اپوزیشن: استعفیٰ، تحریک کے دعوے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کئی برس سے ایک ایسی تحریک چلانے کا وعدہ کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں اپوزیشن رہنماؤں کے بقول انہیں ایک باوردی صدر سے نجات مل جائے گی۔ پہلے مارچ پھر ستمبر اور پھر اکتوبر اور نومبر میں فیصلہ کن تحریک چلانے کے اعلانات ہوئے لیکن عمل کسی ایک پر بھی نہ ہوا۔ بالآخر جماعت اسلامی کے رہنما قاضی حسین احمد یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ان کے پاس کوئی تیار فوج نہیں ہے کہ وہ جب حکم دیں تو ایک تحریک شروع ہو جائے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ عوام کریں گے کہ انہیں کب سڑکوں پر آنا ہے۔ اب عوام کا کیا کریں؟ بڑے سے بڑا واقعہ بھی ہو جائے اور اپوزیشن جتنا چاہے عوام کو بھڑکا لے لیکن کم از کم لاہور میں تو ساٹھ ستر سے زیادہ لوگ سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں ہوتے حالانکہ اس شہر کی شہری آبادی ساٹھ ستر لاکھ کے قریب ہے۔
اس سے یہ مطلب نکالنا تو درست نہیں ہوگا کہ عوام موجودہ حکومت سے خوش ہیں اس لیئے اس کے خلاف سڑکوں پر نہیں نکلنا چاہتے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیئے عوام موجودہ اپوزیشن پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ عوام حزب اختلاف پر اعتماد کریں بھی تو کیسے؟ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ستمبر میں کوئی اور استعفی دے یا نہ دے کم ازکم وہ ضرور مستعفی ہوجائیں گے لیکن ان کا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا۔ ان کی وضاحتی پریس کانفرنسیں اپنی جگہ لیکن شاید انہوں نے سوچا ہو کہ اکیلا چنا کیا جھاڑ جھونکے گا۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹریئنز کی خود ساختہ جلاوطنی کی شکار رہنما بینظیر بھٹو کو جب بھی امریکی سمت سے مشرف حکومت کے خلاف باد صر صر چلتی دکھائی دیتی ہے وہ خم ٹھونک کر میدان میں آجاتی ہیں۔ تحریک کا شور اٹھتا ہے، ایوانوں سے استعفوں کی بات ہوتی ہے لیکن جلد ہی ڈیل کی خبریں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ایسی زیادہ تر خبریں بھی عین اس وقت آتی ہیں جب حکومت کسی مشکل صورتحال سے گزر رہی ہوتی ہے۔ لندن میں نواز شریف ، بینظیر ملاقاتوں اور بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد ایسا ہی ہوا۔ مثلا ابھی حال ہی میں فوج کے ذیلی ادارے آئی ایس آئی کے ذریعے بے نظیر سے بالواسطہ خفیہ رابطوں کی افواہیں شروع ہو گئیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما مرے مرے لہجے میں تردید کرنے کی کوشش کرتے رہے اور خاصی تاخیر کے بعد بینظیر نے بھی تردید تو کی لیکن وہ استعفے پھر بھی سپیکر کو پیش نہیں ہوئے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہر وقت ’بینظیر کے ہینڈ بیگ میں موجود ہوتے ہیں‘۔ مسلم لیگ نواز کے ایک مرکزی رہنما نجی محفلوں میں کہتے ہیں کہ نواز شریف کو اس بات کا سخت افسوس ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا بہترین وقت ہاتھ سے نکل گیا۔ ان کے مطابق نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے فوری بعد استعفے دے دینے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ وقت نواز شریف کو اتنا ہی مناسب لگ رہا تھا تو وہ سوچتے کیوں رہ گئے؟ وہ عمران خان کا ہاتھ تھامتے، قاضی صاحب کو آواز دیتے اور عبدالرؤف مینگل کے ساتھ اپنی پارٹی کے استعفے بھی سپیکر کی میز پر رکھ دیتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف بینظیر کا انتظار کرتے رہے جبکہ قاضی حسین احمد کے طے شدہ فیصلوں کو مولانا فضل الرحمان کے اس موقف کے حتف میزائل نے تباہ کر دیا کہ استعفے خواتین بل کے خلاف دئیے جائیں گے۔ ان کی نسبت جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نواز کے رہنما بہر حال یہ تاثر ابھارنے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ تو استعفے پیش کرنے کو تلے بیٹھے ہیں لیکن میاں نوازشریف کو پیپلز پارٹی اور قاضی حسین احمد کو جے یوآئی نے ایسا کرنے سے روک رکھا ہے۔ وقت حسب معمول تیزی کے ساتھ حزب مخالف کی اتحادی کاوشوں کو غیر فطری ثابت کر رہا ہے۔ حزب اختلاف گرینڈ الائنس کی بجائے مزید ٹوٹ پھوٹ کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کی یہی مجبوریاں واپس انہی اتحادوں کی طرف لے جائیں جن میں ماضی کی طرح نواز شریف اور قاضی حسین احمد ایک کشتی میں سوار ہوں اور بے نظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمان دوسری کشتی کے پتوار اور چپو سنبھالے ہوئے ہوں۔ |
اسی بارے میں باجوڑ، بلوچستان، اپوزیشن واک آؤٹ19 January, 2006 | پاکستان سندھ: حکومت اور اپوزیشن کا احتجاج27 February, 2006 | پاکستان ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان اپوزیشن: احتجاجی مہم کا اعلان02 September, 2006 | پاکستان حکومت، اپوزیشن میں معاہدہ11 September, 2006 | پاکستان اپوزیشن کا کچھ نکات پر اتفاق02 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||