وضاحت کے باوجود مسلمان غصے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسیحیوں کے کھیتولک فرقے کے کلیسا نے ایک بیان میں پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر مسلم دنیا کی جانب سے ہونے والی تنقید کا دفاع کیا ہے لیکن مسلم رہنماؤں کی تشویش میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ جرمنی میں پوپ بینیڈکٹ نے چودہویں صدی کے ایک مسیحی شہنشاہ کے الفاظ نقل کرتے ہوئے کہا تھا جہاد کے حوالے سے کہا تھا کہ مذہبِ اسلام کے پیغمبر تشدد کے سوا کچھ نہیں لائے تھے۔اور یہ کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلانے کی ہدایت ’غیر انسانی اور بدی‘ کا کام تھا۔ پوپ کے بیان پر تنقید میں مسلمانوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان کے جملوں سے تمام عالمِ اسلام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ تاہم کلیسا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پوپ کا مقصد مسلمانوں کی دل آزاری نہیں بلکہ وہ مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ مصر میں مسلم کے سربراہ محمد مہدی عاکف نے کہا کہ پوپ کے الفاظ اسلام کے اصل تصور کی درست عکاسی نہیں کرتے۔’یہ وہی غلط اور مسخ شدہ عقائد ہیں جنہیں مغرب میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔‘
ایک بیان میں مہدی عااکف کا کہنا تھا: ’کہ (اسلام کے خلاف) یہ باتین مسیحی فرقے کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ایک شخص کی ہیں اور یہ ایسا منصب ہے جو مغرب کے لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘ پوپ کے بیان کے بعد ترکی میں ایک اعلیٰ مذہبی اہکار کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پوپ اس بیان پر اسلامی دنیا سے معافی مانگیں۔ پوپ نومبر میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں جو ان کا کسی اسلامی ملک کا پہلا دورہ ہوگا۔ قطر میں مسلمانوں کے ایک رہنما شیخ یوسف القرداوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پوپ کے جملوں کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیائے اسلام کو پوپ کے بیان سے ناراض ہونے کا حق ہے کیونکہ مسیحی دنیا کے اعلیٰ ترین منصب کے حامل شخص کے جملوں سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پوپ مسلم امہ سے اس کے مذہب، اس کے پیغمبر اور اس کے عقائد کی توہین پر معافی مانگیں۔‘ ستاون ممالک کی مسلم تنظیم او آئی سی نے بھی کہا ہے کہ اسے پوپ کے جملوں پر افسوس ہے۔ خبر رساں اداروں نے بتایا ہے کہ پوپ کے بیان کے بعد مسلمان دنیا کی ویب سائٹس پر شدید غم و غصہ کا اظہار پایا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر تنقید14 September, 2006 | پاکستان پوپ کے بیان پر اسرائیل کو اعتراض26 July, 2005 | آس پاس بینی ڈکٹXVI باقاعدہ پوپ بن گئے24 April, 2005 | آس پاس بینیڈیکٹ سِکسٹینتھ نئے پوپ 19 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||