اپوزیشن: احتجاجی مہم کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں متحدہ حزب اختلاف نے اتوار سے احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ریلیاں ہڑتال اور جلسے منعقد کیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبے کے کچھ علاقوں سے توڑ پھوڑ اور کشیدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت، چار جماعتی بلوچ اتحاد، اپنے آپ کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے مشترکہ اخباری کانفرنس میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور میت ورثاء کے حوالے نہ کرنے پر سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سابق وزیر اعلٰی بلوچستان سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ کل یعنی اتوار کو صوبہ بھر میں ریلیاں نکالی جائیں گی، چھ اور بارہ ستمبر کو صوبہ بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال ہو گی جبکہ آٹھ، دس، چودہ اور سترہ ستمبر کو لورا لائی، ڈیرہ مراد جمالی، خضدار اور کوئٹہ میں جلسے ہوں گے۔ سترہ ستمبر کو کوئٹہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے مرکزی قائدین خطاب کریں گے۔ نیشنل پارٹی کے لیڈر حاصل بزنجو نے کہا کہ بگٹی خاندان سے مذاکرات کے بعد چند روز میں وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر رؤف لالہ نے کہا کہ پشتون قوم پست جماعتیں آل پارٹیز کانفرنس اور پونم کے احکامات کے مطابق ہر سطح پر احتجاج میں پیش پیش ہوں گے۔
سردار ثناءاللہ زہری نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے جو ظلم بلوچوں پر روا رکھے ہوئے ہیں، ان حالات میں وہ پر امن احتجاج کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ بلوچستان نیشنل کانگریس کے سربراہ حکیم لہڑی نے علیحدہ اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت اب بھی سیاسی سطح پر مذاکرات کرے، وگرنہ حالات حکمرانوں کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ حکیم لہڑی ستر کی دہائی میں کوئی سات سال تک پہاڑوں پر رہے اور ان دنوں فوجی کارروائی کی مزاحمت میں آگے آگے تھے۔ انھوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور لاش ورثا کے حوالے نہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے ڈرامہ رچایا ہوا ہے۔ متحدہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کی اپیل پر بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال تھی۔ کئی مقامات بشمول پنجگور، بلیدہ، نوکنڈی اور وڈھ میں توڑ پھوڑ کی گئی اور بعض دکانوں اور دفاتر کو آگ لگائی گئی۔ اس کے علاوہ ڈیرہ مراد جمالی سبی، لورالائی اور ژوب وغیرہ میں پرامن ہڑتال تھی۔ نواب اکبر بگٹی کی میت کو ورثاء کے بغیر دفنانے کے حوالے سے صوبے بھر میں لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام غیر اسلامی اور بلوچستان کی روایات کے خلاف ہے۔ |
اسی بارے میں نواب اکبر بُگٹی سپرد خاک 01 September, 2006 | پاکستان نواب اکبر بُگٹی کی تدفین01 September, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ اور سرحد میں ہڑتال01 September, 2006 | پاکستان تابوت میں کیا کچھ دفن ہوگیا02 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||