ریاض سہیل (کراچی) اور مناء رانا (لاہور) بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
 | | | بگٹی، محافطوں کے ساتھ |
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بسنے والے بلوچ کو جہاں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر صدمہ ہوا ہے وہاں انہیں اس بات پر شدید غصہ ہے کہ حکومت نے آخر گفت و شنید کے ساتھ معاملات کیوں حل نہیں کئے۔ لیاری کے رہائشی طارق رحمانی ’ملک کی تمام اہم سیاسی جماعتوں کے سیاستدانوں نے یہ کہا تھا کہ معاملات بات چیت سے حل کئے جائیں مگر موجودہ حکومت طاقت پر یقین رکھتی ہے اس نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کردیئے۔‘  | لاکھوں شیر  ایک شیر مرگیا ہے مگر لاکھوں شیر ابھی زندہ ہیں، انشاللہ اس کا بدلا لیں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے۔  ایک بلوچ عورت، کراچی |
بابو رحمانی بلوچ ’لوگ اپنے حقوق اور انصاف مانگتے ہیں مگر یہاں پولیس راج، غنڈہ راج اور فوج راج ہے۔ جس قوم کو انصاف نہیں ملتا وہ انتقام پر اتر آتی ہے، جب معاشرے اور عدالتوں میں انصاف نے ملے تو لوگ بندوق اٹھالیتے ہیں۔‘عرفان احمد ’یہ بہت غلط ہوا۔ کیا اپنے ملک میں اس طرح بمباری کی جاتی ہے، جب بات چیت سے مسائل حل ہوسکتے تھے تو اس لڑائی کی ضرورت کیا تھی۔‘  | پاکستان کی خیر ہو  حکومت ہو بہو ویسے ہی حالات پیدا کر رہی ہے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنے تھے۔ اللہ پاکستان کو ٹوٹنے سے بچائے۔  پروفیسر محمد جاوید، لاہور |
جمال حیدر، نائب ناظم، لیاری یونین کاؤنسل ’حکومت نے ظلم کیا ہے۔ اکبر بگٹی بلوچستان کا ایک نام تھا، ایک بڑا سیاستدان تھا، ان سے بات چیت کے ساتھ مسائل حل ہوسکتے تھے، مگر نہ جانے کیوں بات چیت کے بجائے انہیں سپرد خاک کیا گیا ہے۔‘محمد عارف ’نواب اکبر کی ہلاکت بلوچ قوم کے لئے سانحہ ہے۔ آج ان کے ساتھ یہ ہوا ہے کل دوسروں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔‘ محمد عزیر بلوچ
 | ایسے تو حالات نہیں  لیکن ایسا نہیں کہ اس سے پاکستان ٹوٹ سکتا ہے یا مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔  نورین، لاہور |
’افسوس کی بات ہے کہ مشرف حکومت نے ایک تو نواب اکبر کو ماردیا اب انہیں دہشتگرد قرار دیا جارہا ہے۔ایک افسوسناک واقعے کے بعد وہ غلط تصور دے رہے ہیں۔ اپنے حق کی خاطر لڑنے والوں کو دہشتگرد کہا جارہا ہے۔ جو قوم حقوق کے لئے لڑرہا ہے اس کو گولی کے زور پر نہیں دبایا جاسکتا۔ بگٹی کا قتل ایک فرد کے نہیں پورے بلوچستان کے لوگوں کے قتل کے برابر ہے۔‘جہانگیرروڈ پر مظاہرہ کرنے والی ایک خاتون ’ایک شیر مرگیا ہے مگر لاکھوں شیر ابھی زندہ ہیں، انشاللہ اس کا بدلا لیں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ مشرف نے بلوچوں کو کیا دیا ہے؟ نہ ان کے پاس کوئی کام دھندہ ہے، ان کے علاقے گندگی سے بھرے ہیں۔ مشرف نے بلوچوں کی زندگی تباہ کی ہے۔‘
 | پنجاب کے عوام بے قصور  اس میں پنجاب کے عوام کا کوئی قصور نہیں ہاں البتہ چونکہ حکومت میں پنجاب سے زیادہ لوگ شامل ہیں اور انہوں نے اس تمام صورتحال میں اپنا کردار بہتر طور پر نہیں نبھایا۔  رانا ظفر، لاہور |
پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر عام شہری افسردہ اورغمگین ہیں اور اسے ایک برا اقدام قرار دے رہے ہیں۔تحریک پاکستان کے رکن اٹھہتر سالہ امیر علی (روتے ہوئے) ’نواب اکبر علی بگٹی کی ہلاکت بہت برا اقدام ہے۔ وہ تحریک پاکستان کے رکن تھےاوراب ایسے حالات نظر آ رہے ہیں جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت پیدا ہوئے تھے۔‘ پروفیسر محمد جاوید ’حکومت ہو بہو ویسے ہی حالات پیدا کر رہی ہے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنے تھے۔ اللہ پاکستان کو ٹوٹنے سے بچائے۔ نواب اکبر نے قیام پاکستان کے وقت پاکستان کی مدد کی ایسے شخص کو اس طرح ہلاک کر دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی کئی علیحدگی پسند تنظیمیں ہیں لیکن ان تنظیموں کے رہنماؤں کے ساتھ اس طرح نہیں کیا جاتا۔‘ رانا ظفر
 | سرکاری کی حمایت  ایسا نہیں ہو گا۔ پاکستان قائم رہے گا اور حکومت امن قائم رکھنے کے لیے جو اقدام کرتی ہے درست کرتی ہے۔  ایک معمر شخص، لاہور |
’ہر ملک میں سیاست دانوں کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں لیکن اس طرح ایک قومی سطح کے رہنما کو ہلاک کرنا بہت افسوس ناک عمل ہے اور اس کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیئے۔ لگتا ہے ملک کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کی جا رہی ہے۔ اس میں پنجاب کے عوام کا کوئی قصور نہیں ہاں البتہ چونکہ حکومت میں پنجاب سے زیادہ لوگ شامل ہیں اور انہوں نے اس تمام صورتحال میں اپنا کردار بہتر طور پر نہیں نبھایا۔‘نورین ’اگرچہ نواب بگٹی کو ہلاک کرنا ایک اچھا اقدام نہیں تھا لیکن ایسا نہیں کہ اس سے پاکستان ٹوٹ سکتا ہے یا مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام میں ابھی ایسے تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ علیحدہ ہونا درست نہیں ہوگا اور وہ اپنا کردار ادا کریں گے۔‘ علم عاطف ’اکبر بگٹی کی ہلاکت سے ہمیں بہت دکھ پہنچا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ مشرقی پاکستان کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ بلوچستان اب پاکستان کا حصہ رہے گا۔‘ انور ’اکبر بگٹی کی ہلاکت سے بلوچستان کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور ڈر ہے کہ حالات اتنے خراب نہ ہو جائیں کہ ملک ٹوٹ جائے۔‘ ایک عمر رسیدہ شخص ’ایسا نہیں ہو گا۔ پاکستان قائم رہے گا اور حکومت امن قائم رکھنے کے لیے جو اقدام کرتی ہے درست کرتی ہے۔‘ |