تمام شاہراہیں بند، سات سو گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خلاف بدھ کو بلوچستان کی اہم بڑی شاہراہیں احتجاج بلاک کر دی گئیں جبکہ بعض مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ کوئٹہ سے صوبہ سندھ، ایرانی سرحد کے قریب واقع شہر تفتان اور جیکب آباد کے راستے پنجاب جانے والی شاہراہوں اور کراچی کو گوادر سے منسلک کرنے والی ساحلی شاہراہ کو مختلف مقامات پر بلاک کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی چھوٹی سڑکوں پر بھی مظاہرین نے دھرنے دیے ہیں۔ کوئٹہ میں بدھ کو تشدد کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ سریاب روڈ پر مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا ہے جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ شہر میں بدھ کو بیشتر دکانیں بند رہیں اور سڑکوں پر بہت کم ٹریفک نظر آئی۔ مجموعی طور پر شہر میں خاموشی چھائی رہی۔ پولیس کی گاڑیاں بھی شہر میں گشت کر رہی ہیں۔ اُدھر مکران ڈویژن میں تمپ کے مقام پر مظاہرین نے گرڈ سٹیشن کو زبردستی بند کرا دیا تھا جس سے گوادر تربت اور آس پاس کے علاقوں کو بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ خضدار میں کشیدگی جاری ہے۔ نال کے علاقے میں نامعلوم افراد نے کچھ دکانوں کو جلادیا ہے۔ حالیہ فسادات میں سرکاری عمارتوں اور دفاتر کے علاوہ نجی املاک اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ نجی املاک اور دکانیں زیادہ تر ان لوگوں کی ہیں جو صوبہ پنجاب سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں یا کاروبار کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے کہا ہے کہ چار دنوں میں پولیس نے چھ سو سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا ہے ۔ ان میں سے بے گناہ لوگوں کو چھوڑ دیا جائے گا جبکہ تشدد کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے بتایا کہ بلوچستان کو کراچی سے ملانے والی دونوں شاہراوں کو مظاہرین نے بند کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ایران سرحد کو جانے والی شاہراہ کے علاوہ کراچی اور گوادر کو ملانے والی شاہراہ کو بھی مظاہرین نے بند کر دیا ہے۔ اکبر بگٹی کے حمایتی رہنماء حبیب جالب نے کہا ہے کہ پولیس نے ساڑھے آٹھ سو کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن ستر ہزار مظاہرین اکبر بگٹی کی حمایت میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ شاہراوں کو کھوالنے کے لیئے مظاہرین کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ |
اسی بارے میں پوتے، نواسے آگے بڑھیں گے: بگٹی28 August, 2006 | پاکستان حکومتی بیان ڈرامہ ہے: امان اللہ کنرانی 28 August, 2006 | پاکستان احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||