BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 01:32 GMT 06:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی۔ بھٹو کے بعد لیجنڈری موت

نواب اکبر بگٹی حالیہ مہینوں میں روپوش تھے

وہ سوئس چاکلیٹوں کے ریپروں، یا پرانی وہسکی کی بوتلوں پر بنی ہوئی تصویروں والے بڈھوں، یا کرسمس والے سانتا کلاز کی شکل سے ملتے ہوئے باریش باغی بلوچ سردار نواب اکبر بگٹی پاکستانی فوج کے ہاتھوں چے گویرا کی طرح لڑتا ہوا مارا گیا ہے- اکبر بگٹی جسے دیکھ کر مجھے ہمیشہ کبھی بلوچستان میں ’پولیٹیکل ایجنٹ‘ اکبر ایس احمد کے ان کے متعلق لکھے ہوئے الفاظ یاد آتے: ’جیسے اداکار اینتھونی کوئین کسی فلم میں قبائلی سردار کی ایکٹنگ کررہا ہو-‘


مجھے یقین ہے کہ ان کی موت پر عام طور پر پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان میں لوگوں کو دکھ تو ہوا ہوگا لیکن حیرت نہیں ہوئی ہوگی- جیسے انہوں نے خود پہاڑوں میں اپنے کیمپ پر ایک امریکی صحافی کو کہا تھا: ’وہ جو امریکی کہتے ہیں نا اپنے رکابوں پر پاؤں دھرے مرو۔ تو بستر پر سست رو موت مرنے سے بہتر ہے کہ ایک مقصد کیلیے لڑتے ہوئے مارا جاؤں-‘

سنگلاخ بلوچستان کی سرزمین پر’وہ چیتا تھا چیتا‘۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں امریکی صحافی سلویا میتھس نے، جس نے پانچ سال بگٹی قبائل کے ساتھ گزارے تھے، اپنی کتاب کا عنوان اور ان کا نام ’ٹائیگرز آف بلوچستان‘ رکھا تھا۔ اسی کتاب میں ہی نواب اکبر بگٹی نے اسے بتایا تھا: ’جب تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے اپنی زندگی کا پہلا قتل گیارہ سال کی عمر میں کیا تھا- ضروری نہیں کہ وہ میرا پہلا ہی قتل ہو-‘

 نواب اکبر بگٹی کی زندگی ایک نہایت ہی رنگا رنگ، خوفناک، خونی، ڈرامائي، شاعرانہ، دلچسپ، مہم جو، بھرپور، پرانتقام، ضدی، انقلابی اور جاگیردارانہ اور انکی موت موجودہ پاکستان اور ایران کی تمام تاریخ میں عمر رسیدہ سردار چاکر خان (بلوچ قوم کے بانی) اور نوروز خان (جنہیں انکے بھائی اور بیٹوں کے ساتھ ایوب خان کی حکومت نے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پھانسی دی تھی) کے بعد لیجنڈری کہلا‎ئے گی- پاکستان میں شاید یہ بھٹو کے بعد ایک لیجنڈری موت بن جائے-
ان کے علاقے میں لوگ بتاتے ہیں کہ ان کے قبیلے کا ایک بگٹی ان کے پاس آیا اور ان سے اپنے بھائی کے قتل کا انتقام لینے کا کہا- نواب نے اپنے محافظ سے بندوق مانگی اور موقع پر ہی اس بگٹی کو ہلاک کرتے ہوئے کہا: ’اس شخص کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں جو اپنے بھائی کے قتل کا انتقام نہ لے سکتا ہو۔‘

نواب اکبر بگٹی کی زندگی ایک نہایت ہی رنگا رنگ، خوفناک، خونی، ڈرامائي، شاعرانہ، دلچسپ، مہم جو، بھرپور، پرانتقام، ضدی، انقلابی اور جاگیردارانہ اور ان کی موت موجودہ پاکستان اور ایران کی تمام تاریخ میں عمر رسیدہ سردار چاکر خان اور عمر رسیدہ نوروز خان (جنہیں ان کے بھائی اور بیٹوں کے ساتھ ایوب خان کی حکومت نے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پھانسی دی تھی) کے بعد لیجنڈری کہلا‎ئے گی- پاکستان میں شاید یہ بھٹو کے بعد ایک لیجنڈری موت بن جائے-

’یہ انیس سو ستر کا زمانہ نہیں کہ ہم انہیں پہاڑوں کے پیچھے ڈھونڈتے رہیں۔ انہیں پتہ بھی نہیں پڑے گا کہ وہ کس چیز سے ہِٹ ہوئے ہیں۔‘ اکبر بگٹی سمیت دو اور حکومت مخالف بلوچ سرداوں کیلیے پاکستان کے فوجی حکمران پرویز مشرف نے کہا تھا- بلوچ قوم پرست کہتے ہیں فوجی حکمران پرویز مشرف نے بلوچوں کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو صدام حسین نے کردوں کے ساتھ کیا تھا-

’ہمارا مقصد جتنا ہوسکے جنرل پرویز مشرف کی زندگی اجیرن بنانا ہے، ان سے ان کے بیرکوں میں واپس جانے تک لڑتے رہنا ہے۔’اس اناسی سالہ بیمار بلوچ سردار نے اب بلوچ گوریلوں کی قیادت کرتے ہوئے ایک غیرملکی صحافی سے کہا تھا-

مجھے بچپن میں بگٹیوں کے اس سردار کی ایک جلسے میں کی ہوئی تقریر یاد ہے جو انہوں نے اپنے بھائی میر احمد نواز کی انتخابی مہم چلانے کے دوران کہی تھی: ’گہنوک (غیربلوچ کے لیئے توہین آمیز لفظ ) کے سر کی قیمت کیا ہے۔ گہنوک کی خونبہا کالے گدھے کی پیٹھ پر رکھی ہوئی جو کی بس ایک بوری ہے-‘

یہ وہ زمانہ تھا جب علاقے میں بگٹیوں کا ایک اور بلوچ قبیلے جکھرانیوں کے ساتھ قبائلی تصادم تھا جو ایک صدی سے ایک فریق کی کھیتوں میں دوسرے کے جانور کے چلے آنے سے شروع ہوا تھا اور انیس سو اسی کی دہائي میں صلح صفائی پر ختم ہوا-

 یہ وہ بگٹی تھا جس کی گورنو بلوچستان کی حیثیت سے ریڈیو پر انگریزی زبان میں نشر ہونیوالی تقریر اور بھٹو کی انگریزی زبان پر دسترس پر عام لوگ ہوٹلوں پر ’مقابلہ بازی‘ کرتے تھے- شہباز خان المعروف نواب اکبر بگٹی بگٹی سردار محراب خان کے بیٹے تھے جنکا نام اپنے دادا شہباز خان پر رکھا گیا تھا-
یہ وہ بگٹی تھا جس کی گورنو بلوچستان کی حیثیت سے ریڈیو پر انگریزی زبان میں نشر ہونے والی تقریر اور بھٹو کی انگریزی زبان پر دسترس پر عام لوگ ہوٹلوں پر ’مقابلہ بازی‘ کرتے تھے- شہباز خان المعروف نواب اکبر بگٹی بگٹی سردار محراب خان کے بیٹے تھے جن کا نام اپنے دادا شہباز خان پر رکھا گیا تھا-

جب فروری اٹھارہ سو تینتالیس میں سر چارلس نیپيئرنے سندھ فتح کرنے کی مہم کے دوران جیکب آباد اور سبی کیطرف پیش قدمی کی تھی تو بگٹی قبائل نے انہیں زبردست مزاحمت دی تھی جسکے بعد انکے سردار شہباز خان کو انگریزوں کو رام کرنا پڑا تھا-

جب سندھ میں حروں نے انگریز سرکار کےخلاف بغاوت کی تو اسے کچلنے کیلیئے پنجابی اور پٹھان فوجیوں کے ساتھ انگریزوں نے بگٹیوں کی بھی خدمات حاصل کی تھیں جس کے صلے میں شہباز خان کو سندھ میں سانگھڑ ضلعے میں بڑی جاگير دی گئی جو آج بھی کوٹ نواب بگٹی کے نام سے مشہور ہے اور ماضی میں یہ کوٹ بگٹی پرائیوٹ جیلوں کے حوالے سے کافی بدنام ہوا-

سر شہباز خان کو انگریزوں نے کائونٹ بنایا تھا، جب موجودہ ملکہ برطانیہ کی تاجپوشی کی لندن میں رسم ہوئی تو اس میں اکبر خان بھی شریک تھے- اکبر بگٹی کی انگریز اور اینگلو انڈین آیائیں تھیں-

انکے بچپن میں ہی ان کے والد محراب خان کا انتقال ہوگیا تو ان کی زمینیں اور دوسری املاک کا انتظام انکے بالغ ہونے تک حکومت کے زیر انتظام کورٹ آف وارڈس میں آ گیا اور ان کی اور ان کے بھائي احمد نواز کی تعلیم و تربیت کے لیئے سندھ کے عالم اور وائس چانسلر علامہ آئی آئی قاضی کو اتالیق مقرر کیا گیا- وہ کچھ عرصے تک سندھ مدرسہ اسکول میں بھی پڑھتے رہے تھے۔

نواب اکبر بگٹی میں ایک ہی وقت ہزاروں سال پرانا قبائلی، جدید پڑھا لکھا ذہن، لاطینی امریکی گوریلا طبعیت، اور ایک لاخدا ناستک ساتھ ساتھ رہتے تھے-انکی لائبریری میں فلفسہ (جو انہوں نے علامہ آئی آئی قاضی سے سیکھا)، تاریخ اور کلاسیکی انگریزی ادب اور شاعری پر ہزاروں کتابيں تھیں جو پاکستانی فوج کے انکے ڈیرہ بگٹی گھر پر حملے میں تباہ ہوئيں- بکرے کی ہڈی میں ہزاروں سالہ قبائلی رواج کےمطابق مستقبل کا اندازہ لگانے والے نواب بگٹی ملٹن اور شیکسپیئر کی شاعری اور ڈراموں پر گھنٹوں بولتے رہتے تھے-

جنرل مشرف اور ان میں کم از کم ایک قدر مشترک تھا کہ وہ بھی کچھ سالوں پہلے تک سکاچ وہسکی کے شوقین پینے والے تھے-

 نواب اکبر بگٹی میں ایک ہی وقت ہزاروں سال پرانا قبائلی، جدید پڑھا لکھا ذہن، لاطینی امریکی گوریلا طبعیت، اور ایک لاخدا ناستک ساتھ ساتھ رہتے تھے-انکی لائبریری میں فلفسہ (جو انہوں نے علامہ آئی آئی قاضی سے سیکھا)، تاریخ اور کلاسیکی انگریزی ادب اور شاعری پر ہزاروں کتابيں تھیں جو پاکستانی فوج کے انکے ڈیرہ بگٹی گھر پر حملے میں تباہ ہوئيں- بکرے کی ہڈی میں ہزاروں سالہ قبائلی رواج کےمطابق مستقبل کا اندازہ لگانے والے نواب بگٹی ملٹن اور شیکسپیئر کی شاعری اور ڈراموں پر گھنٹوں بولتے رہتے تھے-
غیرملکی خواتین صحافیوں اور انتھروپالوجسٹوں سے گھنٹوں تک باتیں کرنے والے اکبر بگٹی خود اپنی عورتوں کے بارے میں سخت قدامت پسند واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ان کے دوسرے قبائل کی طرح ان کے قبیلے میں بھی ’سیاہ کاری‘ یا کارو کاری پر عورتیں قتل ہوتیں اور وہ انکے فیصلے کیا کرتے-

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پاکستانی فوج کیخلاف بلوچ گوریلے ہتھیار لیکر پہاڑوں پر اسوقت چلے گئے تھے جب سیاہ کاری یا کارو کاری میں قتل ہونیوالی ایک عورت کی خون آلود شلوار انتظامیہ نے کیس پراپرٹي کے طور پر طلب کی تھی جس پر بلوچ مشتعل ہوگئے تھے-

بلوچوں کا احتجاج بعد میں بلوچ شورش میں تبدیل ہوا- بلوچ سردار نوروز خان اور اس کے بیٹوں کو حیدرآباد جیل میں پھانسی دیدی گئی تھی- جبکہ اکبر بگٹی کو بھی ایوب خان کی حکومت نے پھانسی کی سزا دی جو ان کے دوست ذولفقعار علی بھٹو کی کوششوں سے انکو معافی میں تبدیل ہوگئی-

اسی دوران حکومت نے ان کو سرداری سے ہٹاکر ان کے قبیلے میں انکے مخالف کو بگٹی قبائل کا سردار بنوایا لیکن بگٹی قبائل نے چوبیس گھنٹوں کے اندر نئے حکومتی سردار کا سر قلم کردیا تھا۔

یحیٰی خان کے دنوں میں پاکستان میں ہونے والے پہلے انتخابات میں ان کو نااہل قرار دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنے بھائي اور نیشنل عوامی پارٹی کے امیدوار میر احمد نواز بگٹی کی حمایت میں مہم چلائی تھی-

انیس سو ستر کے انتخابات میں بلوچستان کے نتائج حیرت انگيز طور پر آئے تھے۔ ان انتخابات میں نواب خیر بخش مری نے قومی اسمبلی کی کوہلو والی نشست سے تمام پاکستان میں سب سے زیاد ووٹ شاید ایک لاکھ سے بھی زیاد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ نچلے متوسط طبقے سے آئے ہوئے نوجوان ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے خان آف قلات کے بیٹے کو شکست دی تھی-

بلوچوں نے ثابت کردیا تھا کہ وہ مسلح تحریک کے بجائے انتخابی عمل کو ترجیح دیتے ہیں- لیکن مشرقی پاکستان میں ہونیوالے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے پر پیدا ہونیوالے بحران کے دنوں میں اکبر بگٹی نے پاکستان، بھارت اور افغانستان کے بیچ کنفیڈریشن کی تجویز دی تھی۔

 انکے بچپن میں ہی انکے والد محراب خان کا انتقال ہوگیا تو انکی زمینیں اور دوسری املاک کا انتظام انکے بالغ ہونے تک حکومت کے زیر انتظام کورٹ آف وارڈس میں آ گیا اور انکی اور انکے بھائي احمد نواز کی تعلیم و تربیت کیلیے سندھ کے عالم اور وائس چانسلر علامہ آئی آئی قاضی کو انکا اتالیق مقرر کیا گیا- وہ کچھ عرصے تک سندھ مدرسہ اسکول میں بھی پڑھتے رہے تھے۔
انیس سو تہتر میں ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں نیپ کی حکومت ختم کرنے پر انہیں بلوچستان کا گورنر مقرر کیا- نیپ کی حکومت ختم ہونے کے ردعمل میں بھٹو حکومت کیخلاف بلوچ بغاوت کرنے کیلیے پہاڑوں پر چلے گئے۔ بلوچستان میں ان کی ہی حکومت کے دوران کوئٹہ میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کنونشن میں حبیب جالب نے یہ شعر پڑھا تھا:

’سنو بھائی اکبر بگتی
میں بات کہوں یہ چکتی
جھہوری تحریکیں
گولی سے نہیں دبتی۔‘

بلوچوں میں قصہ مشہور ہے کہ بلوچستان میں انیس سو تہتر کے فوجی آپریشن کے دوران بلوچ قوم پرستوں نے انہیں ’غدار بلوچستان‘ قرار دیا تھا- اسی آپریشن کے دوران بھٹو نے بلوچستان میں ’شش‘ ( آمدنی کا چھٹہ حصہ قبائلی اپنے سردار کو ادا کرتے ہیں) اور سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا- کوئٹہ میں گورنر ہاؤس میں ایک ڈنر کے دوران ذوالفقار علی بھٹو پر یہ ثابت کرنے کیلیے کہ ان کے اعلان کے باوجود سرداری سسٹم حقیقت میں کیا ہوتا ہے انہوں نے اپنے ایک قبائلی بگٹی کو اپنے پاس بلایا اور اسے کباب کی ایک ايگ گرم سیخ اپنی مٹھی میں کچھ لحظے پکڑ کر رکھنے کو کہا اور قبائلی نے نواب کے ایسے حکم کی تعمیل کی۔

ذوالفقار علی بھٹو، اردیشر کاوسجی اور الاہی بخش سومرو بگٹی کے ذاتی دوستوں میں سے تھے۔ اردیشر کاوسجی سے انہوں نے بینظیر بھٹو حکومت کے ختم ہوجانے کی ایک لاکھ روپوں پر شرط لگائي تھی جو کاوسجی ہار گئے اور انہوں نے شرط کے پیسے اکبر بگٹی کو بھیج دیے جس پر انہوں نے کاوسجی سے کہا تھا کہ وہ ایک ’کافر‘ کی رقم استعمال نہیں کرسکتے۔ کہتے ہیں بعد میں وہ رقم انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کو عطیہ دی تھی-

نواب کے ’قوت مردمی‘ کی دواؤں کے شوق پر انگریزی ماہنامے ’نیوز لائن‘ کراچی میں چھپنے والی ایک ’پرائیوٹ آئی‘ ٹائپ باغی سٹوری پر وہ بہت ناراض ہوئے تھے اور شاید انہوں نے جریدے کو قانونی نوٹس بھی دیا تھا-

انیس سو ستر کی دہائي میں بلوچستان میں ان کی گورنری کے دوران ان کے بیٹے سلیم اکبر بگٹی کا کراچی کی ’ایلیٹس‘ کے نوجوانوں اور تب کی نائیٹ لائف میں بڑا چرچا اور ’ٹیکہ‘ تھا اور ایک دفعہ لڑکیوں کی ہی بات پر سلیم اکبر بگٹی کا آصف زرداری سے جھگڑا ہوا جس میں بگٹیوں نے آصف زرداری کی پٹائی کردی جس کا نشان شاید آج بھی آصف زدراری کے چہرے پر ہوگا۔

کسی زمانے میں وہ کھادی کی شلوار قمیض کے جوڑ ے پہنتے تھے جنکا کپڑا مچھ سینٹرل جیل میں سزا یافتہ قیدیوں کا بنایا ہوا ہوتا تھا-

 انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں وہ بلوچ نیشنل الائنس کیساتھ اتحاد سے بلوچستان کے وزیر اعلی بنے۔ پہلی بار بلوچستان کے ساحلی مکران میں ذکری اقلیتی فرقے کیخلاف مذہبی انتہا پنسدوں کیطرف سے ہونیوالے تشدد کو اکبر بگٹی کی حکومت نے سختی سے روکا- کچھ عرصے کے دوران انکے مرکز میں بینظیر بھٹو سے اختلافات پیدا ہوگئے جسکے نتیجے میں صوبے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کردیا گیا-
انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں وہ بلوچ نیشنل الائنس کے ساتھ اتحاد سے بلوچستان کے وزیر اعلی بنے۔ پہلی بار بلوچستان کے ساحلی مکران میں ذکری اقلیتی فرقے کے خلاف مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے ہونیوالے تشدد کو اکبر بگٹی کی حکومت نے سختی سے روکا-

کچھ عرصے کے دوران انکے مرکز میں بینظیر بھٹو سے اختلافات پیدا ہوگئے جس کے نتیجے میں صوبے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کردیا گیا- ایک دفعہ نواب اکبر بگٹی نے بینظیر بھٹو کو ’وڈیری‘ قرار دیا تھا-

انیس سو ترانوے میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بلوچی لباس میں ملبوس نواب بگٹی نے قومی اسمبلی میں حلف اپنی مادری زبان بلوچی میں اٹھایا جس پر ان کے خلاف کافی ’شور شرابہ‘ اٹھا تھا-

اسلام آباد اور بلوچستان میں مخلوط اتحاد کی حمایت کرنےوالی انکی پارٹی میں کم از کم دو اراکین صوبائی اسمبلی پر منشیات کی بین الاقوامی سمگنگ کا الزام لگا- ضیاء الحق کے دنوں میں ہونیوالے بلدیاتی اور پھر غیرجماعتی انتخابات میں قبائلی اور برادری کے بنیاد پر انتہائی خونریز تصادم ہوئے جن میں بلوچستان سب سے زیاد متاثر ہوا جہاں رئیسانی، رند اور بگٹی اور بگپی کلپر تنازعات سمیت کئي تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے۔

انیس سو اٹھاسی میں فوج اور مرکز مخالف قومپرستوں کے انتخابات جیت کر آنے اور انکی حکومت بنانے کی عددی صلاحیتوں اور مینگل اور مری جیسے قد آور بلوچ قومپرست رہنماؤں کے ملک سے باہر ہونے اور ملکی سیاست سے سخت مایوسی میں اکبر بگٹی ہی ایک ایسی قدآور اور طاقتور سیاسی شخصیت بنتی تھی جس سے فوج اور اسکی ایجینسیوں کو خطرہ تھا- اسلام آباد بگٹی کو کروڑوں روپے انکی اور انکے قبائیل کی زمینوں سے نکلے ہوئے تیل و گیس کے ذخیروں اور تنصیبات کی ’ليز‘ ادا ہونے کے باوجود ہمشہ ان پر ’بلیک میلنگ‘ کا الزام لگاتا رہا تھا-

انیس سو اسی کی دہائي میں تیل اور گیس کے ذخیرے ان کی زمینون پر سے نکلنے کے باوجود بگٹی قبائل آج بھی زیاد تر ماقبل تاریخ مانند دور گزار رہے ہیں اور جھوٹ اور سچ کی گواہی پاؤوں پر بکری کا خون مل کر دہکتے انگاروں والی آگ پر چل کر دیتے ہیں۔ نواب بگٹی نے ایسی ہی ’بگٹی ڈی این اے ‘ کی پیشکش ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ ریپ میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مبینہ ملزم کیپٹن حماد کو بھی کی تھی-

اگرچہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کی مقامی سیاست میں پیپلز پارٹی کے حمزہ بگٹی کا قتل علاقے میں بگٹی کی ’فرعونیت‘ بتائی جاتی تھی لیکن سنجیدہ بلوچ قوم پرست حلقے بھی اس کی آڑ میں آئی ایس آئی اور دیگر حکومتی و فوجی ایجنسیوں کو بگٹی کو کمزور اور کارنر کرنے کی سازش قرار دیتے ہیں-

 کسی بلوچ قومپرست نے کہا: ’جنرل مشرف کا نام تاریخ میں شاید غلام محمد اور چودھری محمد علی کی طرح تاریخ کے چھوٹے فوٹ نوٹ میں ملے جبکہ نواب بگٹی کا نام ایک بڑے ہیرو کے طور پر-‘ اور ایرانی اور پاکستانی بلوچوں کا یہ ’نیا ہیرو‘ ان کی تہران اور اسلام آباد کیخلاف مبینہ ناانصافیوں کی لڑآئيوں میں زیادہ مدد گار ثابت ہو۔ پاکستان کی فوج اسے ملے ہوئے امریکی ہتھیاروں سے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تو نہیں مار سکی لیکن نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کر ڈالا۔
انکے مخالف کلپر قبیلے کو بینظیر بھٹو حکومت میں چکوال اور ملتان اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں حکومت اور ایجینسیوں کی مالی مدد سے بسایا گیا-
کلپر وڈیرے کے بیٹے کے قتل کے بدلے میں نواب اکبر بگٹی کے بیٹے صلال بگٹی کو قتل کیا گیا جسکا الزام بگٹی نے ہمیشہ ریاستی ایجینسیوں پر لگایا- صلال کی تدفین کے وقت انہوں نے اپنی داڑھی کے بال کاٹ کر صلال بگٹی کی کفن میں رکھ دیے تھے جسکا مطلب ہے کہ وہ اسکے قتل کے انتقام کا بدلہ ضرور ہر صورت میں لیں گے- بگٹی کلپر تصادم نے انکے نقل و حرکت کافی عرصے سے صرف ڈیرہ بگٹی تک ہی محدود کردی تھی-

کہتے ہیں پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل وحید کاکڑ کو بینظیر حکومت نے انہیں تنبیہ کرنے کیلیے ڈیرہ بگٹی بھیجا تھا- اکبر بگٹی نے ان سے پوچھا: ’تم کس حیثیت سے ملنے آ‎ۓ ہو؟‘ تو انہوں نے کہا تھا: ’ميں وفاقی حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے آیا ہوں-‘ اس پر نواب بگٹی نے جنرل سے کہا تھا: ’ کیا وہ وفاقی حکومت جسکی فوج کے چھ ہزار لوگوں کو بلوچوں نے قتل کیا تھا-‘ اس پر جنرل کاکڑ نے جواب میں بگٹی سے کہا تھا: ’میں نہیں جانتا- لیکن میں جانتا ہوں کہ میں اگر چاہوں تو ابھی اور اسوقت تمہیں تمہارے اس محل سمیت زمین دوز کرسکتا ہوں-‘

آخر کار گذشتہ ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستنانی ایجنسیوں سے حالت جنگ میں مصروف نواب بگٹی کیساتھ پاکستانی فوج نے وہی کیا- لیکن اکثر بلوچوں کی اسلام آباد کیخلاف جلتی نفرت کی آگ پر اکبر بگٹی کا قتل نہ فقط پیٹرول ثابت ہوگا لیکن انکی موت نے اسے چاکر خان کے بعد بلوچی تاریخ کی ایک بڑی لیجنڈ بھی بنادیا ہے-

جیسے کسی بلوچ قومپرست نے کہا: ’جنرل مشرف کا نام تاریخ میں شاید غلام محمد اور چودھری محمد علی کی طرح تاریخ کے چھوٹے فوٹ نوٹ میں ملے جبکہ نواب بگٹی کا نام ایک بڑے ہیرو کے طور پر-‘ اور ایرانی اور پاکستانی بلوچوں کا یہ ’نیا ہیرو‘ ان کی تہران اور اسلام آباد کیخلاف مبینہ ناانصافیوں کی لڑآئيوں میں زیادہ مدد گار ثابت ہو۔ پاکستان کی فوج اسے ملے ہوئے امریکی ہتھیاروں سے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تو نہیں مار سکی لیکن نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کر ڈالا۔

اکبر بگٹی’مسئلہ حق کا ہے‘
’ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں‘
اکبر بگٹی کی ہلاکت
حکومت کی نئی پالیسی کا پہلا نشانہ؟
بگٹی پاکستانی اخبارات
’اکبر بگٹی کا پتہ سیٹلائٹ فون سے چلا ‘
ڈیرہ بگٹی ماضی، حال، مستقبل
برہمداغ اور آغا شاہد کو کون کون سی وزارتیں
بگٹیبدلتے رشتے
کل کے دشمن آج کےدوست ۔۔۔۔
اکبر بگٹی ’بگٹی کو بھاگنا ہوگا‘
اب تو اکبر بگٹی کو بھاگنا ہوگا: ڈی سی او
ڈیرہ بگٹیبگٹی قلعے میں
ایف سی چیک پوسٹ، نسوار اور بگٹی قلعہ
اسی بارے میں
بلوچستان کے ویرانوں میں
13 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد