BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 November, 2006, 15:41 GMT 20:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور میں حسبہ بل کے خلاف احتجاج

مظاہرین
مظاہرین نے سرحد اسمبلی کے مرکزی گیٹ مظاہرہ کیا
انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والی سات غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد اے پی ایچ آر نے سرحد حکومت کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں متنازعہ حسبہ بل کی منظوری کے خلاف جمعرات کے روز پشاور میں ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا ۔

مظاہرے میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنی والی تنظیموں کے نمائندوں، سیاستدانوں ، این جی اوز اور خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مظاہرین کی قیادت عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابقہ ڈپٹی سپیکر سرحد اسمبلی حاجی محمد عدیل اور اے پی ایچ آر کے نمائندوں نے کی۔

مظاہرہ نشترہال پشاور سے شروع ہوا اور صوبائی اسبملی کے مرکزی گیٹ کے سامنے جاکر اختتام پذیر ہوا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ’حسبہ بل نامنظور، ملا ملٹری امریکہ اتحاد مردہ باد اور مولوویوں کا مارشل لا نامنظور نامنظور‘ کے نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے اس موقع پر سرحد حکومت اور ایم ایم اے کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔

مظاہرے کے شرکاء جب سرحد اسمبلی کے مرکزی گیٹ کے سامنے پہنچے تو عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر بشیر احمد بلور نے سرحد اسمبلی کے اجلاس سے نکل کر ان کا خیر مقدم کیا اور اس موقع پر مختصر خطاب بھی کیا۔

مظاہرہ
’ہر کوئی آتا ہے تو اپنی مرضی کے مطابق قانون لاتا ہے‘

انہوں نے کہا کہ حسبہ بل کی منظوری ایم ایم اے کا ’طالبائنزیشن‘ کی جانب ایک قدم ہے اور اس کے ذریعے وہ اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو طالبان نے افغانستان میں نافذ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’حسبہ بل میں کوئی بھی خاص بات نہیں اور نہ اس سے صوبہ میں کوئی تبدیلی آنے والی ہے۔ اتنا ہے کہ حکومت اس کے ذریعے سے مولویوں کو نوازنا چاہتی ہے‘۔

بشیر بلور نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل درحقیقت اسلام کے نفاذ میں مخلص نہیں بلکہ وہ اس قانون کے ذریعے سے مولویوں کو نوکریاں دلوانا چاہتی ہے تاکہ اپنے لوگوں کو نوازا جائے۔

اس موقع پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے غیرسرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن میں پروگرام کوراڈنیٹر صائمہ منیر نے کہا کہ ’اس ملک میں دوسرے اداروں کا وجود نہیں تھا کہ مولوی حضرات نے ایک اور ادارہ قائم کر دیا۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ ہمارا یہ صوبہ ہے یا کوئی تجربہ گاہ ، ہر کوئی آتا ہے تو اپنی مرضی کے مطابق قانون لاتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے عوام کی نجی زندگی متاثر ہوگی کیونکہ اس بل میں ہے کہ لوگوں کو اسلامی شعائر کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔

واضع رہے کہ حسبہ بل کی منظوری کے خلاف پشاور میں خواتین کا یہ دوسرا مظاہرہ تھا۔ اس سے پہلے گزشتہ روز اس قسم کا ایک مظاہرہ پشاور ہائی کورٹ کے خواتین وکلاء کی کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد