BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 September, 2006, 07:31 GMT 12:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تابوت میں کیا کچھ دفن ہوگیا

’حکمران لاش کو بند کر کے سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہوگیا‘
فوج سے نبرد آزما نواب محمد اکبر خان بگٹی کی فوجیوں کےشب خون مارنے کے نتیجے میں پراسرار حالات میں ہلاکت کے چھ روز بعد لاش کو تابوت میں چین کے بنے ہوئے تالوں سے بند کر کے دفنا دیا گیا۔ پاکستان کے مطلق العنان فوجی حکمران نے بھی اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح سوچا ہوگا کہ انہوں نے بھی پاکستان کی سالمیت کو درپیش اہم ترین مسئلہ کو کامیابی سے حل کر دیا۔

پاکستانی حکمرانوں خصوصًا فوجی بادشاہوں کا المیہ ہی یہی ہے کہ انسانوں، سوچوں، اخبارات اور اب لاش کو بند کر کے سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہوگیا۔ ایوب خان کے دور میں بلوچستان کے اصل سرداروں کی جگہ دوسروں کی نامزدگی اور نوروز خان کو قرآن شریف کا حوالہ دے کر دھوکے سے گرفتار کرنے سے سن ساٹھ کے عشرے میں پیدا ہونے والی بے چینی اور اٹھنے والی شورش کو کچلا تو نہیں جا سکا تھا۔

سن ستر میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کو قید کرکے مغربی پاکستان لا نے سے مسئلہ تو حل نہیں ہوا تھا۔ بنگالی زبان کے روز نامہ اتفاق کی عمارت کو ٹینک سے زمین بوس کرنے سے بھی جنرل یحٰی خان مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل ہونے سے نہیں روک سکے۔ جنرل ٹکا خان کی خواہش تھی کہ زمین رہے ، لوگ رہیں یا نہ رہیں۔ لوگ تو رہے لیکن زمین پاکستان کی ہی نہیں رہی۔

کیا سبق حاصل کیا؟
 کیا پاکستان اور خصوصًا بلوچستان کے سیاسی لیڈر مشرقی پاکستان میں پیش آنے والے واقعات سے سبق حاصل کرنے کے لیئے تیار نہیں ہیں؟

جنرل ضیاء بھٹو کو پھانسی دلا کر اور جلد بازی کے ساتھ ان کی تدفین کرانے کے باوجود 1979 سے 1988 میں اپنی موت تک سکون کے ساتھ حکمرانی تو نہیں کر سکے تھے۔ ایم آر ڈی کی مہم کے دوران 1983 میں ستمبر کے ہی مہینے میں ان کے ضلع دادو کے دورے کے دوران لوگوں نے گدھوں کا جو جلوس نکالا تھا، اس وقت جنرل کی خوف سے بھر پور کیفیت دیدنی تھی۔

بگٹی کی لاش کی اس طرح چوری چھپے تدفین پر جب عام لوگ ہی اعتبار کرنے پر تیار نہیں ہیں تو ان کے حقیقی اور ان سے زیادہ سیاسی ورثاء تو طویل عرصے تک اسی بند تابوت کی چابیاں ہی تلاش کرتے رہیں گے اور اسی قبر کے گرد بارود سے زیادہ گرم الفاظ کا استعمال کرتے رہیں گے ۔ بلوچستان کی فضاء میں پہلے ہی بارود کی کیا کم بو تھی؟

کہا گیا کہ مولوی ملوک نے لاش کی شناخت کرلی ہے۔ بھٹو کی لاش کی شناخت مولوی محمود نے نہ صرف کر لی تھی بلکہ مولوی ملوک کی طرح مولوی محمود نے بھی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ لوگ ایک طویل عرصے تک گڑھی خدا بخش میں بھٹو کے خاندانی قبرستان کے گرد مختلف کہانیاں سنتے اور سناتے ہی پائے‎ جاتے تھے۔ پھر مولوی ملوک نے تو معاملہ ہی لگے ہاتھوں نمٹا دیا۔

جو لوگ ٹی وی کی لائیو نشریات دیکھ رہے تھے وہ بتاتے ہیں کہ ایک چینل کے نمائندے نے بتایا کہ جب انہوں نے مولوی ملوک سے معلوم کیا کہ آپ نے بگٹی کی لاش کی شناخت کی، تو مولوی ملوک نے جواب دیا کہ ڈی سی او ( ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر عبد الصمد لاسی) سے معلوم کر لو۔ ان کے اس مبہم جواب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سرکاری گواہ بننے پر آمادہ نہیں تھے۔

نماز جنازہ
کہا گیا کہ مولوی ملوک نے لاش کی شناخت کرلی ہے

کپڑوں کی شناخت کرانا، چشمہ، گھڑی اور انگوٹھی کی نمائش کراکے حاکم وقت کے کارندے ڈیرہ بگٹی کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر نے بھی سمجھ لیا کہ شاید انہوں نے چہرہ دکھانے کی کارروائی انجام دے دی ہے۔ بے چارہ لاسی یہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔ اگر وہ یہ نہ کرتے تو انہیں بگٹی کی تدفین والے روز ہی ترقی کیوں کر ملتی۔ ان کی گراں قدر کارکردگی اور خدمات کے اعتراف میں جام یوسف کی حکومت فوری طور پر تو یہی کر سکتی تھی۔

ڈی سی او کا کہنا ہے کہ لاش کی حالت خستہ ہو گئی تھی اس لیئے حقیقی ورثاء کے حوالے نہیں کی گئی۔ انہیں اور ان کے حاکموں کو خدشہ تھا کہ تعفن اٹھتا ہے، اس لیئے اپنی دانست میں انہوں نے لاش نے ان کے حوالے کی اور نہ ہی چہرہ دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ ایسا ہی انہوں نے فوج کی طرف سے لائے جانے والے صحافیوں نے کہا۔ بلوچستان میں اب جو تعفن اٹھے گا اس سے حکمران اپنی ناک کب تک بند رکھ سکیں گے؟

معمر سیاستداں سردار شیر باز خان نے تو ایک انٹرویو میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض عناصر بگٹی اور حکومت مفاہمت کے حق میں نہیں تھے۔ شیر باز بگٹی کے قریب ترین رشتہ دار ہی نہیں بلکہ ان کے دوست بھی تھے۔ انہوں نے تو اپنے اخباری بیان میں یہاں تک کہ دیا تھا کہ جنرل اگر تمہارے جسم میں ’اونیسٹ بون‘ ہے تو میرے دوست کی لاش اس کے حقیقی ور‎‌ثاء کے حوالے کردو تاکہ وہ اس کی تدفین کا اہتمام اپنے رسم و رواج کے مطابق کر سکیں۔

گڑھی خدا بخش میں بھٹو کی قبر
گڑھی خدا بخش میں بھٹو کی قبر

1977 میں بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔ بھٹو چاہتے تھے کہ ولی خان والوں کے خلاف قائم حیدرآباد ٹرائیبیونل ختم کر دیا جائے تو بھرے اجلاس میں جنرل ضیاء نے اس خیال کو مسترد کردیا تھا لیکن اقتدار پر قبضہ کرنے کے تھوڑے عرصے بعد ہی ٹرائیبیونل ختم کرکے تمام رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا تھا۔

عام لوگوں کا خیال ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے تابوت میں بگٹی کی لاش بند کرائی ہو یا نہیں، لیکن انہوں نے بلوچستان اور وفاق پاکستان کے رشتے کو، چھوٹے صوبوں کے عوام کے فوج پر پہلے ہی کمزور اعتماد کو اور فوج سے خوف کھانے والی کیفیت کو اس تابوت میں ضرور دفن کردیا ہے۔

یہ تابوت ایک نئی مزاحمت کی علامت بن جائے گا۔ بعض مبصرین کی رائے ہے کہ اگر سیاستداں صحیح سمت کا تعین کرسکے اور کرنے میں کامیاب رہے تو پاکستان حقیقی جمہوریت کی راہ پر گامزن ہو سکے گا اور اگر جیسے عطا اللہ مینگل کہہ رہے ہیں کہ لیڈر عوام کے پیچھے چلنے پر مجبور ہیں تو پھر نتائج سے طفل مکتب بھی آگاہ ہیں۔

کیا پاکستان اور خصوصًا بلوچستان کے سیاسی لیڈر مشرقی پاکستان میں پیش آنے والے واقعات سے سبق حاصل کرنے کے لیئے تیار نہیں ہیں؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد