’حکومتی جرگے کا فیصلہ قبول نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کے داماد اور سینیٹر شاہد بگٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کے تشکیل کیے ہوئے جرگے کا اکبر بگٹی کی تدفین سے متعلق فیصلہ ان کے ورثاء کے لیئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرکاری جرگے میں نواب اکبر بگٹی کے خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں اور نہ ہی وہ اس جرگے کا حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواب کے دو بیٹے ابھی حیات ہیں جو بگٹی کے حقیقی وارث ہیں تو جو یہ لوگ چاہیں گے وہاں ہی بگٹی کے جسد خاکی کی تدفین کی جائے گی۔ اس سوال پر کہ لاش کو جرگے کے بجائے ورثاء کی مرضی سے دفنائے جانے کے حوالے سے وفاقی یا صوبائی حکومت سے بات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا’انہوں نے شروع دن سے ہی اس وقت جب حکومت اور آئی ایس پی آر کے نمائندوں نے ٹی وی اور اخبارات میں نواب اکبر بگٹی کی شہادت کا اعلان کیا تھا اس دن سے ہم چوہدی شجاعت، مشاہد حسین اور چیئرمین سینیٹ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ اکبر بگٹی کی میت ان کے جائز ورثاء کے حوالے کی جائے اور جہاں ان کے ورثاء چاہیں اس کی تدفین کی اجازت دی جائے مگر ان کے ہاں سے محض حیلے بہانے ہوتے ہیں کہ ہاں ان کی میت ورثاء کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ ہم نے ان کی لاش کو کوئٹہ میں حوالے کرنے کی بات کی تو ان کی جانب سے لاش ملبے تلے دفن ہو جانے اور اس کے نکالے جانے میں کافی وقت لگنے کی باتیں ہونے لگیں‘۔ شاہد کا کہنا تھا’اس دوران حکومتی اراکین مسلسل ہم سے یہ پوچھتے رہے کہ آپ لاش کی کہاں تدفین کریں گے تو ہمارا کہنا تھا کہ یہ ہمارا مسئلہ ہے کہ ہم اس کی تدفین کہاں کریں گے۔ ابھی نواب صاحب کی میت ہمارے پاس آئی نہیں ہے تو ہم اس کے بارے میں کیا فیصلہ کریں جب آپ میت ہمارے حوالے کریں گے تب ہی ہم اس بارے میں سوچیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا’ آج سے چار دن قبل مشاہد حسین نے انہیں اور نواب کے بیٹے طلال بگٹی کو بتایا تھا کہ جس جگہ ملبے میں نواب صاحب دبے ہوئے ہیں وہاں دوران کھدائی ان کا چہرہ نظر آگیا ہے۔ جب ایک شخص جو ملبہ تلے دفن ہے اور اس کا چہرہ نظر آگیا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ان کے بقایا جسم کو نکالنے میں چار دن لگ جائیں‘۔ حکومت کی طرف سے جرگے کے فیصلے کے مطابق بگٹی کی میت کسی جگہ دفن کرنے کی بات پر ردعمل کے بارے میں شاہد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ان کے جائز لواحقین کی مرضی کے خلاف تدفین کرتی ہے تو یہ اسلامی، انسانی اور قبائلی ہر حوالے سے بہتر نہیں ہوگا اور ایک انتہائی غیرمناسب فعل ہوگا۔ لاش مل جانے پر پوسٹ مارٹم کے سوال پر شاہد کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ لاش مل جانے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں بگٹی کی ہلاکت پر پشاور میں احتجاج31 August, 2006 | پاکستان ’بگٹی کی لاش نکالنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں‘30 August, 2006 | پاکستان ’بگٹی کی ہلاکت کی تحقیقات کرائیں‘30 August, 2006 | پاکستان تمام شاہراہیں بند، سات سو گرفتار30 August, 2006 | پاکستان ’غار میں اکبر بگٹی کی لاش دکھائی دی‘31 August, 2006 | پاکستان ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||