BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 November, 2006, 11:04 GMT 16:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اپوزیشن: استعفیٰ، تحریک کے دعوے

بینظیر کو جب بھی امریکہ سے مشرف کے خلاف باد صر صر چلتی دکھائی دیتی ہے وہ خم ٹھونک کر میدان میں آجاتی ہیں
پاکستان میں حزب اختلاف کئی برس سے ایک ایسی تحریک چلانے کا وعدہ کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں اپوزیشن رہنماؤں کے بقول انہیں ایک باوردی صدر سے نجات مل جائے گی۔

پہلے مارچ پھر ستمبر اور پھر اکتوبر اور نومبر میں فیصلہ کن تحریک چلانے کے اعلانات ہوئے لیکن عمل کسی ایک پر بھی نہ ہوا۔ بالآخر جماعت اسلامی کے رہنما قاضی حسین احمد یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ان کے پاس کوئی تیار فوج نہیں ہے کہ وہ جب حکم دیں تو ایک تحریک شروع ہو جائے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ عوام کریں گے کہ انہیں کب سڑکوں پر آنا ہے۔

اب عوام کا کیا کریں؟ بڑے سے بڑا واقعہ بھی ہو جائے اور اپوزیشن جتنا چاہے عوام کو بھڑکا لے لیکن کم از کم لاہور میں تو ساٹھ ستر سے زیادہ لوگ سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں ہوتے حالانکہ اس شہر کی شہری آبادی ساٹھ ستر لاکھ کے قریب ہے۔

حزب اختلاف گرینڈ الائنس کی بجائے مزید ٹوٹ پھوٹ کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہے

اس سے یہ مطلب نکالنا تو درست نہیں ہوگا کہ عوام موجودہ حکومت سے خوش ہیں اس لیئے اس کے خلاف سڑکوں پر نہیں نکلنا چاہتے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیئے عوام موجودہ اپوزیشن پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔

عوام حزب اختلاف پر اعتماد کریں بھی تو کیسے؟ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ستمبر میں کوئی اور استعفی دے یا نہ دے کم ازکم وہ ضرور مستعفی ہوجائیں گے لیکن ان کا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا۔ ان کی وضاحتی پریس کانفرنسیں اپنی جگہ لیکن شاید انہوں نے سوچا ہو کہ اکیلا چنا کیا جھاڑ جھونکے گا۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹریئنز کی خود ساختہ جلاوطنی کی شکار رہنما بینظیر بھٹو کو جب بھی امریکی سمت سے مشرف حکومت کے خلاف باد صر صر چلتی دکھائی دیتی ہے وہ خم ٹھونک کر میدان میں آجاتی ہیں۔ تحریک کا شور اٹھتا ہے، ایوانوں سے استعفوں کی بات ہوتی ہے لیکن جلد ہی ڈیل کی خبریں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔

ایسی زیادہ تر خبریں بھی عین اس وقت آتی ہیں جب حکومت کسی مشکل صورتحال سے گزر رہی ہوتی ہے۔ لندن میں نواز شریف ، بینظیر ملاقاتوں اور بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد ایسا ہی ہوا۔ مثلا ابھی حال ہی میں فوج کے ذیلی ادارے آئی ایس آئی کے ذریعے بے نظیر سے بالواسطہ خفیہ رابطوں کی افواہیں شروع ہو گئیں۔

عمران خان کے ستمبر میں استعفی کا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا

پیپلز پارٹی کے رہنما مرے مرے لہجے میں تردید کرنے کی کوشش کرتے رہے اور خاصی تاخیر کے بعد بینظیر نے بھی تردید تو کی لیکن وہ استعفے پھر بھی سپیکر کو پیش نہیں ہوئے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہر وقت ’بینظیر کے ہینڈ بیگ میں موجود ہوتے ہیں‘۔

مسلم لیگ نواز کے ایک مرکزی رہنما نجی محفلوں میں کہتے ہیں کہ نواز شریف کو اس بات کا سخت افسوس ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا بہترین وقت ہاتھ سے نکل گیا۔ ان کے مطابق نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے فوری بعد استعفے دے دینے چاہیے تھے۔

سوال یہ ہے کہ اگر وہ وقت نواز شریف کو اتنا ہی مناسب لگ رہا تھا تو وہ سوچتے کیوں رہ گئے؟ وہ عمران خان کا ہاتھ تھامتے، قاضی صاحب کو آواز دیتے اور عبدالرؤف مینگل کے ساتھ اپنی پارٹی کے استعفے بھی سپیکر کی میز پر رکھ دیتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف بینظیر کا انتظار کرتے رہے جبکہ قاضی حسین احمد کے طے شدہ فیصلوں کو مولانا فضل الرحمان کے اس موقف کے حتف میزائل نے تباہ کر دیا کہ استعفے خواتین بل کے خلاف دئیے جائیں گے۔

 ہوسکتا ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کی یہی مجبوریاں واپس انہی اتحادوں کی طرف لے جائیں جن میں ماضی کی طرح نواز شریف اور قاضی حسین احمد ایک کشتی میں سوار ہوں اور بے نظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمان دوسری کشتی کے پتوار اور چپو سنبھالے ہوئے ہوں۔
اب تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ مجلس عمل نے فیصلہ کیا ہے کہ خواتین بل پر بھی تمام ایوانوں سے نکلنے کی بجائے استفعوں کا معاملہ صرف قومی اسمبلی تک ہی محدود رکھا جائے ۔ لیکن اس بات پر بھی یقین کیسے کیاجائے کیونکہ استعفوں کے وعدوں کے بارے میں مجلس عمل کا ماضی داغ دار ہے۔

ان کی نسبت جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نواز کے رہنما بہر حال یہ تاثر ابھارنے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ تو استعفے پیش کرنے کو تلے بیٹھے ہیں لیکن میاں نوازشریف کو پیپلز پارٹی اور قاضی حسین احمد کو جے یوآئی نے ایسا کرنے سے روک رکھا ہے۔

وقت حسب معمول تیزی کے ساتھ حزب مخالف کی اتحادی کاوشوں کو غیر فطری ثابت کر رہا ہے۔ حزب اختلاف گرینڈ الائنس کی بجائے مزید ٹوٹ پھوٹ کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کی یہی مجبوریاں واپس انہی اتحادوں کی طرف لے جائیں جن میں ماضی کی طرح نواز شریف اور قاضی حسین احمد ایک کشتی میں سوار ہوں اور بے نظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمان دوسری کشتی کے پتوار اور چپو سنبھالے ہوئے ہوں۔

پارلیمنٹ بلڈنگحزب اختلاف کون؟
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، اصل حزب اختلاف
اسی بارے میں
حکومت، اپوزیشن میں معاہدہ
11 September, 2006 | پاکستان
اپوزیشن کا کچھ نکات پر اتفاق
02 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد