معافی مانگنے پر پوپ کی تعریف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاپائے روم کی طرف سے متنازعہ بیان پر افسوس کے اظہار سے برطانوی مسلمانوں کو خوشی ہوئی ہے۔ برطانوی مسلم کونسل نے کہا کہ پوپ بینیڈکٹ نے اپنی غلطی تسلیم کرکے اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اسلامک سوسائٹی آف برطانیہ کے اجمل مسرور نے کہا کہ پوپ بینیڈکٹ کی طرف سے اپنی غلطی تسلیم کر لینا ایک مستحن اقدام ہے۔ منگل کو ایک تقریر میں پوپ بینیڈکٹ نے چودھویں صدی کے عیسائی شہنشاہ کے حوالے سے کہا تھا کہ پیغمبر اسلام دنیا میں ’برائی اور غیر انسانی‘ چیزیں لائے۔ اس بیان پر دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج شروع کر دیا تھا۔مسلمان ممالک میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے پوپ کی تقریر پر تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر معافی مانگیں۔ برطانیہ کے دارالامرا کی لیبر رکن بیرونس الدین نے پوپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں۔بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے کہا بیرونس الدین نے کہا کہ پوپ کے الفاظ ’مذہب کا ایک خارج از بحث اور لغو تجزیہ ہیں‘۔ بیرونس الدین کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ صورتحال کے بارے میں پریشان ہیں جس میں اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تجزیات پیش کیے جا رہے ہیں۔ اگر ان کا مطلب وہ نہیں تھا جو انہوں نے کہا تو پھر انہیں ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔ | اسی بارے میں پاپ کا سوانحی خاکہ15 September, 2006 | آس پاس ویٹیکن میں سکیورٹی انتظامات سخت16 September, 2006 | آس پاس ’پوپ بینیڈکٹ معافی مانگیں‘16 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||