BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 August, 2006, 22:30 GMT 03:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی ہلاکت: نئی پالیسی کا پہلا نشانہ؟

نواب اکبر بگٹی کئی مہینوں سے روپوش تھے
تقریبا اسی سالہ بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی اور ان کے دو پوتوں کی پاکستان فوج کی کمانڈو کارروائی میں ہلاکت کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ مرکز گریز تحریکوں سے نپٹنے کے لیے اسلام آباد ایک نئی حکمت عملی پر گامزن ہے جس میں ایسی تحریکوں کے قائدین ہدف پر ہیں۔

اکبر بگٹی پر چند برسوں سے جاری بلوچ قوم پرست اور عسکریت پسند تحریک کی قیادت کررہے تھے۔ گزشتہ سال ڈیرہ بگٹی میں ان کے آبائی گھر پر میزائیل سے حملہ ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ اس وقت سے وہ نامعلوم مقام پر روپوش تھے جہاں سے وہ میڈیا کو بیان جاری کرتے رہتے تھے۔

اکبر بگٹی زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان کے ریاستی نظام میں شامل رہے۔ وہ وفاقی وزیر اور گورنر بلوچستان رہے۔ انہوں نے سوئی سے قدرتی گیس نکالنے میں پاکستانی ریاست سے بھرپور تعاون کیا۔ اس کے عوض انہیں رائلٹی کی صورت میں کثیر دولت اور زبردست مراعات دی گئیں۔

 گزشتہ چند برسوں سے اکبر بگٹی کی طرف سے قوم پرست تحریک میں شدت سے سرگرم ہوگئے اور ان کا شدت پسند مرکز گریز مری قبیلہ کے سرداروں سے اشتراک بڑھتا چلا گیا۔
گزشتہ چند برسوں سے اکبر بگٹی کی طرف سے قوم پرست تحریک میں شدت سے سرگرم ہوگئے اور ان کا شدت پسند مرکز گریز مری قبیلہ کے سرداروں سے اشتراک بڑھتا چلا گیا۔

حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں قائم کی گئی پارلیمانی پارٹی اور اس کی بلوچستان کے حقوق کے حوالہ سے تیار کی گئی سفارشات بھی اس تنازعہ کو ختم نہیں کرسکیں اور گزشتہ سال سے بلوچستان میں مرکز گریز قوتوں کے خلاف فوجی کاروائی شروع کردی گئی۔

اسلام آباد کے جن پالیسی سازوں نے کوہلو میں کمانڈو کاروائی کرکے اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کیا ہے وہ بالواسطہ طور پر اس امکان کی طرف متعدد بار اشارہ کرتے رہے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے کئی بار موجودہ شدت پسند بلوچ تحریک کے علمبردار سمجھے جانےوالے تین بلوچ سرداروں نواب خیر بخش مری، نواب عطا اللہ مینگل اور نواب اکبر بگٹی کو للکارا ہے۔ اس لیے چھبیس اگست کو کوہلو میں کی گئی کاروائی خلاف توقع نہیں۔

اکبر بگٹی کی ہلاکت سے دو دن پہلے گزشتہ جمعرات کو ڈیرہ بگتی میں نواب اکبر بگتی کے خلاف بگٹی قبائل کے لوگوں نے ایک جرگہ منعقد کیا تھا جس میں اکبر بگٹی کی نواب کی حیثیت ختم کردی تھی اور انہیں قومی مجرم قرار دیا گیا تھا۔

یہ جرگہ ایک طرح سے ریاستی اداروں کی طرف سے اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ممکنہ فوجی کاروائی کی تمہید تھی اور ایک موزوں فضا بنانے کی کوشش تھی۔

 کوہلو میں ہفتہ کے دن کی جانے والی کاروائی کی ابتدائی اطلاعات سے تو یوں لگتا ہے کہ یہ اکبر بگٹی کا زبردست حفاظتی انتظامات پر مشتمل پناہ گاہ تھی جہاں ان کے دونوں پوتے اور ان کے قریبی ساتھی بھی موجود تھے۔
ہفتہ کے دن جس فوجی کاروائی میں نواب اکبر بگٹی ہلاک ہوئے ہیں اس کے بارے میں فوج کے ترجمان ادارہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ تئیس اگست کو تارتانی (کوہلو) کے علاقہ میں کاروائی اس وقت شرو ع کی گئی جب وہاں دوران پرواز فوج کے دو ہیلی کاپٹروں پر فراریوں (بلوچ عسکریت پسندوں) نے فائرنگ کی اور ایک ہیلی کاپٹر کو نقصان پہنچایا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں فوج کے سرچ آپریشن کے دوران فوجی جوانوں پر مشین گنوں، راکٹوں اورمارٹر سے فائرنگ کی گئی جس سے فوجی اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہےکہ تارتانی میں ایک غار میں موجود لوگوں کی فوج سے بھاری فائرنگ کے تبادلہ میں اس غار کی چھت بیٹھ گئی جس کےنیچے آکر اس میں موجود تمام افراد ہلاک ہوگئے۔ ان میں اکبر بگٹی اور ان کے ساتھی بھی شامل تھے۔

تاہم وفاقی وزیر مملکت طارق عظیم کا کہنا ہے کہ نواب اکبر بگٹی جس جگہ موجود تھے اس کے ارد گرد بارودی سرنگیں بچھی ہوئی تھیں جن کے پھٹنے سے دھماکے ہوئے اور ہلاکتیں ہوئیں۔

ابتائی طور پر اس فوجی کاروائی میں چار فوجی جوانوں اور افسروں کی ہلاکت کی تصدیق کی جاچکی ہے۔ تاہم میڈیا میں بیس سے زیادہ فوجی اہلکاروں اور اکبر بگٹی کے تیس سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات آرہی ہیں۔

کوہلو میں ہفتہ کے دن کی جانے والی کاروائی کی ابتدائی اطلاعات سے تو یوں لگتا ہے کہ یہ اکبر بگٹی کا زبردست حفاظتی انتظامات پر مشتمل پناہ گاہ تھی جہاں ان کے دونوں پوتے اور ان کے قریبی ساتھی بھی موجود تھے۔

 جس طرح اب تک اسلام آباد کے ریاستی اداروں نے بلوچستان میں شدت پسند قوم پرست تحریک کے خلاف کاروائیاں کی ہیں وہ بنگلہ دیش میں کی گئی فوجی کاروائی سے خاصی مختلف ہے۔
ان کی تنظیم کے تقریبا تمام سرکردہ افراد کا اس جگہ پر موجود ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس کے محفوظ ہونے کے بارے میں پر اعتماد ہوں گے۔ بلوچ قوم پرست عموما کوہلو اور اس کےپہاڑی علاقوں کے فوج کے لیے دشوار گزار اور دور دراز ہونے پر فخر کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

ایسی دور دراز جگہ پر فوجی ہیلی کاپٹر اور فوجی کمانڈوز کی کاروائی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کاروائی کرنے والوں کو اس جگہ کی اصل جغرافیائی محل وقوع اور اس کے حفاظتی اقدامات کا بھی خاصا ٹھیک اندازہ تھا۔ عسکریت پسندوں کے کچھار میں داخل ہونے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ اور منصوبہ بندی کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔

بلوچستان میں فوجی کاروائی شروع ہوجانے کے بعد پاکستان میں حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں اکثر یہ تبصرہ کرتی آئی ہیں کہ ان حالات سے مشرقی پاکستان کے حالات کی بو آتی ہے جو انیس سو اکہتر میں ملک سے الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔

تاہم جس طرح اب تک اسلام آباد کے ریاستی اداروں نے بلوچستان میں شدت پسند قوم پرست تحریک کے خلاف کاروائیاں کی ہیں وہ بنگلہ دیش میں کی گئی فوجی کاروائی سے خاصی مختلف ہے۔

بنگلہ دیش میں پاکستان فوج نے عسکریت پسند بنگالی قوم پرستوں کے خلاف تو کاروائی کی لیکن بنگال قوم پرست سیاسی قیادت کو ہاتھ نہیں لگایا۔ بنگالی رہنما مجیب الرحمن اگرتلہ سازش کیس میں جیل میں تھے لیکن جنرل یحییٰ خان نے انہیں قید سے رہا کردیا تھا۔

بلوچستان میں ایسا نہیں ہورہا۔ یہاں ریاستی اداروں نے عسکریت پسندوں سے صلح کی کوشش کی ہے۔ آئے دن ایسے مقامی بلوچ سرداروں کی خبریں آتی ہیں جنہوں نے عسکریت پسندوں کا ساتھ چھوڑ کر ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

دوسری طرف، مشتبہ عسکریت پسندوں سے کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔ انہیں عدالت جانے کی مہلت بھی نہیں دی جاتی۔ گزشتہ دو برسوں میں درجنوں بلوچ قوم پرست لاپتہ ہوچکے ہیں۔

اکبر بگٹی پر پہلے میزائیل کے ناکام حملہ اور اب ان کی ہلاکت سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ریاستی ادارے عسکری تحریک کا سرچشمہ سمجھے جانے والے بلوچ سیاسی قیادت کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔

گویا قوم پرست اور مرکز گریز تحریکوں کے مسلح کارکن ہی نہیں بلکہ اس تحریک کی مرکزی قیادت کا خاتمہ بھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اکبر بگٹی اس نئی پالسی کا پہلا نشانہ کہے جاسکتے ہیں۔

بلوچستان:بلوچستان آپریشن
بلوچستان: ’مبینہ‘ آپریشن کے دو ماہ پورے
اکبر بگٹی ’بگٹی کو بھاگنا ہوگا‘
اب تو اکبر بگٹی کو بھاگنا ہوگا: ڈی سی او
 بگٹی ہاؤسڈیرہ بگٹی سفرنامہ
لاسی کے گھر کے نزدیک دھماکہ
بگٹیبدلتے رشتے
کل کے دشمن آج کےدوست ۔۔۔۔
ڈیرہ بگٹی ماضی، حال، مستقبل
برہمداغ اور آغا شاہد کو کون کون سی وزارتیں
اکبر بگٹی’مسئلہ حق کا ہے‘
’ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں‘
بگٹی پاکستانی اخبارات
’اکبر بگٹی کا پتہ سیٹلائٹ فون سے چلا ‘
اسی بارے میں
بارودی سرنگ سے ایک ہلاک
21 May, 2006 | پاکستان
بگٹی اور مینگل پر پابندی
29 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد