیان کا خیر مقدم کیا تھا لیکن بعد میں اس نے کہا کہ یہ باقاعدہ معذرت کے برابر نہیں ہے اور مسلمان اس سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ پیغمبر اسلام اور جہاد کے بارے میں پاپائے روم بینیڈکٹ سولہ کے گزشتہ ہفتے کے بیان کے خلاف مسلم دنیا کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ پاپائے روم نے اتوار کے بیان میں کہا تھا کہ جو کچھ بھی انہوں نے کہا وہ قرون وسطٰی کے زمانے کے ایک شاہ کے الفاظ تھے اور کسی صورت بھی ان کے ذاتی خیالات کی عکاسی نہیں کرتے تھے۔ پاپائے روم کے بیان پر جہاں مسلمان ملکوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے وہیں چند مقامات پر کلیساؤں پر بھی حملے ہوئے۔
فلسطین میں حماس حکومت کے سربراہ وزیر اعظم اسمٰعیل ہانیہ نے نابلوس میں چرچ پر کیئے گئے حملے کی مذمت کی ہے۔ ’کسی بھی فلسطینی شہری کو چرچ پر حملہ نہیں کرنا چاہیئے۔ فلسطین کی عیسائی برادری فلسطین کا حصہ ہے اور یہاں پر موجود عیسائی برادری کے سربراہ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیان کی مذمت کی ہے‘۔ فلسطین کے دیگر حکام نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل غرب اردن میں گرجا گھروں پر حملے ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاپائے روم نومبر میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں جو ان کا کسی اسلامی ملک کا پہلا دورہ ہوگا۔ حالیہ واقعات کے بعد ان کے دورے کے بارے میں ابہام پیدا ہوگیا تھا تاہم اب ویٹیکن کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دورہ منسوخ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ | اسی بارے میں پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر تنقید14 September, 2006 | پاکستان پوپ کے بیان پر اسرائیل کو اعتراض26 July, 2005 | آس پاس بینی ڈکٹXVI باقاعدہ پوپ بن گئے24 April, 2005 | آس پاس بینیڈیکٹ سِکسٹینتھ نئے پوپ 19 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||