لاہور: لاٹھی چارج اورگرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس نے متحدہ مجلس عمل کے قائدین کو احتجاجی کارواں لیکر گجرات نہیں جانے دیا۔ سو سے زائد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مجلس عمل کے صدر امیر جماعت اسلامی کو گجرات شہر میں داخل نہیں ہونےدیا اور زبردستی واپس بھجوا دیا گیا ہے۔ مجلس عمل کے مرکزی رہنما اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے کہا ہے کہ کارواں کے ذریعے حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور ایک دو روز کے اندر پنجاب کےدوسرے شہروں سے کارواں شروع کر دیا جائے گا۔ وہ گرفتاریوں کے بعد منصورہ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ بعد ازاں جماعت اسلامی کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ جمعرات کوہونی والی گرفتاریوں کے خلاف جمعہ کو یوم احتجاج منایا جائے گا۔ مجلس عمل کے ابتدائی کارواں کو منصورہ میں روک لیا گیا تھا اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ مجلس عمل کےرہنماؤں نے منصوبہ بندی کے تحت مختلف مقامات سے جلوس نکال کر گجرات جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ چوبرجی سے نکالی جانے والی ریلی کے قائدین حافظ حسین احمد، لیاقت بلوچ، احسان اللہ وقاص اور امیرالعظیم کو گرفتار کرلیا گیا۔انہیں دیگر کارکنوں کے ہمراہ لاہور کے سرور روڈ تھانے میں نظر بند کر دیا گیاہے۔ قاضی حسین احمد اچانک گوجرانوالہ کے نزدیک نمودار ہوئے جہاں قاضی حمید اللہ نے ان کا استقبال کیا۔ شیرانوالہ گیٹ میں ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے منتخب اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے اپنے موقف کو دہرایا اور کہا کہ ان کا یہ فیصلہ اٹل اور حتمی ہے اور یہ کہ صدر مشرف کے برسراقتدار ہوتے ہوئے آئندہ انتخابات قابل قبول نہیں ہونگے۔ بعد میں پولیس نے لوبیانوالہ بائی پاس کے نزدیک کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیاں برسائیں اور آنسو گیس استعمال کی۔ قاضی حسین احمد کو پل پار کرکے گجرات میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور ان کے قافلے کا رخ لاہور کی جانب موڑ دیا۔ جماعت اسلامی کے ترجمان کےمطابق قاضی حسین احمد لاہور کی بجائے اسلام آباد جائیں گے۔
مجلس عمل نے حکومت کے منظور کر دہ تحفظ نسواں بل کے خلاف گجرات تک ایک احتجاجی کارواں نکالنے کا اعلان کیا تھا جوکہ حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کا آبائی شہر ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر حافظ محمد ادریس دوسرے راستے سے پولیس کوجل دیکر گجرات پہنچ گئے جہاں انہوں نے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کرکے دو درجن کےقریب جلوس کے شرکاء سمیت حافظ محمد ادریس کوگرفتار کر لیا۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ صوبے میں پہلے سے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کے تحت پبلک مقامات پر جلسے جلوس نہیں نکالے جاسکتے۔ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے کہا کہ اجازت کے بعد مجلس عمل جلسے کر سکتی ہے اور اس سےقبل بھی ان کے جلسے کرائے جاتے رہے ہیں لیکن جلوس نکالنے ہر پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد اکیلے جاسکتے ہیں ’ہم انہیں چائے پلاتے لیکن جلوس نکال کر ٹریفک روکنے اور لوگوں کو تنگ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘ وزیر اعلی نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئےگرفتاریوں کی تردیدکی ہے۔ ان کی اس بات سے تاثر ملتا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو رات گئے رہا کیا جا سکتا ہے تاہم جماعت اسلامی پنجاب کے ترجمان فاروق چوہان نے کہا ہے کہ ان کے دو سو سے زائد کارکنوں کو پنجاب کے مختلف شہروں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ گرفتاریاں لاہور،مریدکے،گوجرانوالہ،جلاپور جٹاں،وزیر آباد،گجرات،فیصل آباد،لودھراں اور بہاولپور میں عمل میں آئی ہیں۔ وزیر اعلی نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئےگرفتاریوں کی تردیدکی ہے۔ ان کی اس بات سے تاثر ملتا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو رات گئے رہا کیا جاسکتاہے۔ مجلس عمل کے قائدین کا موقف ہے کہ حدود آرڈنینس انیس سو اناسی میں حکومت نے کچھ ایسی ترامیم کردی ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کے بقول ملک میں ایسے کام عام ہوجائیں گے جنہیں وہ فحاشی اور بے حیائی قرار دیتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ بل خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے اور اسلام سے متصادم نہیں ہے۔ | اسی بارے میں چودہریوں کا شہر، مجلس کا کارواں 30 November, 2006 | پاکستان ایم ایم اے کا کراچی میں مظاہرہ26 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بِل کے خلاف مظاہرہ25 November, 2006 | پاکستان استعفوں کا فیصلہ 6 دسمبر کو16 November, 2006 | پاکستان پشاور میں حسبہ بل کے خلاف احتجاج 16 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||