قاضی سمیت ایم ایم اے کے رہنما رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکومت نے اپوزیشن کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ان رہنماؤں کو آدھی رات کو رہا کر دیا ہے جنہیں حقوق نسواں بل کے خلاف لاہور سے گجرات تک ریلی نکالنے کی کوشش کی دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ لاہور کے تھانہ سرور روڈ سے آدھی رات کے بعد رہا ہونے والوں میں مجلس عمل کے مرکزی قائدین حافظ حسین احمد، لیاقت بلوچ، جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم اور رکن صوبائی اسمبلی احسان اللہ وقاص شامل ہیں۔ ان رہمناؤں کو لاہور کے چوبری چوک سے کل دوپہر کو گرفتار کیا گیا جب انہوں نے اپنے چند درجن ساتھیوں اور کارکنوں کے ہمراہ ایک احتجاجی کارواں کی شکل میں لاہور سے گجرات جانے کی کوشش کی تھی۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے جمعرات کو لاہور سے گرفتار ہونے والے تمام رہمناؤں کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔ مجلس عمل پارلیمان سے حال ہی میں منظور ہونے والےحقوق نسواں بل کے خلاف ہے اور اسے غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دیتی ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے اس بل کو اسلام کے عین مطابق قرار دیا تھا جس پر مجلس عمل نے کل لاہور سے ان کے آبائی شہر گجرات تک ایک احتجاجی ریلی لے جانے کی کوشش کی تھی۔ لاہور میں منصورہ چوبرجی اور اور ایوان عدل کے سامنے مظاہرین اکٹھے بھی ہوئے لیکن کہیں بھی ان کی تعداد چند درجن سے زیادہ نہیں تھی۔ پولیس نے ریلی ناکام بنانے کے لیے لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ، وزیر آباد اور گجرات میں مجلس عمل کے کارکنوں اور رہنماؤں پر لاٹھی چارج کیا اور انہیں کئی گھنٹے حراست میں رکھا جس کے بعد رات گئے ان کی رہائی کا عمل شروع ہوا۔ صوبائی وزیر قانون کےمطابق صوبے میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کے تحت صوبے میں بغیر اجازت جلسے جلوس پر پابندی ہے۔ مجلس عمل نے ان گرفتاریوں کے خلاف جمعہ کو یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما سید منور حسن نے کارواں کو حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا نقطہ آغاز قرار دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی قاصی حسین احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کی احتجاجی ریلیاں ملک بھر میں نکالی جائیں گی اور حتمی اور آخری ریلی اسلام آباد کی طرف جائے گی۔ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے ایم ایم اے کی گجرات ریلی کو ناکام قرار دیا ہے۔ مجلس عمل نے حقوق نسواں بل کے خلاف منتخب اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کر رکھا ہے جس کا لائحہ عمل دسمبر کے پہلے ہفتے کےدوروان ایم ایم اے کی سپریم کونسل میں کیا جائے گا۔ حکومت ،اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی اور پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمں حقوق نسواں بل کو خوش آئند قرار دیتی ہیں۔ | اسی بارے میں چودہریوں کا شہر، مجلس کا کارواں 30 November, 2006 | پاکستان ایم ایم اے کا کراچی میں مظاہرہ26 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بِل کے خلاف مظاہرہ25 November, 2006 | پاکستان استعفوں کا فیصلہ 6 دسمبر کو16 November, 2006 | پاکستان پشاور میں حسبہ بل کے خلاف احتجاج 16 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||